ہاکی کوچ نے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیا

لاہور: ہاکی چیف کوچ شہناز شیخ نے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیا،ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ ملکی مفاد میں کیا۔ دوسری طرف خالد سجاد کھوکھر نے کانگریس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایچ ایف کی صدارت سنبھال لی۔

انھوں نے منتخب ہونے کے بعد پہلا کام حکومت سے گرانٹ مانگنے کا کیا، صدر کا کہنا ہے کہ قومی کھیل کی بہتری کیلیے وقتی طور پر10 کروڑ روپے جاری کیے جائیں، مالی استحکام کیلیے مارکیٹنگ کے شعبے کو فعال بنایا جائیگا، نئی ٹیم انتظامیہ کے حوالے سے آئندہ 2،3روز میں بڑے فیصلے کرنے کا بھی عندیہ دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق ہاکی ٹیم کے کوچ شہناز شیخ نے بالآخر ورلڈ ہاکی لیگ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری قبول کرہی لی ہے۔

گذشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ پی ایچ ایف کی کانگریس میں انھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا، ورلڈ ہاکی لیگ میں گرین شرٹس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے آنے والا یہ پہلا استعفیٰ ہے، اس سے قبل اختر رسول چوہدری پی ایچ ایف کی صدارت سے الگ ہوئے تھے، مستقبل قریب میں پی ایچ ایف میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔

شہناز شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مفاد میں قومی ہاکی ٹیم کی کوچنگ کو چھوڑا، اگر میرے جانے سے فائدہ ہوا تو اپنے فیصلے پر خوشی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ہاکی کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، اسے آگے لانے کیلیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے۔بعدازاں شرکا نے بریگیڈیئر (ر) خالد کھوکھر کو بھاری اکثریت سے پی ایچ ایف کا24ویں صدر بنانے کی منظوری دی،اجلاس میں کانگریس کے 104 میں سے 86 ارکان نے شرکت کی اور تمام نے خالد کھوکھر کے حق میں ووٹ دیا، نومنتخب صدر نے سیکریٹری رانا مجاہد علی کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہاکی کی بہتری کیلیے وقتی طور پرحکومت سے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

کوشش کرینگے کہ اخراجات خود برداشت کریں، اس مقصد کیلیے فیڈریشن کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کوفعال بنایا جائیگا۔ خالد کھوکھر نے کہا کہ میں 4 سال کیلیے منتخب ہوا ہوں، اگر2 سال بھی صدر رہا تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہاکی کے فروغ کیلیے حکمت عملی بنارہے ہیں، اس ضمن میں سخت محنت کرنا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کے حوالے سے آئندہ 2 سے 3 روز میں اعلان کرینگے،شہناز شیخ کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے ۔

ایک سوال پر خالد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا دفتر اسلام آباد منتقل نہیں کیا جا رہا بلکہ قومی کھیل کے معاملات لاہور میں ہی طے کیے جائینگے۔ انھوں نے کہا کہ سیکریٹری رانا مجاہد علی نے بھی کانگریس سے اعتماد کا ووٹ لیا ہے،فیڈریشن کے تمام معاملات شفاف طریقے سے حل کیے جائیں گے۔