Category: بلاگ
Published on 19 November 2014

(کھیل کود) - کرکٹ کو بچالو

بچپن میں ایک مقولا سنا کرتے تھے کہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس ہوتی ہے۔ پھر سکول جانا شروع کیا تو کتابوں میں یہ پڑھا کہ ایسے پرانے دور میں ہوتا تھا مگرآجکل مہذب دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ مگر  ہماری ستم ظریفی یہ کہ ہم نے مان لیا کہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا مقولا غلط ہے لیکن آجکل بگ تھری پاکستانی کرکٹ کے ساتھ جو کچھ کررہا ہے اس سے یہی سمجھ آتا ہے کہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس ہی ہوتی ہے۔

جس کے پاس بگ تھری کی کرسی ہے وہی فیصلہ کرے گا کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا ۔ ابھی کا حال یہ ہے کہ محمد حفیظ جیسے ہی اپنی فارم میں واپس آنے لگے  ویسے ہی آئی سی سی کو انکا ’’باولنگ ایکشن ‘‘ مشکوک نظر آنے لگ گیا۔ میں تو یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ آخر بین الااقوامی کرکٹ کو کنٹرول کرنے والے آخر چاہتے کیا ہیں ؟ ایسی حرکتوں سے کھلاڑیوں کو کیا پیغام دیا جارہا ہے ؟ کیا جو ممالک بگ تھری میں نہیں ہیں انکی یہ سزا ہے کہ اگر کرکٹ میں رہنا ہے تو ذلت آمیز شکست کھاتے رہواور  اگر اچھی کارکردگی دکھائی تو کوئی نہ کوئی الزام لگا کر آپکو باہر کردیا جائے گا ؟ایسا کرنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ ایسی حرکتوں سے وہ آج تو شاید کچھ فوائد حاصل کرلیں لیکن اِس طرح کرکٹ کھیل تباہی کی جانب تیزی سے گامزن ہورہا ہے۔

خدشہ ہے کہ  اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ہو سکتا ہے چھوٹے ممالک کرکٹ کا بائیکا ٹ کرنا شروع کردیں کیونکہ کسی بھی ملک کو اپنی ٹیم تیار کرنے کے لیے صلاحیتیوں اور پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اور جب سارے مرحلہ پار ہونے کے بعد اِس قسم کی حرکتیں ہونے لگیں تو بہرحال غصہ تو بنتا ہے۔ ہر ملک چاہتا ہے اسکی ٹیم جیتے لیکن جب سازشیں عروج پر ہوں تو فتح کے خواب دیکھنا اچنبے سے کم نہیں ہے ۔

سازشیں کے درمیان خدشہ تو یہ بھی ہے کہ مصباح اور یونس خان کی جانب سے اعلی کارکردگی کے بعد اُن کا بیٹنگ ایکشن بھی مشکوک قرار نہ دے دیا جائے کہ یہ دونوں کھلاڑی بیٹ صحیح نہیں پکڑتے۔

ایک طرف یہ معاملہ ہے تو دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ شکوک و شبہات کی تمام تر گنجائش کے باوجود اُنگلی بھی نہیں اُٹھتی ۔۔۔ میرا اشارہ گزشتہ روز بھارتی بلے باز روہت شرما کی جانب سے بنایا جانے والے ریکارڈ کی جانب ہے جو اُنہوں نے سری لنکا کے خلاف ایک روزہ میچ میں 264 رنز بناکر قائم کیا۔ کیا شاندار کارکردگی دکھیائی اِس نوجوان کھلاڑی نے کہ کرکٹ کو پسند کرنے والے ہر فرد کو خوش کردیا۔ یقینی طور پر یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جو مجھے ذاتی طور پر اگلی دھائی تک ٹوٹتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔

اگرچہ میں ذاتی طور پر ایسی کوئی خواہش نہیں رکھتا کہ اچھا کھیلنے والے کو محض اِس لیے پریشان کریں کہ وہ مخالف گروہ کا حصہ ہے مگر جناب جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے کیا اُس بنیاد پر اب آئی سی سی کو روہت شرما کا ڈوپ ٹیسٹ نہیں لینا چاہیے یا کیا پھر بلے کا معائنہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ پڑھنے والے میرے مطالبات کو اجیب و غریب مطالبے کی فہرست میں ڈالنے کا سوچ رہے ہیں تو جناب میں ابھی اپنی بات واضح کیے دیتا ہوں۔ ایسے واقعات کرکٹ کی تاریخ میں متعدد بار ہوئے ہیں کہ کرکٹر اپنی قوت کو بڑھانے کے لیے ڈرگز کا استعمال کرتے رہے ہیں جن میں بھارتی کھلاڑی راہول شرما، سری لنکن کھلاڑی اپل تھرنگا اور پاکستانی اسپیڈ اسٹار شعیب اختر اور محمد آصف شامل ہیں۔

اور غالباً یہ 90 کی دہائی کی بات ہے کی بات ہے جب سری لنکا کے مایہ ناز کرکٹر جے سوریا اپنے بہترین کھیل پیش کررہے تھے اور اُن کے بلے سے لگنے والی بال میدان سے باہر جایا کرتی تھی تو دنیا ئے کرکٹ کے بڑے بڑےکردار چونک گئے تھے اور فوری طور پر اُس کارکردگی پر سوالیہ نشان اُٹھ گیا اوریہ افواہ بھی اُڑائی گئی تھی کہ جے سوریا کے بلے سے سونے کے بسکٹ ملے ہیں۔

لیکن آپ مجھے سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن شاید حقیقت یہی ہے کہ اب اگر کھیل میں رسوائی سے بچنا ہے تو اپنی طاقت کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ جاتے جاتے اپنی بات کے دفاع میں ایک مثال بھی دیدیتا کہ 2007 ورلڈ کپ کے فائنل میں ایڈم گلکرسٹ نے شاندار سینچری بناکر اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور اُس اعلی کارکردگی کے بعد یہ خبر منظر عام پر آئی کہ اُس کارکردگی کی وجہ ایک ٹینس بال تھی جو گلکرسٹ نے اپنے گلوز میں دبائی ہوئی تھی۔ اِس لاجک کو تو لوگ بھی نہیں سمجھ سکے لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اگر اِس طرح کوئی حرکت تین بڑے ممالک کے علاوہ کسی ملک کا کھلاڑی کرتا تو وہ پابندی سے بچ سکتا تھا؟ نہیں ایسا ہر گز ممکن نہیں مگر آپ کو جان کے حیرانگی ہوگی کہ گلکرسٹ کو کچھ نہیں کہا گیا۔

کرکٹ سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کی جانب سے اب بھی ایک ہی خواہش ہے کہ کھیل کو کھیل ہی رہنا دیا جائے سیاست کا اکھاڑا نہ بنایا جائے اِسی میں کھیل کی بھلائی ہے وگرنہ لوگ ایک اچھے کھیل سے محروم ہوجائیں گے۔


Category: بلاگ
Published on 19 November 2014

(پاکستان ایک نظر میں) - ’’حکومت کیا کیا کرے؟‘‘

ایک دفعہ ایک غریب آدمی کسی محلّے میں لوگوں سے کھانے کو کچھ مانگتا پھر رہا تھا کہ دو دِنوں سے بھوکا ہوں خدارا مجھ پر رحم کھاؤ اور اللہ واسطے کچھ کھانے کو دے دو مگر کسی کے کان پر جُوں تک نہ رینگی اور کسی نے اُس پر ترس نہ کھایا اور وہ بیچارہ غریب آدمی بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اُس محلّے کی ایک دُکان کے آگے مَر گیا، اب جب صبح کو لوگ باہر نکلے اور اُس شخص کی لاش دیکھی تو محلّے میں چندہ جمع کیاگیا اور اُس شخص کے کفن دفن کا انتظام کر کے قرآن خوانی کروا کر تبرّک تقسیم کر دیا گیا،یہی چندہ اُس بد نصیب کی زندگی میں جمع کیا جاتا اوریہی تبرّک اُسے دے دیا جاتا تو وہ بے چارہ زندہ ہوتابھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہ مرتا۔

ہمارے معاشرے میں ماں باپ کے گزرنے کے بعد اولاد کو اُن کی قدر آتی ہے،پیسہ اُڑانے کے بعد اُس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے،جب پانی سَر سے گزر جائے تب ہوش آتا ہے،کوئی دانشور فوت ہو جائے تو اُس کے نام کی سڑک بنا دی جاتی ہے، تمغۂ امتیاز سے نواز دیا جاتا ہے ،ہر سال یومِ وفات منا کر،تقریبات میں لفّاظی کر کے ایک ہیڈ لائن بنا دی جاتی ہے اور کہانی ختم، ’’نشستند گفتند برخاستند‘‘ ، کیونکہ زندہ انسان کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی،جو مقام اُسے اُس کی زندگی میں مِلنا چاہیئے وہ اُسے مرنے کے بعد دیا جاتا ہے گویا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے کام کو سراہا جائے تو اُس کیلئے ’مرنا‘ پہلی شرط ہے ،یہ مثال ہمارے نظام اور حکومتوں پر صادق آتی ہے۔

ارفع کریم رندھاوا، پاکستان کی ایک بیٹی جِس نے نَو سال کی عُمر میں دُنیا کی کم عُمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈپر و فیشنل ہونے کا اعزاز حاصل کر کے قوم کا سَر فخر سے بُلند کیا ،اُس نے مایوسی کی فضاء میں ایک اُمید کی کِرن کا کام دیا ،ہر کِسی نے آگے بڑھ کر اُس بچی کو سراہا مگر حکومت نے اُسے صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی دے کر ’فارغ‘کر دیا اورایسا فارغ کیا کہ جب ارفع اپنی بیماری کی وجہ سے اِس دنیا سے رخصت ہو گئیں تب حکومتی کارندوں کو ہوش آیا اور اُنہوں نے فوراً لاہور میں موجود ایک ٹیکنالوجی پارک کو ارفع کے نام سے منسوب کر کے ارفع سافٹ ویئرٹیکنالوجی پارک کا نام دے دیا اور اپنا ’فرض‘پورا کر دیاکیونکہ وہ بچی حکمرانوں کی اپنی بچی نہیں تھی ورنہ ہنگامی بنیادوں پر اُس کا علاج امریکہ، برطانیہ یا یورپ میں ہوتا۔

دراصل ہمارے حکمران بھی اوپر بیان کی گئی مثال میں موجود محلّے والوں کی طرح عقلمند ہیں کیونکہ اگر وہ اُسے کھانا دے دیتے تو بعد میں اُنہیں تبرّک کیسے مِلتا بالکل اِسی طرح اگر ارفع صحت یاب ہو جاتی تو ارفع کے نام سے پارک منسوب کر نے پر جو لاگت آئی ہوگی اُس میں سے ’’تبرّک‘‘کیسے وصول کیا جاتا؟

ہماری حکومتوں کو کام بھی تو بہت ہیں نا، اپنی ذاتی محنت اور بغیر کسی حکومتی سپورٹ کے ملک کا نام روشن کرنے والے ارفع کریم اورعلی معین نوازش جیسے کئی سپوتوں کی کیا اہمیت ہے؟اصل کام تو حکومتیں کر رہی ہیں، آخر حکومت کیا کیا کرے؟حکومتی عہدیداران ملک و قوم کی’ ترقی‘ کیلئے بیرونی دورے کر رہے ہیں، ملک سے باہر بینک بیلنس بنا رہے ہیں، فلیٹس خرید رہے ہیں، پلازے بنا رہے ہیں، بی ایم ڈبلیوز خرید رہے ہیں،جمہوریت بچا رہے ہیں،عدل و انصاف گھر گھر جا کر فراہم کر رہے ہیں، پاکستان میں آج کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا، کوئی سڑک پر نہیں سوتا، کوئی بیروز گار نہیں، ملکی قرضو ں کا خاتمہ ہو چکا ہے، شہریوں کی عزت، جان ومال آج محفوظ ہے، اقلیتوں کو وزیرِ اعظم سے زیادہ سیکیورٹی دی جا رہی ہے،سرکاری ہسپتالوں میں کوئی بچہ نہیں مر رہا،ملک میں شرح خواندگی صد فی صد ہو چکی ہے اور آپ ارفع کریم کا رونا رو رہے ہیں؟ آپ انور جہانگیر کی بات کر رہے ہیں جس نے عالمی اقتصادی فورم کے سب سے کم عمر مندوب ہونے کا اعزازحاصل کیا، آپ رائے حارث منظور کی بات کر رہے ہیں جس نے صرف نَو سال کی عمر میں او لیول کے امتحان میں 90ممالک کے 20لاکھ بچوں میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا، آپ ہارون طارق کی بات کر رہے ہیں جس نے کیمبرج یونیورسٹی کے او/اے لیول امتحانات میں سب سے زیادہ Aگریڈزلینے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا، آپ ماہِ نور کی بات کر رہے ہیں  جس نے چند دنوں پہلے آسٹریلیا میں منعقدہ ریاضی کے عالمی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا۔

ہمارے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں اور ایسے بچے جو کہ پاکستان کا اصل مستقبل ہیں ان کی تعلیم و ترقی کا ایک باقاعدہ نظام متعارف کروانا چاہیئے تاکہ ان کی صلاحیتیں مزید پروان چڑھ سکیں اور پاکستان کا اقبال اس دنیا میں بلند ہو ،اللہ پاکستان کے اِن سپوتوں کو سلامت رکھے!


Category: بلاگ
Published on 19 November 2014

(میڈیا واچ ڈاگ) – لڑکے روتے نہیں!

فیمینزم بھی بڑا عجیب نظریہ ہے ۔ اگر آپ خواتین کے حقوق اور ان کی عزت و وقار کی سلامتی کے لئے آواز اٹھاتے ہیں تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے تمام مردوں کو ایک ہی ترازو میں تولنا شروع کریں۔ دنیا میں فساد کے لئے صرف مرد ذمہ دار ہے لہٰذا مردوں کو ہر غلط بات کا ذمہ دو اور انہیں زمانے سے نکال باہر کردو ، لیکن کیا واقعی یہ بات سچ ہے؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے پہلے ہمیں اپنے معاشرے کی عادات و رسومات پرغورکرنا ہوگا جہاں ہم ہر روز مرد کو یہ سکھاتے ہیں کہ تم بہتر ہو ، تم کچھ بھی کرسکتے ہو، تمہیں لڑکیوں کی طرح رونا نہیں چاہئے، مرد بنو مرد اور اگر اسی طرح رونا ہے تو گھر جاکر بیٹھ جاؤ چوڑیاں پہن لو بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس سے تو بہتر تھا کہ خدا مجھے بیٹی دے دیتا۔ اس قسم کی نجانے کتنی ہی باتیں جو بچپن سے ہی لڑکوں کو سکھائی جاتی ہیں اور معاشرے کی اسی تربیت کو غلط رو میں جانے سے روکنے کے لئے فیمینسٹ جنم لیتے ہیں۔

دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان اور بھارت میں فیمینزم کی تحریک کو زیادہ ہوا دی جاتی ہے شاید اس کی وجہ ان ممالک میں خواتین کے ساتھ آئے روز بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کے واقعات ہیں۔ یہ دونوں ممالک الگ ہوکر بھی بہت سی باتوں میں آج بھی ایک دوسرے سے خاصی مماثلت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ گذشتہ دنوں بھارتی میڈیا پر ایک پبلک سروس میسج میں یہ دکھایا گیا کہ کیسے ہم لڑکے کو پیدا ہوتے ہی سکھاتے ہیں کہ وہ لڑکا ہے اور اسے رونا نہیں چاہیے، کیوں کہ لڑکے تو روتے نہیں ہیں، یہاں تک کہ ایک دن جوان ہو کر وہ لڑکا لڑکی پر ہاتھ اٹھاتا ہے، بری طرح اسے اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے اور لڑکی روتی رہ جاتی ہے۔ اس مختصر کہانی کے اختتام پر یہ بتایا جاتا ہےکاش ہم یہ نا سکھاتے کہ لڑکے روتے نہیں ہیں بلکہ یہ سکھاتے کہ لڑکے رلاتے نہیں ہیں۔


 بات تو سچ ہے! اور ہمیں سوچنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وہ ہم ہی ہیں جو بچوں کے پیدا ہونے سے پہلے ہی تفریق شروع کر دیتے ہیں لڑکا ہوا تو بلو کلر اور اگر لڑکی ہوئی تو پنک کلر۔ بچے تو نہیں کہتے ہمیں یہ رنگ پہنانا ہے ۔ یہ تو ہم ہیں جو سکھاتے ہیں کہ تم تو بے غیرت ہو گئے ہو ، گولی مار دو اسے، بیوی کی کیا حیثیت ہے یہ تو دوسری بھی مل جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔

نیز یہ کہ ہر چیز میں فرق ہم خود کرتے ہیں ۔ سچ ہے کہ مرد اور عورت ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ہیں جو کبھی ایک دوسرے کے برابر نہیں آسکتے ، جہاں کبھی ایک تو کبھی دوسرا برتری لے جاتا ہے لیکن ہمیں اس بات کو سمجھ لیا جائے کہ عورت بھی انسان ہے اس کے سینے میں بھی اﷲ نے دل بنایا ہے ، یہ کوئی پنچنگ بیگ نہیں ہے، اسے بھی برابر کی تکلیف ہوتی ہے یا شاید اس سے زیادہ، تو ہمارا معاشرہ بہت سی برائیوں سے بچ جائے گا۔ پھر ہمیں معاشرے میں کسی فیمینسٹ کی ضرورت پڑے گی، کیونکہ جب ظلم کم ہو گا تو اس کے خلاف آواز اٹھانے والے بھی کم ہوں گے۔

بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی کہ ہم لڑکوں کو کیا سکھاتے ہیں بلکہ سوال تو یہ بھی ہے کہ ہم لڑکیوں کو کیا سکھاتے ہیں؟ جہاں لڑکوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مرد ہے اور اس لئے وہ ہر لحاظ سے برتر ہے وہیں لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اچھی بیٹی ہونے کے ناطے وہ باپ کے آگے اپنے آواز نہیں نکالیں گی، ماں باپ کی ہر بات کو سر آنکھوں پر رکھیں گی، بھائی کی بات مانیں گی، ساس سسر کی عزت کریں گی، ان کی بات کو اپنے ماں باپ کی بات مان کر اس پر عمل کریں گی، اور شوہر تو اس کا مجازی خدا ہے اس کی کسی بات سے اتفاق نہ کرنا تو گناہ ہے۔ ان ہی باتوں کہ وجہ سے آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے گھرانے موجود ہیں جہاں جہیز نہ ملنے پر لڑکی کو ذلیل کیا جاتا ہے، ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، آگ لگادی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

زیادتی ہر چیز کی بری ہے اور اسی زیادتی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ مانا کہ بہت سا وقت گزر چکا ہے لیکن اگر آج بھی ہم اپنی نئی نسل کی صحیح تربیت کرتے ہوئے انہیں ایک نئے  زاویئے سے دیکھنا اور سوچنا سیکھائیں تو یقینناَ اس معاشرے سے ظلم و ستم کے خاتمے کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ہمیں صرف اس پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔


Category: بلاگ
Published on 19 November 2014

(پاکستان ایک نظر میں) - مظلوم ڈاکو!

پاکستان کرکٹ کا عالمی چیمپئن ھی بنا اور ہاکی اور اسکوائش کے میدانوں میں بھی اپنی حاکمیت ایک طویل عرصے تک قائم رکھی اور اتنی طویل مدت تک مسلسل  اِن کھیلوں کے میدان میں حاکمیت بھی ایک ریکارڈ ہے۔

اور اِس طرح کے بیشتر ریکارڈ ہیں جو پاکستان نے اپنے نام کیے جو ملک و قوم کے لیے فخر کا سبب بنے۔ مگر حالات اور واقعات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بننےوالے ریکارڈ کی قسمیں بھی تبدیل ہورہی ہیں۔ کبھی یہاں سروں سے اخروٹ توڑنے کا ریکارڈ بنایا جاتاہے تو کابھی مخصوص حالت میں ایک پوزیشن میں کھڑا ہونے کا ریکارڈ بنایاجاتا ہے۔ اور پھر یہاں سب سے طویل مدت تک دھرنے کا بھی ریکارڈ بنا۔

مگر جناب یہ ریکارڈ تو وہ ہیں جن پر حیرانگی اُس حد تک نہیں ہونی چاہیے مگر حیرانگی کی آپ تب ہوگی جب میں آپکو یہ بتاوں گا کہ وطن عزیز میں ایک ایسے احتجاج کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے کہ شاید ہی کبھی دنیا میں ایسا کبھی ہوا ہو۔ اور وہ ریکارڈ قائم کیا گیا ہے ڈاکووں کی جانب سے، جی جی آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا ہے ۔۔۔ اِس بار ریکارڈ کا سہرا جاتا ہے ہمارے ملک کے مایہ ناز ڈاکوؤں کو جنہوں نے پولیس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

ڈاکووں کا کہنا ہے کہ پولیس انہیں ڈاکے مارنے کے لیے اسلحہ بھی فروخت کرتی ہے اور سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔ مگر پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ پولیس اُن سے فی ڈاکو بھتہ وصول کرتی ہے اورجب  آج کل مندے کا دورہے اُس میں بھی اُنہیں کوئی رعایت نہیں دی جارہی ہے۔

کیوں، آپ بھی ہوگئے نہ حیران؟، کیا کہنے ہیں ان ڈاکو حضرات کا جو اپنے حقوق کے لیے احتجاج کررہے ہیں جیسے وہ عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی کام کررہے ہیں مگر ظالم ریاست اُنہیں یہ کام کرنے سے روکے جارہی ہے۔ اِس احتجاج کی اہم بات یہ بھی ہے کہ اسلحہ سے لیس ڈاکو وں نے دوران احتجاج اپنی فلم بنوائی اورپھر اپنا پیغام مختلف نجی چینلز کے ذریعے عوام اور حکمرانوں تک بھی پہنچوایا۔

لیکن جب ایک ذمہ دار پولیس آفیسر سے اس واقعہ کی بابت دریافت کیا تو انکا جواب بھی خوب تھا کہ ان ڈاکوؤں نے سختی کی وجہ سے پولیس کو بدنام کرنے کی سازش کی ہے کیونکہ پولیس ان کے خلاف ایکشن کرنے کی تیاری کر رہی ہے، واہ کیا کہنے ہیں۔مجھے تو حیرت ہو رہی ہے یہ کہ آخر ان بے ضمیر ڈاکوؤں کو یہ زیادتی کے لفظ سے کس نے آشنائی کروائی ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونیوالی زیادتی سے تو خوب واقف ہیں لیکن جو وہ ساری زندگی اس گھناؤنے اور غیر قانونی کام کی وجہ سے شریف اور سادہ لوگوں کو لوٹتے رہے ان لوگوں سے اغوا برائے تاوان کی مد میں لاکھوں روپے بٹورتے رہے اب انصاف لینے کے لئے میڈیا پر آکر پتہ نہیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں اور اگر میڈیا کی رسائی ان لوگوں تک ہے توہمار ے ادارے جن کی ذمہ داری سیکورٹی جیسے معاملے سے ہے وہ کیونکر ان لوگوں سے بے خبر ہیں اور وضاحتی بیان میں یہ کہا جارہا ہے کہ ان ڈاکوؤں کے خلاف ایکشن ہونیوالا تھا اسلیئے یہ سب ڈرامہ کیا جا رہا ہے یعنی ان ڈاکوؤں کی اس جگہ تک بھی رسائی ہے جہاں یہ سیکورٹی پالیسی بنتی ہے کتنے ہی بے بس ہیں ہمارے ادارے ہمیں تو آج پتا چلا ہے ۔

جس طرح حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اُس سے تو ایسا ہی معلوم ہوتا  ہے کہ کچھ عرصےبعد یہ بات عام ہو جائے گی کہ جو زیادہ صفائی سے جیب کاٹے گا اسے چوری کے پیسے بھی ملیں گے اور انعام بھی، اور جہاں تک سزا کا تعلق ہے اسکے لیے یہ لوگ احتجاج کا سہارا بھی لے سکتے ہیں کہ ایک تو اِتنی محنت سے یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں اور پھر پولیس اُنہیں گرفتار کرلیتی ہے۔