Category: پاکستان
Published on 09 August 2014

بچے کے بازو کٹنے کی واردات: جرم یا حادثہ؟

1 جولائی 2014 کی صبح گجرات کے نواحی گائوں چک بھولا کے رہائشی زمین دار نصر اقبال کے کم سن بیٹے تبسم شہزاد کے ساتھ ظلم و بربریت کی وہ داستان رقم ہوئی کہ انسانیت بھی شرمندہ ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
تھانہ صدر گجرات میں نصر اقبال نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وقوعے کے روز صبح ساڑھے دس بجے وہ اپنی رہائش سے ملحقہ اراضی پراپنے بھائی جاوید اقبال اور چچا نذر حسین کے ساتھ تھا کہ اُس کا دس سالہ بیٹا تبسم شہزاد قریبی کھیتوں میں مال مویشی چرانے والے غلام مصطفٰی عرف نومی کے ڈیرے پر ٹیوب ویل پر نہانے چلا گیا جہاں غلام مصطفٰی نے اُن کے دیکھتے ہی دیکھتے تبسم کو پکڑا اور اس کے دونوں ہاتھ ایک کپڑے سے باندھے اور ٹیوب ویل کے پیٹر کی شافٹ میں دے کر کاٹ ڈالے جس پر اُس کا بیٹا بے ہوش ہوگیا اور ملزم فرار ہوگیا، جس کے بعد بیٹے کو لے کر وہ بھمبر روڈ پر واقع گجرات اسپتال پہنچ گئے.
لیکن اگلے ہی روز 22 جولائی کو اُسے گورنمنٹ عزیز بھٹی شہید اسپتال منتقل کر دیا اور اسی دوران غلام مصطفٰی کی برادری راضی نامہ کی کوشش کرتی رہی، جو نہ ہو سکا۔ اس نے واقعہ کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس (نصر اقبال) کی وقوعہ سے چند روز قبل غلام مصطفٰی کے والد غلام غوث کے ساتھ بجلی کے ٹرانسفارمر کی مرمت پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔
یہ درخواست نصر اقبال نے تھانہ صدر گجرات کے ایس ایچ او شوکت ٹوپہ کے حوالے کر دی مگر چار روز تک میڈیکل جاری نہ ہونے کی وجہ سے ایف آئی آر درج نہ ہو سکی اور منت سماجت کرنے کے باوجود ایس ایچ او روایتی ٹال مٹول کرتا اور ٹرخاتا رہا تاہم جب میڈیا نے پولیس اور اسپتال انتظامیہ کی بے حسی کا پردہ چاک کیا تو بے خبر رکھے گئے ڈی پی او گجرات رائے اعجاز اوروزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے نوٹس لیا جس پرسوئی ہوئی انتظامیہ بیدار ہو کر ایسے حرکت میں آئی کہ لمحوں میں ڈی ایس پی لالہ موسیٰ چوہدری عثمان کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ صدر گجرات نے ملزم غلام مصطفٰی کو اُس کے گاؤں گہیال میں چھاپہ مار کر اس کے گھر سے اسے گرفتا رکر لیا اور چوتھے ہی روز جائے وقوعہ پر پہنچ کر واقعہ کی تصدیق بھی کر ڈالی۔
یہ ہی نہیں ملزم کو شناخت کرانے کے لیے اسے اسپتال میں زیر علاج کم سن تبسم کے بستر لے گئے، جس کی بچے نے تصدیق کردی۔ سرکاری ڈنڈا دیکھ کر اس بار اسی پولیس نے، جو ٹال مٹول کر رہی تھی، میڈیکل رپورٹ تیار ہونے سے پہلے ہی دائو پر لگی اپنی نوکریوں کو بچانے کے لیے اقدام قتل کی دفعات 324/334 ت پ لگا کر ایف آئی آر تھانے کے رجسٹر میں بھی درج کر لی۔ پولیس کا یہ ہی وہ کردار ہے جس کے خلاف اخبارات میں چند سخت جملے چھپ جائیں تو برا منایا جاتا ہے۔
معصوم تبسم کے دونوں بازو تن سے جدا ہونے پر اُس کے خاندان پر تو جیسے قیامت ہی برپا ہو گئی۔ کھیل کود اور دوستوں ساتھیوں ماں، با پ ، دادا، دادی، بہن بھائیوں کے ساتھ موج مستی کرنے والا تبسم دونوں بازو کٹ جانے پر بے بسی کی تصویر بنا بستر پر پڑا انسان کی درندگی اور سفاکی کی داستان زبانِ حال سے بیان کر رہا ہے کہ نہ جانے اُس کم سنی میں اسے کس جرم کی سزا دی گئی ہے۔ ابھی تو وہ اپنے گاؤں سے باہر نکل کر زندگی بچپن کی رنگینوں کو بھی دیکھ، محسوس نہ کر پایا تھا کہ اُسے پھول کی طرح 146146مسل145145 کر رکھ دیا گیاتبسم کو دیکھنے والی شاید ہی کوئی آنکھ ایسی ہوگی جو نم نہ ہوئی ہو مگر تبسم کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ننھنی سے جان ہوتے ہوئے بھی اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم کو ایسے ہنس کر سہ گیا ہو جیسے وہ صبر کی کوئی چٹان ہو۔ تبسم ہر پوچھنے والے کو اپنی زبان میںظلم کی داستان سناتے ہوئے بتاتا ہے کہ وہ ٹیوشن سے واپسی پر گھر میں اپنی کتابیں رکھ کر ماں سے پائجامہ یہ کہہ کر لے گیا کہ وہ غلام مصطفٰی کے کھیت میں ٹیوب ویل پر نہانے اور جامن کھانے کے لیے جارہا ہے جہاں غلام مصطفٰی عرف نومی نے اسے دیکھتے ہی اُس پر نہاتے ہوئے ٹیوب ویل کی دوسری طرف سے نکلنے والا گرم پانی انڈیل دیا۔

ننھا تبسم اس سے منت سماجت کرتا رہا کہ وہ ایسا نہ کرے لیکن وہ ظالم باز تو کیا آتا، اس نے بچے پر اس سے بھی زیادہ تشدد کرنا شروع کردیا اور بچے کے چھوٹے سے سر پر بوتلوں سے وار کرنے لگا، بچہ بھاگ کر کھیتوں میں جا چھپنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ شداد اسے پھر جا پکڑتا ہے اور اس بار تو وہ انتہا کر دیتا ہے کہ چشمِ فلک بھی یہ ہول ناک منظر دیکھ کر ایک بار تو ضرور لرز گیا ہوگا۔ وہ بچے کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ شاپنگ بیگ اور چادر سے باندھتا ہے اور اسے چالو پیٹر انجن کی طرف دھکیل دیتا ہے، جہاں اُس کے دونوں بازو انجن کی زد پر آتے ہیں اور ۔۔۔۔۔ کٹ کر دور جا پڑتے ہیں اور وہ ایک طرف گر پڑتا ہے، اس کے بعد وہ اپنے ہوش حواس کھو بیٹھتا ہے۔
اس کے بعد اسے کچھ خبر نہیں کہ اُس پر کیا بیتی تاہم اب وہ ایک لوتھ کی طرح اسپتال میں پڑا ہے اور کوئی سنگ دل سے سنگ دل بھی اسے دیکھ کر دکھی نہ ہوا ہو، ہو نہیں سکتا۔ پولیس اور اسپتال انتطامیہ کے درمیان چار روز تک فٹ بال بنے رہنے والے تبسم کے والدنصر اقبال اور اس کی والدہ کی آہ و زاری سن کر وزیراعلیٰ پنجاب 24 گھنٹے گزرنے سے پہلے ہی گجرات پہنچ گئے۔ ان کے دورے کی خبر ملنے اور جزا سزا کے عمل سے بچنے کے لیے پولیس نے راتوں رات اقدام قتل کی دفعات کے ساتھ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ6/7ATA بھی شامل کر لی جب کہ سرکاری اسپتال میں لاوارثوں کی طرح سرجیکل وارڈ میں پڑے تبسم کو ایمرجنسی میں الگ کمرہ دے کر ایم ایس ڈاکٹر طاہر نوید کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دے د یا گیا۔
یہ بورڈ بس نام کا ہی بورڈ ثابت ہوا البتہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اسپتال کی انتظامیہ نے بیڈز کی مہینوں سے پڑی میلی کچیلی چادریں تبدیل کرائیں، اسپتال کو یوں صاف ستھرا کرایا گیا کہ جیسے یہ اسپتال پاکستان بھر کا نیٹ اینڈ کلین اسپتال ہے، اس کے ساتھ ہی مریضون کو وی آئی پی سہولتیں فراہم کر دی گئیں۔ مریض لوگ یہ حال دیکھ کر دعائیں کر رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ماہانہ بنیادوں پر اسپتال کا دورہ کیا کریں تاہم یہ خامی بھی دیکھنے میں آئی کہ وزیر اعلیٰ کی میاں شہباز شریف کی آمد سے لے کر روانگی تک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر عزیز بھٹی شہید اسپتال کی ساری کارکردگی ٹھپ رہی، اسپتال کا آپریشن تھیٹر بند رہا اور ایمرجنسی میں مریضوں کے چیک اپ کا سلسلہ بھی بند رہا، عمارت کے تمام اطراف و جوانب سیل کر دیے گئے۔
بہ ہرحال وزیراعلیٰ نے دونوں ہاتھوں سے معذور ہو جانے والے تبسم شہزاد کی عیادت کی اور وہیں عدالت لگا ئی اور یہاں کے نام نہاد مسیحاؤں کے رویوں سوے آگاہی حاصل کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ تبسم کا میڈیکو لیگل بروقت جاری کرنے میں ٹال مٹول کی گئی، طبی سہولیات دینے کے بجائے اُس کے والدین کو دوائیں بازار سے خریدنے پر مجبور کیا گیا، پنکھا تک مہیا نہیں کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر اسپتال کے سرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہر نوید کے معطل کیا۔
ایف آئی آر کے اندراج میں لیت و لعل کرنے پر ڈی ایس پی چوہدری عثمان اور ایس ایچ او شوکت ٹوپہ کو بھی معطل کر دیا جب کہ ڈی پی او رائے اعجاز کو تبسم کے والدین کی سفارش پر او ایس ڈی بنانے کا حکم واپس لے لیا تاہم ان کے خلاف انسپکٹر جنرل پنجاب کو انکوائری کرنے کے احکامات جاری کیے جب کہ تبسم کی تعلیم اور علاج معالجے کاذمہ اُٹھاتے ہوئے 10 لاکھ روپے کا چیک متاثرہ والدین کو پیش کیا اور بچے کو مصنوعی بازو لگوانے کا بھی اعلان کیا، اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ خادم اعلیٰ کے وعدے کہاں تک وفا ہوتے ہیں کیوں کہ چیک اتنے دن گذرنے کے بعد بھی کیش نہیں ہوسکا۔
ابھی وزیراعلیٰ پنجاب فارغ نہیں ہو پائے تھے کہ عین اسی دوران پولیس کے ظلم و ستم کے شکار دو اور خاندان گریہ زاری کرتے اپنے لواحقین کے قاتلوں کی گرفتاری کی دہائی دیتے ہوئے اسپتال پہنچ گئے جنہیں عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے سرکاری اہل کار خادم اعلیٰ سے ملنے سے روک رہے تھے مگر عین موقع پر وزیر اعلیٰ نے اپنی گاڑی کو فریادی خواتین کے حصار میں دیکھا تو انہیں گاڑ ی میں سوار کرلیا اور آئی جی کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ہدایات دیں۔
تھانہ صدر گجرات میں بند ظالم زمین دار بے حس غلام مصطفٰی عرف نومی میڈیا کے سوالوں کے جواب میں بس اتنا ہی کہا کہ یہ سب کھیل ہی کھیل میں ہوا ہے اور یہ کہ وہی اُسے زخمی بچے کو بازوؤں اٹھا کر اسپتال لے گیا، جہاں اس نے تبسم کے لیے خون بھی دیا۔ اس نے کہا کہ تبسم اس کا منہ بولا بھتیجا ہے، وہ اسپتال میں اس کی حالت دیکھ کر برداشت نہ کر سکا اور گھر چلا گیا۔ زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو جانے والے تبسم کے دادا بشیر اور دادی نے اپنی کانپتی ہوئی آواز میں کہا کہ ان کے خاندان کو نہ جانے کس کی نظر کھا گئی 146146اس دکھ کی گھڑی میں ہم صبر کے سوا کچھ نہیں کر سکتے، تبسم ذہین ہونے کی وجہ سے خاندان کی آنکھ کا تارا تھا جسے زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیا گیا۔
دوسری جانب ملزم غلام مصطفٰی نومی کے تایا عارف کا کہنا ہے 146146ہمارے خاندان کے ہاتھوں جو دکھ نصر اقبال کے خاندان کو ملا ہے، وہ زندگی بھر فراموش ہونے والا نہیں، ہم روز قیامت تک متاثرہ خاندان کے قصور وار اور مجرم ہیں، قرآن پاک کی روشنی میں اگر وہ خون کے بدلے خون بھی لینا چاہیں تو ہم تبسم جیسے پھول کے بازوؤں کے بدلے اپنے تمام خاندان کے بچوں کے ہاتھ کٹانے کو تیار ہیں۔
اس مقصد کے لیے ہم اپنے بچے لے کر اسپتال بھی لائے تھے مگر تبسم کی حالت دیکھ کر کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر سکے چوں کہ اس واقعہ سے صرف تبسم کا خاندان ہی دکھ میں نہیں ڈوبا بل کہ معاشرے کے ہر فرد کی یہی حالت ہے، اب تو معاشرے کی گالیوں، بد دعاؤں کو سہنا ہی ہمارا مقدر ہے، ہماری تو تبسم کے گھر سے ملحق اپنے کھیتوں میں بھی جانے کی ہمت نہیں رہی، ہم اُ س وقت تک اپنے کھیتوں میں کھیتی باڑی نہیں کریں گے جب تک متاثرہ خاندان ہمیں خود نہ کہے145145۔ ذرائع کے مطابق ڈویژنل سطح پر بنائی گئی تفتیشی ٹیم نے ملزم کے گاؤں جا کر تفتیش نہیں کی۔
چک بھولہ اور گہیال کے مکینوں نے انکشاف کیا کہ دونوں خاندان مختلف برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی سالہا سال سے کھیت ساتھ ہونے کی وجہ سے ایسے جڑے ہوئے تھے کہ اُن کے الگ الگ خاندان ہونے کا گمان بھی نہیں ہوتا تھا۔ تین ماہ قبل 5 اپریل کو غلام مصطفٰی کی شادی اپنے تایا عارف کی بیٹی سے ہوئی، جس کی رسم حنا کی تقریب کا اہتمام بھی نہ صرف تبسم کے والد ین نے کیا بل کہ وہ اپنے گھر سے غلام مصطفٰی کی منہدی بھی لے کر آئے تھے۔
خوشیوں اور قہقوں ، شنہائیوں کی گونج ابھی فضا ہی میں تھی کہ یہ المیہ رونما ہو گیا حجلۂ عروسی سے یک بہ یک ملزم بن جانے والا بیس سالہ غلام مصطفٰی آٹھویں پاس ہے، جس میں گائوں کے مکینوں کے مطابق کوئی سماجی عیب نہیں، اگر انتقام ہی لینا اس کا مقصد ہوتا تو وہ اُس کی جان بچانے کے لیے اُسے نہ تو اسپتال پہنچاتا، نہ خون دیتا اور گھر پر رہنے کے بجائے فرار ہو چکا ہوتا۔ تبسم کا زیادہ وقت بھی غلام مصطفٰی اور اُس کے خاندان کے ساتھ کھیلنے کودنے اور موٹر سائیکل پر گاؤں میں گھومتے پھرتے گزرتا تھا۔
اُس روز بھی غلام مصطفٰی نے پھرتیلے شریر تبسم کواُچھل کود سے رُوکنے کے لیے اُس کے ہاتھ باندھے اور کندھے پر اُٹھایا مگر اچانک ہاتھ میں بندھا روما ل پیٹر انجن کی لپیٹ میں اگیا، جس پر غلام مصطفٰی نے بوکھلا کر چیخ پکا ر شروع کر دی لیکن جب تک کپڑا پیٹر انجن سے الگ ہوا تب تک تبسم کے بازو کٹ چکے تھے۔

وہ پیٹر انجن بند کرنے کے لیے تبسم کو چھوڑتا تو تبسم شافٹ کے ساتھ گھوم جاتا تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، کمشنر ، ڈی سی او ، ڈی پی او گجرات تک سبھی نے متاثرہ خاندان کی آوا ز سن کر فوری انصاف کے تقاضے پورے کر کے ایک طرف اچھی مثال اور روایت تو قائم کر دی ہے مگر انہیں مزید چھان بین کرنا ہوگی تاکہ واقعہ واقعتاً ٹرانسفار مر کی تنصیب کے جھگڑا پر ہوا یا کھیل ہی کھیل میں قدر ت نے دونوں خاندانوں کو امتحان میں ڈال دیا۔ اس واقعے کا ایک عبرت آموز پہلو یہ بھی ہے کہ چک بھولا کے حلقہ این اے 105کے ایم این اے اور ایم پی اے نے تبسم اور اس کے والدین کی عیادت بھی کرنا گوارہ نہیں کی۔۔


Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

سانحہ ماڈل ٹاؤن: ایک ماہ گزر گیا ایف آئی آر نہ شہباز شریف کا استعفیٰ: چودھری پرویزالٰہی

لاہور (نمائندہ جذبہ) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما اور سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو پورا ایک مہینہ ہو گیا ہے لیکن ابھی تک پولیس نے اس کی ایف آئی آر درج کی ہے نہ شہباز شریف کا استعفیٰ آیا ہے اور نہ ہی ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لیا ہے، مظلوم اور پریشان حال لواحقین انصاف کیلئے عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے معاملہ دبانے کی کوشش اس لیے کی جا رہی ہے کہ اس سانحہ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف خود ملوث ہیں اور انہی کے حکم پر بے گناہ افراد کو خون میں نہلایا گیا تھا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنے اعلامیہ میں متفقہ طور پر کہا تھا کہ جب تک وزیراعلیٰ شہباز شریف اپنے عہدہ سے مستعفی نہیں ہو جاتے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی منصفانہ انکوائری نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کی موجودگی میں کوئی سرکاری اہلکار ان کے خلاف گواہی دینے کی جرأت نہیں کرے گا لیکن آج پورا ایک مہینہ ہو گیا ہے شہباز شریف نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے عہدے سے چمٹے ہوئے ہیں، شہباز شریف جانتے ہیں کہ جیسے ہی وہ حکومت سے الگ ہوں گے سرکاری اہلکار سارے ثبوت لے کر خود ہی عدالتوں کے سامنے پیش کر دیں گے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو دبانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور انشاء اللہ بہت جلد قوم کو ان سفاک حکمرانوں سے نجات مل جائے گی۔# 


Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

کٹھالہ پھاٹک کے قریب 92ایکڑ رقبہ پر شہباز شریف پارک کا منصوبہ گوجرانوالہ ڈویژن میں اپنی نوعیت کا منفرد ترین پراجیکٹ ہو گا ،ڈی سی او گجرات لیاقت علی چٹھہ

گجرات(عثمان طیب سے)ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ نے کہا ہے کہ کٹھالہ پھاٹک کے قریب 92ایکڑ رقبہ پر شہباز شریف پارک کا منصوبہ گوجرانوالہ ڈویژن میں اپنی نوعیت کا منفرد ترین پراجیکٹ ہو گا ، اس منصوبہ پر کام کے آغاز کے لئے حکومت نے ابتدائی طور پر 12کروڑ روپے کے فنڈز مختص کر دئیے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ایم پی اے حاجی عمران ظفر ، سابق ایم پی اے حاجی ناصر محمود ، ای ڈی او فنانس چوہدری محمد اصغر ، ای ڈی او ایگریکلچر راؤ خالد محمود ، ڈی او روڈز علی نواز خاں،پی ایس او ندیم بٹ و دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے ، ڈی سی او نے محکمہ مال کے عملہ کو ہدایت کی کہ منصوبہ پر کام کے آغاز کیلئے فوری طور پر زمین کی نشاندہی کا عمل مکمل کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پارک میں تمام جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اس سے نہ صرف گجرات بلکہ گوجرانوالہ ڈویژن کے دیگر اضلاع کے رہائشی افراد بھی تفریحی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے ، اجلاس میں شہباز شریف پارک کے مجوزہ نقشہ پر بھی غور کیا گیا ، جبکہ ہاؤس نے آرکیٹیکچر کو بعض ضروری ترمیم کی ہدایت کی ۔

Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

متحدہ جہاد کونسل کے سپریم کونسل حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین آج گجرات آئیں گے

گجرات(ارشد علی سے)متحدہ جہاد کونسل کے سپریم کونسل حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین آج گجرات آئیں گے اوروہ اسلامک سنٹرگجرات میں حزب المجاہدین گجرات کے زیراہتمام جہاد کشمیرکانفرنس کے پروگرام میں شرکت کریں گے اورجامع مسجد قرطبہ اسلامک سنٹرگجرات میں خطبہ جمعہ دیں گے ،سید صلاح الدین کاخطاب ساڑھے بارہ بجے شروع ہوگا حزب المجاہدین گجرات نے پروگرام کی تمام ترتیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

فری ٹیکس منڈی مویشیاں کریالہ کی افتتاخی تقریب میں ممتاز سیای و سماجی شخصیات کی بھرپور شرکت

سرائے عالمگیر(محمد شکیل خلیل سے)فری ٹیکس منڈی مویشیاں کریالہ کی افتتاخی تقریب میں ممتاز سیای و سماجی شخصیات کی بھرپور شرکت ۔تفصیل کے مطابق فری منڈی ٹیکس کریالہ سرائے عالمگیر کی شاندار افتتاخی تقریب کریالہ میں ہوئی جس میں ایم این اے چوہدری عابد رضا کوٹلہ ،ایم پی اے و ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ ن ملک محمد حنیف اعوان،ڈی سی او گجرات لیاقت علی چٹھہ و دیگر اعلیٰ افسران سرائے عالمگیر و گجرات سے شرکت کی اور اپنے دست مبار ک سے اس فری ٹیکس منڈی مویشیاں بلمقابل راشہ فلور مل کا افتتا خ کیا پروگرام کے انتطامات کو اسسٹنٹ کمیشنر شعیب نسوانہ سرائے عالمگیر،قیصر امین وڑائچ ٹی ایم او،ٹی او اینڈ آئی ایس رانا شفقت اللہ،چیف آفیسر چوہدری ثاقب الرحمن نے احسن انداز میں سر انجام دئے افتتاخی تقریب میں و سرائے عالمگیر ،کھاریاں سمیت ضلع بھر سے ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات نے بھر پور شرکت کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ مسلم لیگ ن عوامی خدمت کیلئے بے شمار میگا ا پراجیکٹ لا رہی ہے جس سے بے روزگاری کا مکمل خاتمہ ہوگا اور لوگوں کو روزگار ملے گا اس منڈی مویشیاں فری ٹیکس سے سینکڑوں افراد کو روازگار ملے گا ۔

Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

اقوام متحدہ صرف اجلاسوں کی حد تک محدود ایک انجمن ہے کامران بخش

سرائے عالمگیر(محمد شکیل خلیل سے )اقوام متحدہ صرف اجلاسوں کی حد تک محدود ایک انجمن ہے کامران بخش۔تفصیل کے مطابق رہنما فاروق شہید گروپ چوہدری کامران بخش نے نمائندہ جذبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی طاقت کے نشہ میں فلسطین کے علاقہ غزہ پہ جنگ کر کے مسلمانوں کو نہ صرف شہید کر رہا ہے بلکہ وہاں پر خواتین و معصوم بچوں اور معمر افراد کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہاہے جبکہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے چوہدری کامران بخش نے کہا کہ اقوام متحدہ صرف اجلاسوں کی حد تک محدود ایک انجمن ہے۔


Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

لانگ مارچ کرنے والے یاد رکھیں ان کے خلاف بڑا لانگ مار چ ہونے والا ہے،چوہدری ظہور الٰہی

گجرات ( سٹاف رپورٹر) رہنما پاکستان مسلم لیگ ن چوہدری ظہور الٰہی آف صباحت گروپ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کرنے والے یاد رکھیں ان کے خلاف بڑا لانگ مار چ ہونے والا ہے،ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر تحریک انصاف نے اپنی پالیسی تبدیل نہ تو پھر اس جماعت کے خلاف ملک کے کونے کونے سے عوام سڑکوں پر نکل آئیں اور اس مارچ کا مرکز خیبر پختون ہوگا ،عوام مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اعلان پر حیرت کا اظہار کررہے ،عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب ملک تیزی سے ترقی کررہا ہے تو عمران خان کو لانگ مارچ کیوں یاد آیا ہے ،عمران خٰان کوہمیشہ اس وقت کی احتجاج یاد آتا ہے جب پاکستان بہتر ی کی طرف سفر کررہا ہوتا ہے ،دنیا بھر کے مبصرین عام انتخابات کوشفاف قرار دے چکے ہیں پھر عمران خان کونہ جانے کیوں ان انتخابات میں دھاندلی یادآگئی ہے ،اب وہ ہر وقت دھاندلی دھاندلی کا ورد کرتے ہیں ،انہیں دھاندلی کے علاوہ کچھ سوجھ رہا نہ جانے وہ دن میں کتنی بار دھاندلی کی تسبیح کرتے ہیں

Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے جان ومال کی قربانیاں دینااہل وفاکاشعاررہاہے ، چوہدری نثار احمد ایڈووکیٹ

گجرات(ارشد علی سے)عوامی خطیب چوہدری نثاراحمدایڈووکیٹ نے درس قرآن دیتے ہوئے کہاکہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے جان ومال کی قربانیاں دینااہل وفاکاشعاررہاہے حق پرست ہمیشہ زندانوں کوآباد کرتے رہے ہیں امام اعظم ابوحنیفہ کاجنازہ جیل سے نکلا اورامام احمد بن حنبل ؒ کوکوڑے مارکرلہولہان کردیاگیا مجدد الف ثانیؒ نے قلعہ گوالیارکی ہیبت کوپاش پاش کردیا انہوں نے کہاکہ برصغیرکی تحریک آزادی کے قائدین نے اپنی زندگی کابیشترحصہ جیل اورریل میں بسرکیا اورلوگوں کے دلوں سے ا نگریز کاخوف مٹاکران میں آزادی کے لئے مرمٹنے کاجذبہ بیدارکیا،چوہدری نثاراحمدایڈووکیٹ نے کہاکہ مولاناابوالکلام آزاد کی غبارخاطراورسید مودودیؒ کی تفہیم القرآن کا بیشترحصہ جیلوں میں تحریرہوااوربرصغیرکاادب عالیہ جیلوں میں تحریرکیاگیا انہوں نے کہاکہ تقسیم ملک سے قبل قومی قیادت علم اورکردارکی بنیاد پر پروان چڑھی اوراب قیادت دولت کی مرہون منت ہے موجودہ قیادت نے آزادی کے حسن کوگہنادیاہے۔

Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

مختلف حادثات میں 2افراد ہلاک 24سالہ ارم بتول نے ڈیڑھ سال پہلے گھر سے لاپتہ ہونے والے خاوند کے غم میں گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی

سرائے عالمگیر(محمد شکیل خلیل سے )مختلف حادثات میں 2افراد ہلاک 24سالہ ارم بتول نے ڈیڑھ سال پہلے گھر سے لاپتہ ہونے والے خاوند کے غم میں گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی جبکہ نہر میں نہاتے ہوئے 22سالہ نوجوان ڈوب کر ہلاک۔تفصیل کے مطابق تھانہ صدر کے نواحی گاؤں موضع قاضی باقر کی رہائشی 24سالہ ارم بتول جس کا خاوند نشئی تھا جو عرصہ ڈیڑھ سال قبل گھر سے اچانک غائب ہو گیا اور تا حال نہ مل سکا جس کے غم میں اس کی بیوی اکثر پریشان رہتی تھی جس کا ایک بیٹا بھی ہے نے آج دلبرداشتہ ہو کر کمرے کو اندر سے کنڈی لگا کر پنکھے سے لٹک کر زندگی کا خاتمہ کر کر لیا۔ایک اور واقعہ میں شام افطاری کے وقت گرمی سے تنگ 22سالہ بابر ولد عبدل الغفور محلہ قاسمی نزد ٹیوب ویل حاجی اشرف نہر اپر جہلم سرائے عالمگیر پل پر نہانے کے لئے اترا جو تیراکی نہ جاننے کی وجہ سے اچانک گہرے پانی میں چلے جانے سے ڈوب گیا جسے موقع پر موجود لوگوں نے بچانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔اطلاع ملنے پر تھانہ سٹی کے ASIلطیف اور 1122ریسکیو جہلم نے نعش کی تلاش کا کام جاری کر دیا تاحال ابھی تک نعش نہ مل سکی ہے۔

Category: پاکستان
Published on 17 July 2014

غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت دنیا کی پر اسرار خاموشی مسلم دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے،چوہدری مسعود عاشق آٖ میرہ

سرائے عالمگیر(محمد شکیل خلیل سے )غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت دنیا کی پر اسرار خاموشی مسلم دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ان خیالات کا اظہار ممتاز سیا و سماجی شخصیت چوہدری مسعود عاشق آٖ میرہ نے نمائندہ جذبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ یہودی لابی مسلمان ممالک پر باری باری حملے اور تنہا کر کے اپنا تسلط قائم کر رہی ہے اور بے گناہ اور نہتے مسلمانوں معصوم بچے ،مردو خواتینکا قتل کر کے مسلمانوں کی غیرت کو للکار رہی ہے چوہدری مسعود عاشق نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات پر مسلم دنیا کے حکمرانون کی خاموشی عالم اسلام کیلےئے مزید خطرہ پیدا کر رہی ہے ۔