5سال گزرنے کے باوجود اسپاٹ فکسنگ کا زخم نہ بھر سکا

لاہور:  5سال گزرنے کے باوجود اسپاٹ فکسنگ کا زخم نہ بھر سکا،لارڈز کے میدان پر دانستہ نوبال پاکستان کرکٹ کیلیے کئی سوال چھوڑ گئی، ملوث کرکٹرز کپتان سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر آئی سی سی نے پابندی لگائی، تینوں نے جیل کی ہوا بھی کھائی، ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کا خواب دیکھنے والے سزا یافتہ کھلاڑیوں کو تاحال سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ نے خصوصی رپورٹ میں اس واقعے کی یادیں تازہ کیں، جس کے مطابق پاکستان کے 3کرکٹرز کیخلاف ناقابل تردید ثبوت میسر آنے کے بعد مقامی میٹرو پولیس نے ٹیم ہوٹل پر چھاپہ مارا، اس وقت دیگر کھلاڑی حیران و پریشان جبکہ سلمان بٹ خاص طور پر حواس باختہ تھے۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی دوست کے ساتھ فلم دیکھنے کیلیے گاڑی پارک کرچکے تھے کہ ان کے پاس فون آیا کہ’’ایتھے چھاپا پے گیا اے، تلاشیاں بھی ہورہی ہیں‘‘ وہ میٹرو ٹرین پکڑ کر اور باقی راستہ بھاگتے ہوئے طے کر کے20منٹ میں ٹیم ہوٹل پہنچے،اس وقت تک پولیس اہلکار اپنا بیشتر کام مکمل کرچکے تھے،ایک عینی شاہد کے مطابق سلمان بٹ زیادہ ہی گھبراہٹ کا شکار تاہم محمد آصف اور محمد عامر قدرے مطمئن نظر آرہے تھے۔

قومی ٹیم کے کھلاڑی نے بتایاکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سلمان بٹ ابھی چھت سے کود جائیں گے، اسی خدشہ کو بھانپتے ہوئے ایک اہلکار نے کھڑکی فوری طور پر لاک کردی۔تفضل رضوی کو بتایا گیا کہ ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ کی رپورٹ میں ثبوت ملنے پر کھلاڑیوں کے کمروں کی تلاشی لی جارہی ہے۔

ملوث کھلاڑیوں سے سوال بھی کیا گیا کہ بکی مظہر مجید کو کیسے معلوم ہوگیا کہ نو بال ضرور کیے جائیں گے،سلمان بٹ کے کمرے سے 50 پاؤنڈز کے وہی 50نوٹ بھی ملے جو انڈر کور صحافی مظہر محمود نے مظہر مجید کو دیے تھے،محمد عامر کے کمرے سے 50پاؤنڈ کے 30نوٹ برآمد کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس انھیں گرفتار بھی کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت انگلینڈ میں ہی موجود چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے اسسٹنٹ کمشنر کو قائل کیا کہ قانون کے تحت تینوں کرکٹرز کی ضمانت تو اسی رات ہوسکتی ہے تاہم میڈیا کو کیچڑ اچھالنے کا بہت زیادہ موقع ملے گا،ان کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے لازمی قرار دیا گیا کہ جب بھی ضرورت ہو ملوث کرکٹرز کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔

اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد دنیائے کرکٹ میں طوفان برپا ہوگیا،اگلے روز ٹیم کی بس کا غدار اور ضمیر فروش سمیت کئی نعروں سے استقبال کیا گیا،میچ میں کھلاڑی بغیر کسی تیاری کے شریک ہوئے، ایک کھلاڑی کا کہنا ہے کہ ٹیم کا ہر رکن انتہائی بوجھل دل کے ساتھ میدان میں اترا، کسی کی توجہ کھیل پر نہیں تھی،ایک ایک کرکے سب وکٹ گنواتے رہے، ہر کوئی سوچ رہا تھا کہ کیا ہم سب پردیس میں سلاخوں کے پیچھے چلے جائیں گے۔

فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد 6ستمبر کو کھلاڑی پاکستان ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملنے کیلیے گئے تو عوام رکاوٹوں کے باوجود گندے انڈے اور ٹماٹر لے کر پہنچ چکے تھے۔ اس سخت ردعمل کے بعد تینوں کرکٹرز کی خواہش تھی کہ انھیں جلد از جلد پاکستان جانے کی اجازت دیدی جائے، حکومتی مداخلت سے ایسا ممکن بھی ہوگیا لیکن بعد ازاں کیس کی سماعت کے بعد جیل کی ہوا کھانا پڑی تھی