Published on 16 September 2017

چینی خاتون کی 12 سینٹی میٹر طویل پلکوں نے عالمی ریکارڈ قائم کردیا

بیجنگ: 

دلچسپ اور عجیب و غریب کے اس گوشے میں چین سے آنے والی حیرت انگیز خبریں شائع ہوتی رہی ہیں اور یہ خبر بھی اب چین سے ہی آئی ہے جہاں ایک خاتون کی پلکیں 5 انچ لمبی ہیں اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق انہیں طویل ترین پلکوں کا اعزاز حاصل ہے۔

 

مرد ہو یا خاتون، پلکوں کی اوسط لمبائی 0.8 سینٹی میٹر سے 1.2 سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے لیکن 49 سالہ یوجیانکشیا کی پلکیں 12.4 سینٹی میٹر طویل ہیں جو قریباً 5 انچ کے برابر ہے۔ 2018 کے لیے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو دنیا بھر سے 500 افراد نے طویل ترین پلکوں والی اپنی تصاویر بھیجیں لیکن ان میں سے کوئی بھی یو کے قریب بھی نہ پہنچا۔

ADVERTISEMENT
 

 

یوجیانکشیا ایک سابق فنڈ ڈائریکٹر ہیں جو شنگھائی میں رہتی ہیں۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے باضابطہ طور پر ان کی پلکوں کی لمبائی 28 جون 2016 کو نوٹ کی گئی  تو وہ 12.4 سینٹی میٹر لمبی تھیں اور وہ ان کے ہونٹوں تک جاپہنچتی ہیں۔ لیکن بار بار دیکھنے کے باوجود بھی یقین نہیں آتا کہ دنیا میں کسی کی پلکیں اتنی طویل بھی ہوسکتی ہیں۔

یو کے مطابق ان کی پلکیں اب بھی بڑھ رہی ہیں اور 2013 میں ریٹائرمنٹ کے بعد اب تک ان کی پلکیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں باغبانی کا بہت شوق ہے اور وہ گلاب کی 1600 سے زائد اقسام اگا چکی ہیں اور انہیں ’پھولوں والی پری‘ بھی کہا جاتا ہے۔


Published on 15 September 2017

جانداروں اور فطرت کے خوفناک روپ

کراچی: 

ہماری دنیا عجائبات سے بھری ہوئی ہے لیکن فطرت کے کارخانے میں جانداروں کے عجیب و غریب روپ اور ان کی عادات دیکھ کر انسان یکلخت حیران اور خوفزدہ رہ جاتا ہے۔

 

ذیل میں دنیا بھر میں لی گئیں ایسی تصاویر پیش کی جارہی ہیں جس میں فطرت کے عجیب پہلو اور عجیب و غریب جاندار دیکھے جاسکتے ہیں۔

آئیے فطرت کے اس تاریک اور خوفناک پہلو کو تصویروں کے ذریعے دیکھتےہیں۔ ان تصاویر میں قدرتی آفات اور مقامات کی چند تصاویر بھی شامل ہیں۔

ADVERTISEMENT
 

 

پہلی تصویر میں ایک کھن کھجورا مادہ خود کو خوفناک انداز میں لپیٹ کر اپنے بچوں کی حفاظت کررہی ہے۔

 


Published on 27 August 2017

کراس (+) پر نظریں جمائیے اور بھوت دیکھیے

کراچی: 

نیچے دی گئی ویڈیو کو کلک کر کے چلائیے اور سیاہ درمیانی حصے میں بنے ہوئے سفید کراس (+) پر نظریں جما دیجیے۔ چند سیکنڈ میں آپ کو ارد گرد کی تصویریں عجیب و غریب اور بھوتوں جیسی محسوس ہونے لگیں گی۔

 

لیکن جیسے ہی آپ اس کراس پر سے نظر ہٹا کر تصویروں کو دیکھیں گے تو ان میں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے کر کے آپ نہ صرف خود حیران ہو سکتے ہیں بلکہ اپنے دوستوں کو بھی حیران کر سکتے ہیں۔ اگر آپ سوچ رہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے تو وہ بھی بتائے دیتے ہیں۔

ویسے تو ہماری آنکھ کو ایک ایسے کیمرے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو 190 درجے کے زاویئے تک منظر کا احاطہ کرتا ہے لیکن ہماری آنکھ میں پردہ چشم کا صرف درمیانی حصہ کسی منظر کو دیکھنے کے معاملے میں سب سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

یہ درمیانی حصہ جو آنکھ میں روشنی کے داخل ہونے والے مقام کی بالکل سیدھ میں واقع ہوتا ہے، پردہ چشم (آنکھ کے پردے) کے پورے رقبے کے صرف 10 فیصد پر مشتمل ہوتا ہے۔ بصریات کی زبان میں اسے ’’پیلا نقطہ‘‘ (یلو اسپاٹ) بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے ارد گرد پردہ چشم پر روشنی کو محسوس کرنے اور عکس تشکیل دینے والے خلیوں کی نسبتاً کم تعداد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی چیز پر نظریں جماتے ہیں تو اس سے آنے والی روشنی اسی پیلے نقطے پر مرکوز ہوتی ہے اور یوں ہم اس چیز کو زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم ارد گرد کا منظر خاصا دھندلا رہتا ہے جس کا اکثر ہمیں احساس نہیں ہوتا۔

جب آپ نے اس ویڈیو کے سیاہ حصے میں موجود سفید کراس (+) پر نظریں جمائیں تو اس کے اطراف سیاہی کی وجہ سے یلو اسپاٹ پر عملاً بہت ہی کم روشنی پہنچی جبکہ تصویروں سے آنے والی روشنی یلو اسپاٹ سے باہر واقع (کم حساسیت کے حامل) پردہ چشم کے حصوں تک پہنچ رہی تھی۔

یہی وہ موقع ہے جب عکس بنانے کے معاملے میں ہمارے دماغ کی صلاحیت ہمیں دھوکا دے جاتی ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ یلو اسپاٹ سے آنے والی انتہائی کم روشنی کے باعث دماغ میں عکس سازی والا گوشہ (امیج پروسیسنگ ریجن) اپنے طور پر پورا منظر تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن چونکہ یلو اسپاٹ کے ارد گرد پردہ چشم کا حصہ کم حساس ہوتا ہے اور عکس سے متعلق اس سے دماغ تک پہنچنے والے سگنل بھی خاصے کمزور ہوتے ہیں، اس لیے دماغ خود ہی اس کمی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مگر یہ کوشش پوری طرح سے کامیاب نہیں ہو پاتی جس کے نتیجے میں (کراس پر نظریں مرکوز رکھتے ہوئے) ارد گرد کی تصویریں دھندلی پڑ جاتی ہیں، ان کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں اور وہ انسانوں کے بجائے بھوتوں جیسی شکلیں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ جب ویڈیو میں یہ تصویریں بار بار تبدیل ہوتی ہیں تو دماغ اس بدلتے منظر میں اور زیادہ الجھ کر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس ویڈیو میں جتنی دیر تک کراس (+) پر نظریں مرکوز رکھیں گے، اس کے اطراف موجود تصویریں آپ کو اتنی ہی زیادہ مسخ شدہ، بد رنگی اور بھیانک محسوس ہوں گی۔

مگر جیسے ہی آپ کسی تصویر کی طرف دیکھیں تو پتا چلے گا کہ وہ تو بالکل صحیح حالت میں ہے؛ اصل قصور تو اُس کارستانی کا ہے جو آپ کی آنکھوں اور دماغ نے آپس میں مل کر انجام دی تھی۔

کیوں! کیسا لگا نظروں کا یہ دھوکا؟


Published on 20 July 2017

پالتو طوطے نے مالکن کو مجرم قرار دلوا دیا

امریکی ریاست مشی گن میں بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل کا واقعہ مقتول کے پالتو طوطے نے دیکھا جس پر عدالت نے خاتون کو مجرم قرار دے دیا۔

 

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست مشی گن میں 49 سالہ خاتون نے  شوہر کو 5 گولیاں مار کر ہلاک کیا تو مقتول کا پالتو طوطا یہ سارہ منظر دیکھ رہا تھا۔

مارٹن کی سابقہ بیوی نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا کہ طوطا قتل کے واقعے کی رات ہونے والی بات چیت کو دہراتا ہے اور میرے خیال میں اس دن آخری بات یہی ہوئی تھی، طوطا مقتول کی آواز میں یہ الفاظ  دہراتا رہا کہ گولی مت چلاؤ۔ دوسری جانب مارٹن کے والدین بھی اس کی سابقہ بیوی کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ممکن ہے طوطے نے دونوں میاں بیوی کے جھگڑے کو سنا ہو۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

بعد ازاں پراسیکیوٹر نے طوطے کو قتل کے مقدمے میں بطور ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا لیکن چند وجوہات کی بنا پر طوطے کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

امریکی عدالت نے طوطے اور مقتول کی سابق اہلیہ کے بیان پر خاتون گلینہ ڈورم کو اپنے شوہر مارٹن کو قتل کا مجرم قرار دیا اور انہیں اگلے ماہ سزا سنائی جائے گی۔ اس سے قبل گلینہ ڈورم خودکشی کی ناکام کوشش بھی کرچکی ہیں جس سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی۔

واضح رہے کہ گلینہ ڈورم نے اپنے شوہر مارٹن کو  2015 میں پالتو طوطے کے سامنے گولی ماری تھی جس کے بعد سے وہ بار بار یہ الفاظ دہراتا تھا کہ ’’ڈونٹ شوٹ‘‘ یعنی گولی مت چلاؤ۔