Category: بزنس
Published on 28 November 2014

پاکستان اسٹیل بیل آؤٹ پیکیج کے اہداف میں ناکام، یومیہ 8 کروڑ روپے کا نقصان

کراچی: پاکستان اسٹیل کی 4 ماہ کے دوران مجموعی خام اسٹیل کی پیداوار 39 ہزار 712 ٹن رہی، اس دوران اوسطاً 10.7 فیصد پیداواری استعداد استعمال کی گئی۔

’’ایکسپریس‘‘ کو ملنے والی دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ 4 ماہ کے دوران 18.5 ارب روپے کے بیل آئوٹ پیکیج کے لیے منظور شدہ بزنس پلان کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، بزنس پلان کے مطابق جولائی کے لیے  پیداواری استعداد استعمال کرنے کا  ہدف 20 فیصد، اگست کے لیے 30 فیصد، ستمبر کے لیے 40 فیصد، اکتوبر کے لیے 50 فیصد، نومبر کے لیے 60 فیصد اور دسمبر کے لیے 70 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

پاکستان اسٹیل کے ریکارڈ کے مطابق  جولائی کے مہینے میں پیداوار 8 فیصد، اگست میں 11.8 فیصد، ستمبر میں 21.5 فیصد اور اکتوبر میں 1.9 فیصد رہی، 4 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 39 ہزار 712 ٹن خام اسٹیل تیار کیا گیا، کوک کی پیداوار 70 ہزار 692 ٹن رہی، کوک بریز کی پیداوار741 ٹن رہی، اس طرح کوک کی مجموعی پیداوار71 ہزار 433 ٹن رہی، سنٹر کی پیداوار 73 ہزار 73 ٹن، ہاٹ میٹل کی پیداوار 53 ہزار 285 ٹن، سولڈ پگز کی پیداوار 3648 ٹن رہی،  جولائی کے مہینے میں 7474 ٹن خام اسٹیل تیار کیا گیا جبکہ اگست میں پیداوار 10 ہزار 999 ٹن، ستمبر میں 19 ہزار 429 ٹن اور اکتوبر میں 1810 ٹن رہی، 4 ماہ کے دوران سلیبز کی پیداوار 38 ہزار 487 ٹن اور کاسٹ بلٹس کی پیداوار 1225 ٹن رہی۔

پاکستان اسٹیل میں رولڈ بلٹس کی پیداوار گزشتہ کئی سال سے بند ہے جو گزشتہ 4 ماہ میں بھی بحال نہ ہوسکی، ہاٹ رولڈ پروڈکٹس کی پیداوار 35 ہزار 352 ٹن، کولڈ رولڈ پراڈکٹس کی پیداوار صرف اگست میں حاصل کی گئی جو 1427 ٹن رہی جبکہ گیلونائزڈ پراڈکٹس کی پیداوار بدستور بند رہی، پاکستان اسٹیل کی مجموعی خام اسٹیل کی پیداواری استعداد 1.1 ملین ٹن ہے۔

پاکستان اسٹیل کے ایک پیداواری یونٹ کی پروڈکشن دوسرے کارخانے کے لیے خام مال کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے ایک شعبے کی کم پیداوار دوسرے شعبے کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے، پاکستان اسٹیل میں پیداواری استعداد محدود ہونے کے باوجود آپریٹنگ اخراجات اپنی جگہ برقرار ہیں، اس طرح پیداوار اور فروخت کے مقابلے میں اخراجات کئی گنا زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اسٹیل کو یومیہ بنیادوں پر 7 سے 8 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔


Category: بزنس
Published on 02 September 2014

مہنگائی کی شرح 14 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی

کراچی: ملک میں گزشتہ ماہ صارف قیمتوں کے اشاریے کی بنیاد پر افراط زر کی شرح میں 6.99 فیصد کا سال بہ سال اضافہ ہوا جو گزشتہ 14 ماہ کی کم ترین سطح ہے جبکہ جولائی 2014 میں مہنگائی کی شرح میں 7.88 اور اگست 2013 میں 8.55 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

پاکستان بیوروشماریات (پی بی ایس) سے جاری ماہانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ اشیا کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر 0.3 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ جولائی میں قیمتیں 1.7 اور اگست 2013 میں 1.2 فیصد بڑھی تھیں، اس کے علاوہ اگست 2014 میں نان فوڈ نان انرجی(کور انفلیشن) کی شرح جولائی 2014 کی 8.3 فیصد کے مقابلے میں 7.9 فیصد رہی جبکہ اگست 2013 میں کور انفلیشن کی شرح 8.5 فیصد رہی تھی، گزشتہ ماہ اشیائے خوراک کی قیمتوں میں 5.6 فیصد اور دیگر اشیا کے نرخوں میں 8.1 فیصد کا سال بہ سال اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ بنیادوں پر خوراک0.6 اور نان فوڈ اشیا 0.2 فیصد مہنگی ہوئیں، صارف قیمتوں کے اشاریے میں محدود اضافے کی وجہ جولائی کے مقابلے میں تازہ پھلوں سمیت جلد خراب ہوجانے والی اشیا کی قیمتوں میں 1.79 فیصد کمی ہے۔