Published on 16 September 2017

ورلڈ الیون سے کامیاب سیریز آسٹریلیا کو متاثر نہ کر پائی

میلبورن: 

ورلڈ الیون سے کامیاب سیریز آسٹریلیا کو متاثر نہ کر پائی، بورڈ نے فی الحال دورئہ پاکستان کو خارج ازامکان قرار دے دیا۔

 

آزادی کپ سیریز کیلیے پاکستان آنے والی ورلڈ الیون میں آسٹریلوی کرکٹرز جارج بیلی،بین کٹنگ اور ٹم پین شامل تھے،پی سی بی سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی کا بھی پلان بنا رہا ہے،توقع کی جا رہی ہے کہ بتدریج اعتماد کی بحالی کے مراحل طے کرنے کے بعد کینگرو ٹیم بھی پاکستان آئے گی،مگر آسٹریلیا نے فی الحال کسی ٹور کو خارج ازامکان قرار دیدیا۔

کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو جیمز سدر لینڈ کا کہنا ہے کہ کسی ملک میں جانے کا فیصلہ کریں تب ہی سیکیورٹی معاملات کا جائزہ لیتے ہیں،گرین شرٹس کے ساتھ آئندہ سیریز یواے ای میں ہونے کی توقع ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اچھی پیش رفت کی،ورلڈ الیون کا دورہ بھی خوش آئند ہے، میری نیک خواہشات ہیں کہ پاکستان اس پوزیشن پر آجائے کہ انٹرنیشنل ٹیموں کے باقاعدگی سے دورے ہوں،فی الحال موجودہ حالات میں میرے ملے جلے جذبات ہیں، ہم اپنے کرکٹرز کی سیکیورٹی کے معاملات میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیتے، اگر پاکستان کے ٹور کا فیصلہ ہوا تو جائزہ لینے کیلیے ماہرین بھیج سکتے ہیں، مگر پہلی بات یہ ہے کہ حالات ایسے ہوں کہ ہم وہاں جاکر میچز کے بارے میں سوچ سکیں۔

 

 

یاد رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین آئندہ سیریز 18ماہ بعد ہوگی۔

 


Published on 17 August 2017

مکی آرتھر پر الزامات لگانے والے عمر اکمل کو شوکاز نوٹس جاری

رکٹر کو جواب جمع کروانے کیلیے 7 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ فوٹو : فائل

 

 لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل کو ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر گالیاں دینے کے الزام پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمر اکمل کو ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر گالیاں دینے کے الزام پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے، کرکٹر کو جواب جمع کروانے کیلیے 7 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے تنازع کی وجہ سے عمر اکمل کو نیشنل ٹی 20 سے ڈراپ کیے جانے کا امکانات بھی ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : مکی آرتھر نے مجھے گالیاں دیں، عمر اکمل کا الزام

ADVERTISEMENT
 
 
 

 

گزشتہ روز عمر اکمل نے پریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا تھا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے انضمام الحق اور سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں مجھے ڈانٹا اور گالیاں دیں اور سینئر پلیئرز نے انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا، وہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی گالیاں دیتے رہتے ہیں، مجھے اکیڈمی آنے کی بجائے کلب کرکٹ کھیلنے کا کہا گیا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : مکی آرتھر نے عمر اکمل کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیدیا

دوسری جانب مکی آرتھر نے عمر اکمل کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، انہیں اکیڈمی آنے سے نہیں بلکہ کوچنگ اسٹاف کی معاونت سے روکا تھا کیونکہ اسٹاف قانونی طور پر سنٹرل کنٹریکٹ والے پلیئرز کے ساتھ ہی کام کرنے کا مجاز ہے۔

 

Published on 20 July 2017

بھارت کے نئے کوچ شاستری سالانہ 8 کروڑ روپے معاوضہ حاصل کریں گے

ئی دہلی: 

 نئے بھارتی کوچ روی شاستری سالانہ 8 کروڑ روپے کے قریب معاوضہ حاصل کریں گے۔

 

رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی حکام نے متفقہ طور پر شاستری کو اتنا بھاری معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل سابق کوچ انیل کمبلے ساڑھے 6 کروڑ روپے حاصل کررہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمبلے نے بھی اتنا ہی معاوضہ مانگا تھا جو اب شاستری کو ملے گا مگر ان کا یہ مطالبہ قبول نہیں کیا گیا تھا۔ نئے اسسٹنٹ کوچ سنجے بنگر، فیلڈنگ کوچ آر سری دھر اور بولنگ کوچ بھارت ارون کو 2.3 کروڑ روپے تک معاوضہ دیے جانے کا امکان ہے۔

 

Published on 23 September 2015

بھارت سے کھیلنے کی اب کوئی درخواست نہیں کی جائے گی، چیئرمین پی سی بی

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ ہونا چاہیئے اس لئے اب بھارت سے کھیلنے کی کوئی درخواست نہیں کی جائےگی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار خان کا کہنا تھا کہ چند ہندوانتہا پسند نہیں چاہتے تھے کہ پاک بھارت سیریز ہو اس لئے بھارت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان سیریز کی کوئی درخواست نہیں کریں گے اور بھارت خود بتائے کہ وہ کھیلنا چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو 1999 میں بھارت میں دھمکیاں بھی ملیں اور ایک وقت تھا کہ کلکتہ میچ کے دوران سچن ٹنڈولکر کے رن آؤٹ ہونے پر گراؤنڈ میں جلاؤ گھیراؤ بھی ہوا اس کے باوجود ہم نے کرکٹ کھیلی۔

چیئرمین پی سی بی نے قوم کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے وومن ٹیم کا دورہ پاکستان کنفردم کردیا تاہم عیدالاضحی کے بعد پاک بنگلا وومن سیریز کی تاریخیں عید کے بعد طے کی جائیں گی جب کہ سیریز کے 2 میچز لاہور اور 2 کراچی میں کھیلے جائیں گے۔

Published on 30 August 2015

5سال گزرنے کے باوجود اسپاٹ فکسنگ کا زخم نہ بھر سکا

لاہور:  5سال گزرنے کے باوجود اسپاٹ فکسنگ کا زخم نہ بھر سکا،لارڈز کے میدان پر دانستہ نوبال پاکستان کرکٹ کیلیے کئی سوال چھوڑ گئی، ملوث کرکٹرز کپتان سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر آئی سی سی نے پابندی لگائی، تینوں نے جیل کی ہوا بھی کھائی، ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کا خواب دیکھنے والے سزا یافتہ کھلاڑیوں کو تاحال سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ نے خصوصی رپورٹ میں اس واقعے کی یادیں تازہ کیں، جس کے مطابق پاکستان کے 3کرکٹرز کیخلاف ناقابل تردید ثبوت میسر آنے کے بعد مقامی میٹرو پولیس نے ٹیم ہوٹل پر چھاپہ مارا، اس وقت دیگر کھلاڑی حیران و پریشان جبکہ سلمان بٹ خاص طور پر حواس باختہ تھے۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی دوست کے ساتھ فلم دیکھنے کیلیے گاڑی پارک کرچکے تھے کہ ان کے پاس فون آیا کہ’’ایتھے چھاپا پے گیا اے، تلاشیاں بھی ہورہی ہیں‘‘ وہ میٹرو ٹرین پکڑ کر اور باقی راستہ بھاگتے ہوئے طے کر کے20منٹ میں ٹیم ہوٹل پہنچے،اس وقت تک پولیس اہلکار اپنا بیشتر کام مکمل کرچکے تھے،ایک عینی شاہد کے مطابق سلمان بٹ زیادہ ہی گھبراہٹ کا شکار تاہم محمد آصف اور محمد عامر قدرے مطمئن نظر آرہے تھے۔

قومی ٹیم کے کھلاڑی نے بتایاکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سلمان بٹ ابھی چھت سے کود جائیں گے، اسی خدشہ کو بھانپتے ہوئے ایک اہلکار نے کھڑکی فوری طور پر لاک کردی۔تفضل رضوی کو بتایا گیا کہ ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ کی رپورٹ میں ثبوت ملنے پر کھلاڑیوں کے کمروں کی تلاشی لی جارہی ہے۔

ملوث کھلاڑیوں سے سوال بھی کیا گیا کہ بکی مظہر مجید کو کیسے معلوم ہوگیا کہ نو بال ضرور کیے جائیں گے،سلمان بٹ کے کمرے سے 50 پاؤنڈز کے وہی 50نوٹ بھی ملے جو انڈر کور صحافی مظہر محمود نے مظہر مجید کو دیے تھے،محمد عامر کے کمرے سے 50پاؤنڈ کے 30نوٹ برآمد کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس انھیں گرفتار بھی کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت انگلینڈ میں ہی موجود چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے اسسٹنٹ کمشنر کو قائل کیا کہ قانون کے تحت تینوں کرکٹرز کی ضمانت تو اسی رات ہوسکتی ہے تاہم میڈیا کو کیچڑ اچھالنے کا بہت زیادہ موقع ملے گا،ان کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے لازمی قرار دیا گیا کہ جب بھی ضرورت ہو ملوث کرکٹرز کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔

اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد دنیائے کرکٹ میں طوفان برپا ہوگیا،اگلے روز ٹیم کی بس کا غدار اور ضمیر فروش سمیت کئی نعروں سے استقبال کیا گیا،میچ میں کھلاڑی بغیر کسی تیاری کے شریک ہوئے، ایک کھلاڑی کا کہنا ہے کہ ٹیم کا ہر رکن انتہائی بوجھل دل کے ساتھ میدان میں اترا، کسی کی توجہ کھیل پر نہیں تھی،ایک ایک کرکے سب وکٹ گنواتے رہے، ہر کوئی سوچ رہا تھا کہ کیا ہم سب پردیس میں سلاخوں کے پیچھے چلے جائیں گے۔

فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد 6ستمبر کو کھلاڑی پاکستان ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملنے کیلیے گئے تو عوام رکاوٹوں کے باوجود گندے انڈے اور ٹماٹر لے کر پہنچ چکے تھے۔ اس سخت ردعمل کے بعد تینوں کرکٹرز کی خواہش تھی کہ انھیں جلد از جلد پاکستان جانے کی اجازت دیدی جائے، حکومتی مداخلت سے ایسا ممکن بھی ہوگیا لیکن بعد ازاں کیس کی سماعت کے بعد جیل کی ہوا کھانا پڑی تھی

Published on 28 August 2015

ہاکی کوچ نے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیا

لاہور: ہاکی چیف کوچ شہناز شیخ نے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیا،ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ ملکی مفاد میں کیا۔ دوسری طرف خالد سجاد کھوکھر نے کانگریس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایچ ایف کی صدارت سنبھال لی۔

انھوں نے منتخب ہونے کے بعد پہلا کام حکومت سے گرانٹ مانگنے کا کیا، صدر کا کہنا ہے کہ قومی کھیل کی بہتری کیلیے وقتی طور پر10 کروڑ روپے جاری کیے جائیں، مالی استحکام کیلیے مارکیٹنگ کے شعبے کو فعال بنایا جائیگا، نئی ٹیم انتظامیہ کے حوالے سے آئندہ 2،3روز میں بڑے فیصلے کرنے کا بھی عندیہ دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق ہاکی ٹیم کے کوچ شہناز شیخ نے بالآخر ورلڈ ہاکی لیگ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری قبول کرہی لی ہے۔

گذشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ پی ایچ ایف کی کانگریس میں انھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا، ورلڈ ہاکی لیگ میں گرین شرٹس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے آنے والا یہ پہلا استعفیٰ ہے، اس سے قبل اختر رسول چوہدری پی ایچ ایف کی صدارت سے الگ ہوئے تھے، مستقبل قریب میں پی ایچ ایف میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔

شہناز شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مفاد میں قومی ہاکی ٹیم کی کوچنگ کو چھوڑا، اگر میرے جانے سے فائدہ ہوا تو اپنے فیصلے پر خوشی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ہاکی کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، اسے آگے لانے کیلیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے۔بعدازاں شرکا نے بریگیڈیئر (ر) خالد کھوکھر کو بھاری اکثریت سے پی ایچ ایف کا24ویں صدر بنانے کی منظوری دی،اجلاس میں کانگریس کے 104 میں سے 86 ارکان نے شرکت کی اور تمام نے خالد کھوکھر کے حق میں ووٹ دیا، نومنتخب صدر نے سیکریٹری رانا مجاہد علی کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہاکی کی بہتری کیلیے وقتی طور پرحکومت سے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

کوشش کرینگے کہ اخراجات خود برداشت کریں، اس مقصد کیلیے فیڈریشن کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کوفعال بنایا جائیگا۔ خالد کھوکھر نے کہا کہ میں 4 سال کیلیے منتخب ہوا ہوں، اگر2 سال بھی صدر رہا تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہاکی کے فروغ کیلیے حکمت عملی بنارہے ہیں، اس ضمن میں سخت محنت کرنا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کے حوالے سے آئندہ 2 سے 3 روز میں اعلان کرینگے،شہناز شیخ کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے ۔

ایک سوال پر خالد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا دفتر اسلام آباد منتقل نہیں کیا جا رہا بلکہ قومی کھیل کے معاملات لاہور میں ہی طے کیے جائینگے۔ انھوں نے کہا کہ سیکریٹری رانا مجاہد علی نے بھی کانگریس سے اعتماد کا ووٹ لیا ہے،فیڈریشن کے تمام معاملات شفاف طریقے سے حل کیے جائیں گے۔


Published on 23 September 2015

کرکٹ جسم میں خون بن کردوڑتی ہے، ثانیہ مرزا

ممبئی: بھارتی ٹینس پلیئر ثانیہ مرزاکہتی ہیں کہ کرکٹ ان کے جسم میں خون بن کر دوڑتی ہے، انھوں نے اسے اپنا ’خاندانی‘ کھیل قرار دے دیا، ثانیہ کا کہنا ہے کہ ٹینس مقابلوں میں صرف ڈبلز تک محدود رہنا ذہنی طور پر کافی مشکل ہے، سال کے اختتامی دونوں ایونٹس بھی جیتنا چاہتی ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے کرکٹ کلب آف انڈیا کی جانب سے تاحیات اعزازی ممبرشپ دیے جانے کے موقع پر کیا۔ ثانیہ مرزا نے کہا کہ میرے شوہر شعیب ملک ایک کرکٹر ہیں، ہماری فیملی میں ہر کوئی کرکٹ کھیلتا ہے، یہ کھیل میرے خون میں شامل ہے، میرے والد کرکٹ کھیلا کرتے تھے، میرے ایک انکل تو رنجی ٹرافی بھی کھیل چکے ہیں۔

میں نے خود یہاںکرکٹ کلب آف انڈیا میں چند ایونٹس میں حصہ لیا ہے۔ ثانیہ مرزا نے ٹینس کورٹس پر اپنی کامیابیوں کے حوالے سے کہا کہ میں اب خود کو صرف ڈبلز مقابلوں تک محدود کرچکی، اس سے جسمانی طور پر تو مجھے کافی فائدہ ملا مگر ذہنی طور پر کافی مشکل ہے کیونکہ سال کے 25 ہفتوں میں خود کو اپنے کھیل کے عروج پر رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

Published on 23 September 2015

بھارتی کرکٹ بورڈ کا صدر؛ امیدواروں کی فہرست طویل ہونے لگی

نئی دہلی:  راجیو شکلا نے بھی لابنگ شروع کردی، ایسٹ زون نے امیتابھ چوہدری کو میدان میں اتارنے پر غور شروع کردیا، این سری نواسن جیب میں موجود 10 ووٹوں کو ترپ کے پتے کی طرح استعمال کرنے کے خواہاں ہیں، شرد پوار’کچا ‘ ہاتھ ڈالنے کے حق میں نہیں۔

تفصیلات کے مطابق جگموہن ڈالمیا کی موت کے بعد بھارتی بورڈ کی صدارت سنبھالنے کیلیے امیدواروں کی فہرست طویل ہونے لگی ہے،ابتدائی روز میدان میں این سری نواسن اور سیکریٹری انوراگ ٹھاکر ہی دکھائی دے رہے تھے مگر اب اس میں راجیو شکلا بھی شامل ہوگئے ہیں، وہ اس وقت بورڈ کے نائب صدر ہونے کے ساتھ آئی پی ایل کے چیئرمین بھی ہیں، وہ بھی شردپوار کی طرح ایک سیاسی شخصیت ہیں، پوار بھی ایک بار بی سی سی آئی کا کنٹرول سنبھالنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر اس سے قبل وہ پانی کی گہرائی ناپنے کے حق میں ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ قوانین کے تحت 2017 تک بی سی سی آئی کی صدارت پر پہلا حق ایسٹ زون کا ہے اور وہ جس کوسپورٹ کریگا اس کے صدر بننے کے امکانات زیادہ ہیں۔

Published on 30 August 2015

ثانیہ مرزا کو بھارت میں کھیل کے سب سے اعلیٰ ایوارڈ سے نواز دیا گیا

نئی دلی: کھیل کی دنیا میں شہرت حاصل کرنے والی بھارتی ٹینس اسٹار اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا کو ٹینس میں ان کی شاندار کامیابیوں کی بدولت بھارت میں کھیل کے سب سے اعلیٰ ایوارڈ ’’راجیو گاندھی کھیل رتنا‘‘ سے نوازدیا گیا۔

نئی دلی میں ایوان صدر رشترا پتی بھون میں ہونے والی پروقار تقریب میں بھارتی صدر پرناب مکھر جی نے ثانیہ کو ایوارڈ دیا، جب ثانیہ مرزا کو ایوارڈ کے لیے پکارا گیا تو تقریب میں موجود سیکڑوں افراد نے زور دار تالیوں میں کھڑے ہوکر ان کا شاندار استقبال کیا اورکافی دیر تک لوگ ان ہونہار کھلاڑی کو بھرپور داد دیتے رہے۔

ثانیہ مرزا نے زوردار تالیوں کی گونج میں میڈل، سرٹیفیکیٹ اور ساڑھے 7 لاکھ کیش پرائز بھارتی صدر سے وصول کیا جب کہ ایوارڈ کو وصول کرنے کے فوری بعد وہ یو ایس اوپن کھیلنے کے لیے نیو یارک کے لیے روانہ ہوگئیں۔

واضح رہے ثانیہ مرزا دوسری بھارتی ٹینس اسٹار ہیں جنہیں اس اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا گیا اس سے قبل بھارتی ٹینس اسٹار لینڈر پائس اس ایوارڈ کو حاصل کرچکے ہیں جب کہ دوسری جانب کئی کھلاڑیوں نے ایوارڈ کے لیے لوگوں کے انتخاب کے طریقہ کار پر سخت تنقید کی ہے اور ایک ایتھلیٹ گریشا نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں ثانیہ کے نام کو چیلنج کر رکھا ہے اس کے علاوہ ریسلنگ کوچ  نے دلی ہائی کورٹ میں اس کے خلاف کیس دائر کررکھا ہے اور کھلاڑیوں کی نامزدگی کو میرٹ کے خلاف قرار دیا ہے

Published on 28 August 2015

دنیا کا تیز ترین انسان یوسین بولٹ 200 میٹر کی دوڑ جیتنے کے بعد کیمرہ مین سے ٹکرا کر گر پڑا

یجنگ: دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ نے ایک بار پھر 200 میٹر میں شاندار فتح حاصل کرتے ہوئے ایک نیا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا لیکن تیز ترین ٹانگیں رکھنے والا انسان اپنے آپ پر قابو نہ پاسکا اور کیمرہ مین سے ٹکرا کر سر کے بل جا گرا۔

بیجنگ کے میدان میں 200 میٹر کی دوڑ کے عالمی چیمپیئن کے مقابلے کا آغاز ہوا تو دنیا بھر کی نظریں 100 میٹر کی ریس کے فاتح اور اس کے حریف جسٹن گاٹلین پر لگی ہوئی تھیں، ریس کے آغاز کے ساتھ ہی یوسین بولٹ نے برق رفتاری سے اپنے حریفوں کو ایک ایک کر کے پیچھے چھوڑنا شروع کردیا اور اختتام سے قبل وہ اور ان کا حریف جسٹن ایک قدم کے فاصلے پر ایک دوسرے پر قریب آگئے لیکن جیسے اچانک بولٹ کی ٹانگوں میں بجلی بھر گئی ہو اور وہ ایک لمحے میں اپنے حریف کو پیچھے چھوڑتے ہوئے فنشنگ لائن کو پار کر چکے تھے۔ بولٹ نے 200 میٹر کا فاصلہ 19.55 سیکنڈ میں طے کر کے اپنے ہی ریکارڈ کو توڑ ڈالا جب کہ انہوں نے یہ ریکارڈ 2012 کے لندن میں ہونے والے اولمپک میں بنایا تھا۔

یوسین بولٹ کی دوڑ تو یہاں ختم ہوگئی لیکن جب بولٹ جیت کے بعد تماشائیوں کی داد وصول کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ ان کے پیچھے کوریج کرنے والا ایک کیمرہ مین اچانک ریڑھی یعنی سیگوے پر اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور اس سے بے خبر بولٹ سے جا ٹکرایا جس پر وہ کیمرہ مین سے ٹکراتے ہوئے سر کے بل زمین پر گر پڑے اور تیز رفتار دوڑنے والی یہ ٹانگیں یہاں بولٹ کو گرنے سے نہ بچا سکیں۔ اس اتفاقی حادثے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے سیکورٹی الرٹ کردی گئی جب کہ بولٹ بھی حادثے میں بڑی چوٹ سے بال بال بچ گئے۔