Category: پاکستان
Published on 11 August 2014

موجودہ صورتحال کی وجہ کسی حد تک پرویز مشرف بھی ہوسکتے ہیں، خواجہ آصف

لاہور: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال پرویز مشرف کی وجہ سے نہیں تاہم وہ اس کی کچھ حد تک وجہ ہو بھی سکتے ہیں لیکن پرویز مشرف کے معاملے پر جو قانون اور عدلیہ فیصلہ کرے گی ہم قبول کریں گے جبکہ عمران خان اور طاہرالقادری اقتدار کے بھوکے ہیں یہ لوگ کتنے ہی مارچ کرلیں حکومت کو ختم نہیں کرسکتے ہم پانچ سال مکمل کرکے جائیں گے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام  ’’کل تک‘‘ میں  بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری مذہب کے نام پر دکان چلا رہے ہیں وہ اپنے آپ کو شہادت کے رتبے پر فائز کرنا چاہتے ہیں لیکن شہادت ایسے فسادیوں کو نہیں ملتی بلکہ ملک کے لیے جانے دینے والوں کو ملتی ہے اور اگر اس طرح کے لوگ بھی شہید ہونے لگے تو پھر طالبان بھی شہید ہی کہلائیں گے جبکہ ہمارے نزدیک پاک فوج کے وہ جوان شہید ہیں جو ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج جو انقلاب لانے کی باتیں کررہے ہیں یہ لوگ مشرف کے ساتھ حکمران رہے ہیں اور ان انقلابیوں کی اوقات محض فقیروں کی طرح ہے یہ لوگ کتنے ہی آزادی یا انقلابی مارچ کرلیں حکومت کو کچھ نہیں ہوگا اور ہم پانچ سال پورے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ انقلابی مارچ والے خود ہی لوگوں کی لاشیں گرائیں گے لیکن ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرے اور ہم اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان ساری عمر بالر رہے ہیں اور انہیں اپیل کرنے کی عادت ہے اور وہ ابھی تک اس صورتحال سے نہیں نکلے لیکن انہیں سمجھ آنا چاہئے کہ ریاستیں خواہشات پر نہیں آئین و قانون پر چلتی ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان آج اپنی دس نشستوں کے مطالبے کوئی ماننے کو تیار نہیں جبکہ ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا یا نہیں، یہ لوگ ہر دن اپنے مطالبات تبدیل کرتے ہیں اور اپنی جگہ کھڑے نہیں رہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری اور عمران خان اقتدار کے بھوکے ہیں، عمران خان 24 سال سے اقتدار میں آنے کے لیے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں جبکہ طاہرالقادری اور عمران خان دونوں انا پرست بھی ہیں، عمران خان 200 سیٹوں کی سونامی کا خواب لے کر چلے تھے لیکن انہیں 2 درجن سیٹیں ملیں تو وہ حواس باختہ ہوگئے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری نے جس طرح مذہب کا مذاق بنایا ہوا ہے ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے جبکہ وہ خود بھی قانون کو اپنی طرف آنے کی دعوت دے رہے ہیں اگر ان کی گرفتاری کی نوبت آئی تو ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام صورتحال پرویز مشرف کی وجہ سے نہیں تاہم وہ اس کی کچھ حد تک وجہ ہو بھی سکتے ہیں لیکن پرویز مشرف کے معاملے پر جو قانون اور عدلیہ فیصلہ کرے گی ہم قبول کریں گے اگر عدالت نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا اور قانون میں گنجائش ہوئی تو ہم اس کے خلاف اپیل کریں گے ورنہ انہیں کسی ذاتی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا کیونکہ مشرف کا معاملہ اب حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے کا کہ ہم قانون میں برابری کا اصول لانا چاہتے ہیں تاکہ عام آدمی اور پرویز مشرف قانون کی نظر میں برابر ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کے لئے یہ سرمایہ چھوڑ کر جائیں، عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے ہم پانچ سال گزار کر جائیں گے جس نے جو مارچ کرنا ہے سب اپنا شوق پورا کرلیں لیکن یہ سب وقت گزر جائے گا، ہم نے جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور ہماری تاریخ ہے،نوازشریف نے جلا وطنی کاٹی ہے لیکن ان لوگوں کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک 35 سال سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور یہ بیج جنرل ضیا الحق کے دور میں بوئے گئے جس کے کسی حد تک ذمہ دار ہم بھی ہیں لیکن آج پاک فوج اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے قربانیاں دے رہی ہے تو ہمیں اس وقت اس قسم کا تماشہ لگانے والوں کی نیت پر شک ہے  یہ لوگ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈال کر ہمارے ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ ہونے کا تاثر دینا چاہتے ہیں  کیونکہ یہ بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی،عمران خان اور طاہرالقادری اسلام آئیں ہمیں کوئی پریشانی نہیں، ان کے مطالبات کے لئے ایک کمیٹی بنادی گئی ہے کیونکہ آئین وقانون کے دائرے میں مطالبات کو ماننا ہمارا فرض ہے لیکن آئین سے ماورا کسی بھی سازش یا ایجنڈے کا مقابلہ کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان طالبان کے حمایتی رہے ہیں جبکہ طاہرالقادری کو خود نہیں پتا وہ کس کے حمایتی ہیں،دو مارچیے ہم سے اقتدار چھیننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن نوازشریف اورشہبازشریف سمیت سب لوگ منتخب نمائندے ہیں ہم کسی کے مطالبے کسی صور استعفیٰ نہیں دیں گے۔


Category: پاکستان
Published on 10 August 2014

جینا مرنا یہیں ہے پاکستان چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا، پرویز مشرف

اسلام آباد: سابق صدر مملکت جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کا کہنا ہے کہ ان کا جینا مرنا یہیں ہے وہ پاکستان چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے اور اپنے خلاف قائم تمام مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

اسلام آباد میں آل پاکستان مسلم لیگ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 برس سے عوام مشکلات کا شکار ہیں،ملک میں کوئی ترقی نہیں ہورہی، ملک کی معیشت کی حالت بدترہوگئی ہے،روپے کی قدرمزید گرگئی ہے، عوام کو نوکریاں نہیں مل رہی، ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو واپس پٹڑی پر لانے کا سوال ہمارے سامنے ہے، ایسی صورت حال میں سب کو پاکستان کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف جھوٹے اوربے بنیاد مقدمات درج ہیں وہ ان تمام مقدمات کا عدالتوں میں ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ ان کی طبیعت کافی بہتر ہے تاہم ایک میڈیکل ٹیسٹ ہے جو بیرون ملک ہونا ہے، انہیں بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ پاکستان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے ان کا جینا مرنا یہیں ہے۔


Category: پاکستان
Published on 10 August 2014

برطانیہ فلسطینی بچوں کے قاتل اسرائیل کو ہتھیارفراہم کر رہا ہے، مستعفٰیٰ وزیرسعیدہ وارثی

لندن: برطانیہ کی مستعفی ہونے والی پاکستانی نژاد وزیر سعیدہ وارثی نے کہا ہے کہ انھوں نے استعفے کا فیصلہ ضمیر کی آواز پر کیا۔

غزہ میں ہونے والے جنگی جرائم اور تباہی پر اسرائیل سے جواب طلبی ہونی چاہیے، انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ غزہ میں بچوں کو قتل کرنے والے اسرائیل کو برطانیہ ہتھیار فراہم کر رہا ہے، غزہ کی بحالی کیلیے واضح منصوبہ بندی کی جائے، سعیدہ وارثی نے کہاکہ فلسطین میں ہونے والے جنگی جرائم پر جواب دینا ہوگا۔

منگل کو غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف واضح موقف نہ اپنانے پر پاکستانی نژاد برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر اپنے پیغام میں پاکستانی نژاد سعید وارثی کا کہنا تھا وہ غزہ کے معاملے پر اپنی حکومت کی پالیسی کی مذید حمایت نہیں کر سکتیں، اس لئے انہوں نے دکھ اور افسوس کے ساتھ  اپنا استعفیٰ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ سعیدہ وارثی برطانوی کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی خاتون مسلمان رکن ہیں، ان دنوں وہ  وزیر برائے دولت مشترکہ امور کے عہدے پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں جبکہ اس سے قبل 12 مئی 2010 سے چار ستمبر 2012 تک وہ برطانوی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کے عہدے پر کام کر چکی ہیں۔

Category: پاکستان
Published on 10 August 2014

طاہرالقادری کا انقلاب مارچ عمران خان کے آزادی مارچ کے ساتھ شروع کرنے کا اعلان

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اعلان کیا ہے کہ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ 14 ا گست سے شروع ہوگا اگر اس دوران قتل کردیا جاؤں تو کارکنان قتل کا بدلہ شریف برادران سے لیں۔

لاہور میں یوم شہدا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ظلم کی تاریک رات ختم ہونے والی ہے، انقلاب کی فتح یا اپنی شہادت تک ظلم کے خلاف جنگ لڑتا رہوں گا، کسی بھی حربے سے ڈرایا یا جھکایا نہیں جاسکتا، اطلاعات ہیں کہ مجھے کسی بھی وقت شہید کردیا جائے گا لیکن حکمرانوں کو بتادینا چاہتا ہوں کہ شہادت سے ڈرنے والا نہیں،پاکستان کے مظلوم عوام کے حقوق کے لئے شہادت کو ترجیح دوں گا، پنجاب اور وفاقی حکومت پاکستان میں اسرائیل کا کردار ادا کر رہی ہے، ماڈل ٹاؤن کو غزہ بنا دیا گیا ہے جہاں مکینوں کو 7 روز سے کھانے پینے کے لئے کچھ دستیاب نہیں اور اگر ماڈل ٹاؤن کے باہر کوئی شخص ضروری اشیا لینے جاتا ہے تو اسے گرفتار کرلیا جاتا ہے جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کارکنان کے لئے کھانا بھجوایا جسے ماڈل ٹاؤن کے باہر ہی روک لیا گیا۔

سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ یوم شہدا کی تقریب کے لئے حکومت کی جانب سے ٹینٹ اور کرسیاں لانے تک کی اجازت نہیں دی گئی، اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کو تصادم کے لئے اکسانے کی کوشش کی گئی لیکن آخری حد تک اپنے انقلاب کو پرامن رکھیں گے،ہم سرکاری تشدد کی مذمت کرتے ہیں، سرکاری بربریت کے باوجود پرامن رہیں گے کیوں کہ ہم جمہوریت اور امن پر یقین رکھتے ہیں اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمے کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب پھولوں کی سیج نہیں، انقلاب پھل نہیں کہ جھولی میں ڈال دئے جائیں،امریکا، برطانیہ اور یورپ نے بھی طویل جنگوں اور قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی جبکہ پاکستان بھی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا اور ایک مرتبہ پھر ملک کو ظالم اور جابر حکمرانوں کے شکنجے سے چھڑانے کے لئے قربانیاں دینا ہوں گی، پارلیمنٹ کو کرپشن سے پاک کرنے، غربت کے خاتمے، انصاف کی فراہمی اوراقلیتی برادری کے تحفظ کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں، ایسا نظام چاہتے ہیں جیسا امریکا اور یورپ میں رائج ہے جہاں ہر فرد کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ حکمرانوں کی غنڈہ گردی کے دن گنے جاچکے ہیں، انقلاب کے لئے چلائی گئی تحریک کے دوران عوامی تحریک کے 25 ہزار سے زائد کارکن گرفتار جبکہ ہزاروں شدید زخمی ہوئے، گزشتہ روز خواتین اور مردوں کو زخمی کر کے ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور سیکڑوں کارکن اب بھی لاپتہ ہیں، عوامی تحریک کے خلاف ریاستی جبر انسانیت کی تذلیل ہے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب کا سورج جلد طلوع ہونے والا ہے اس لئے 3 دن تک یہیں بیٹھے رہیں گے اور ماڈل ٹاؤن سے باہر کھانا کھانے کے لئے باہر جاتے ہوئے 100، 100 کارکن ٹولیوں کی شکل میں باہر جائیں، اگر کوئی پولیس اہلکار ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں، پنجاب پولیس فیصلہ کر لے کہ اسے ادھر آنا ہے یا ادھر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مجھ پر ٹیکس چوری کا الزام لگایا گیا لیکن بتادینا چاہتا ہوں کہ 1985 سے 2013 تک ایک سال بھی ٹیکس کی ادائیگی کا ناغہ نہیں کیا جبکہ حکومت ٹیکس چور ثابت کرنے کے لئے غیر ملکی بینکوں سے ڈیٹا جمع کر رہی ہے، حکومت چاہے کچھ بھی کر لے مظلوم اور غریب پاکستانی عوام کے حقوق کے لئے جنگ لڑتا رہوں گا۔

تقریب میں تحریک انصاف ، مسلم لیگ(ق)، متحدہ قومی موومنٹ ، عوامی مسلم لیگ، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین کے علاوہ دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شریک ہوئے

Category: پاکستان
Published on 09 August 2014

کوئی طرم خان یا بادشاہ بن کر ملک چلائے تو یہ ممکن نہیں، شاہد آفریدی

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کرکٹ کے میدان سے نکل کر موجودہ حکومت کے خلاف سیاسی بیان دے کر سب کو حیران کردیا ہے۔
کراچی کے اصغر علی شاہ اسٹیڈیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی طرم خان یا بادشاہ بن کر ملک کو چلانے کی کوشش کرے تو یہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت ہو اسے حزب اختلاف کی جماعتوں اور فوج کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے، اگر کوئی اکیلا امیر المومنین بن کر ملک کے معاملات چلانے کی کوشش کرے تو اس کے لئے یہ ممکن نہیں۔
آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کے حوالے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اس وقت کسی کو علم نہیں کہ آئی ڈی پیز دوبارہ کب اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے لہٰذا حکومت اور عوام کو ان کی ہم ممکن مدد کرنی چاہئے۔

Category: پاکستان
Published on 09 August 2014

حکمران اپنا تخت بچانے کے لئے پورے ملک کا تختہ کرنا چاہتے ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری

لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے کارکنوں کو لاہور آنے کے بجائے اپنے اپنے شہروں میں یوم شہدا ماننے اور دھرنے دینے کی ہدایت کردی ہے۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ ملک میں ظلم کی انتہا ہوچکی ہے، پاکستان کی تاریخ میں ظلم اپنی آخری حدوں سے گزرگیا ہے، پورے پنجاب کو ماڈل ٹاؤن بنادیا گیا ہے، حکمران یہاں طلم کی وہ آگ لگانا چاہتے ہیں جس سے پورے ملک میں آگ لگ جائے گی، وہ اپنا تخت بچانے کے لئے پورے ملک کا تختہ کرنا چاہتے ہیں، گزشتہ 5 روز سے ماڈل ٹاؤن میں ہفتہ شہدا منانے والوں پر کھانا، پانی اور ادویات تک بند کردی گئی اور اب تو شہباز شریف نے لاہور آنے والے قافلوں پر گولیاں چلانے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے قافلوں پر پہلے شیلنگ کی جاتی ہے اگر وہ ثابت قدم رہتے ہیں تو ان پر سیدھی گولیاں برسائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں اب تک پاکستان عوامی تحریک کے 7 کارکن قتل کردیئے گئے ہیں اس کے علاوہ ہزاروں زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پر مامور نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے اہلکاروں کو دباؤ کے تحت منہاح القرآن اورمیری رہائش گاہ سے ہٹایا گیا۔ ہرجگہ کنٹینر لگا کر لوگوں کی آمدو رفت روک دیا گیا ہےجب کہ چند کنٹینرز میں آتش گیر مادے سے بھرے ہوئے ہیں جنہیں ہٹانے کی کوشش پر آگ لگ جائے گی۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے شریف برادران کھل کر ریاستی دہشت گردی پر اتر آئے ہیں، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک کا کوئی شہری آزادی سے سفر نہیں کرسکتا، پرویز مشرف کے ایک قدم پر ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ بنا لیکن موجودہ حکومت نے گزشتہ 4 روز سے آئین معطل کررکھا ہےاور شریف برادران قوم کی جان و مال کے دشمن بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے پنجاب کو سیل کرکے سڑکوں پر خندقیں کھود دی گئی ہیں۔ ہمارے کارکنوں نے کنٹینر ہٹانے کے علاوہ کہیں قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا لیکن ہم ہر ظلم، جبر، ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کے لئے تیار ہیں، ملک میں آئین، جمہوریت اور قانون تو پہلے بھی نہیں تھا لیکن اب انسانیت کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔
سربراہ پاکستان عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں جب پنجاب بھر میں لوگوں کی نقل و حرکت ناممکن بن گئی ہے پاکستان عوامی تحریک، مجلس وحدت المسلمین ، مسلم لیگ (ق) اور سنی اتحاد کونسل کے 15 سے 20 ہزار کارکن گرفتار ہوچکے ہیں، اس کے پیش نظر وہ اپیل کرتے ہیں کہ کارکن اور عوام مزید اپنی جانوں کا ضیاع کا نہ کریں اور اپنے اپنے شہروں میں مقامی طور پر فوری طور یوم شہدا منائیں اور کراچی سے پشاور تک ملک کے ہر شہر، ضلع، تحصیل، یونین کونسل میں شہیدوں کی لاشیں اور زخمیوں کے ساتھ پرامن احتجاج کریں تاکہ دنیا ظلم کی اس روداد کو دیکھ سکیں کیونکہ ظالم کے ظلم کو ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ امن ، ایمان، حق اور صداقت کی طاقت ساتھ ہے، ہم ظلم کا مقابلہ اپنے احتجاج کی طاقت سے کریں گے، یوم شہدا پر انقلاب مارچ کا اعلان کیا جائے گا


Category: پاکستان
Published on 10 August 2014

ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرز طاہرالقادری کے پاگل پن کے خلاف متحد ہیں، پرویزرشید

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے تحریک انصاف کے ساتھ انقلاب مارچ کے اعلان پر رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے  کہا  کہ ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈر طاہرالقادری کے پاگل پن کے خلاف متحد ہیں اب انہیں فوری طورپر کسی ماہر نفسیات رائے لینا چاہئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ طاہرالقادری کا انقلاب یا شہادت کی تمنا ان کو مایوس کرے گی کیونکہ شہادت باکردار لوگوں کا مقدر ہوتی ہے مداریوں کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاہرالقادری نے اپنی تقریر میں اشتعال انگیز باتیں کیں جب کہ ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈر ان کے پاگل پن کے خلاف متحد ہیں اب انہیں فوری طور پر کسی ماہر نفسیات سے رائے لینا چاہئے، طاہرالقادری چوہدری برادران اور شیخ رشید کو بھی درباریوں کی طرح استعمال کررہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر قانون پنجاب رانا مشہود اپنے رد عمل میں کہا کہ پاکستان میں شام اور عراق والا کھیل کھیلنے کی تیاری کی جارہی ہے اور پاکستان کی ترقی روکنے کے لئے ڈرامہ کیا جارہا ہے کیونکہ طاہرالقادری اور چوہدریوں کا ایجنڈا صرف پاکستان کو برباد کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری نے آج خطاب کے دوران اپنی ادکاری کے جوہر دکھائے وہ اپنے بے گناہ لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں،یہ لوگ مل کر یوم آزادی کو بھی متنازع بنا رہے ہیں اور پاکستان کی آزادی کے دن کو غلامی کا دن بنانا چاہتے ہیں۔

رانا مشہود کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری بیرونی آقاؤں کی خواہش پر ملک میں سکون برباد کرنا چاہتے ہیں ان کا اورعمران خان کا اتحاد بہت پہلے سے ہے مگر یہ لوگ اس وقت کیوں خاموش تھے جب لال مسجد میں خون بہا گیا تھا جبکہ جس طرح پنجاب میں پولیس والوں کی جسم کے وردیا پھاڑی گئیں  اور ان پر تشدد کیا گیا کیا یہی ان کا انقلاب ہے۔

Category: پاکستان
Published on 09 August 2014

سرگودھا میں عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ، 8 موبائلیں جلا دی گئیں

سرگودھا: بھیرا کے مقام پر پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں میں جھڑپ کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے جب کہ اس دوران مشتعل افراد نے 8 موبائلوں کو بھی آگ لگادی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے کارکن یوم شہداء میں شرکت کے لئے لاہور آ رہے تھے کہ سرگودھا میں بھیرا کے قریب اللہ انٹر چینج کے مقام پر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر دونوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں اس دوران فائرنگ بھی کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے، پاکستان عوامی تحریک کے مشتعل کارکنوں نے جب پولیس پر دھاوا بولا تو پولیس اہلکار اپنی گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے جب کہ اس دوران مشتعل افراد نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس کی 8 موبائلوں کو آگ لگادی۔
آر پی او راولپنڈی،ڈی پی او جہلم اور ڈی پی اور سرگودھا پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور مظاہرین کو مشتعل کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی تاہم عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا جا تا رہا ۔
واضح رہے کہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں عوامی تحریک کے کارکنوں سمیت درجنوں پولیس اہلکار بھی زخمی ہو ئے جب کہ مشتعل افراد نے گزشتہ روز خوشاب میں بھی پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کر دیا۔

Category: پاکستان
Published on 09 August 2014

عمران اورطاہرالقادری میں سے جوقوم سے غداری کرے گا وہ سیاست سے نیست ونابود ہوجائے گا،شیخ رشید

لاہور: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری میں سے جو بھی قوم سے غداری کرے گا وہ سیاست سے نیست ونابود ہوجائے گاجب کہ مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ظلم کی انتہا کردی ہے لیکن ناجانے کیوں عدلیہ اس کا نوٹس نہیں لے رہی۔
لاہور میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ طاہرالقادری اور عمران خان ایک ساتھ نکلیں چاہے ان کے خیالات الگ کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ قوم کو ان حکمرانوں سے نجات ملے اور اس ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہو جس میں مسائل زدہ لوگوں کی بات سنی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی قومی سلامتی کانفرنس صرف ایک فوٹو سیشن تھا جسے وزیراعظم کی حفاظتی کونسل کی میٹنگ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
شیخ رشید احمد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ پیغام دیا جارہا ہےکہ عمران خان اور طاہرالقادری سے الگ الگ طریقے سے نمٹا جائے گا جبکہ ہم اس پر واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاہرالقادری قوم کے احترام کا نام ہے جبکہ عمران خان قوم کے جذبات،احساس اور محبت کانام ہے ان سے کسی قسم کی جارحیت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہرالقادری میں سے جو بھی قوم سے غداری کرے گا وہ سیاست سے نیست ونابود ہوجائے گا۔
اس موقع پر پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے پنجاب میں آگ لگی ہوئی ہے،پولیس اور انتظامیہ نے لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، لوگ کھانے پینے کی اشیا سے بھی محروم ہیں جبکہ پولیس کارکنوں پر وحشیانہ تشدد کررہی ہے جس میں کارکن جاں بحق بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب میں سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے جس کے باعث ایمبولینس بھی اسپتال نہیں پہنچ سکتیں ان حکمرانوں نے ظلم کی انتہا کردی ہے،ایسا پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا جبکہ ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ ان حالات میں عدلیہ کیوں خاموش ہے اور وہ نوٹس کیوں نہیں لے رہی

 

Category: پاکستان
Published on 09 August 2014

عوامی تحریک کے کارکنوں نے اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور اب بھی متعدد لاپتا ہیں، پنجاب پولیس

لاہور: ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی تحریک کے کارکنوں 22 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا جبکہ اب بھی متعدد اہلکار لاپتا ہیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آج صوبے بھر میں عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 130 اہلکار اور افسران شدید زخمی ہوئے جن پر لاٹھیوں ،غلیلوں،چھریوں اور دیگر چیزوں سے حملہ کیا گیا جبکہ اس دوران ایلیٹ فورس کا ایک جوان بھی جاں بحق ہوا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے 22 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا جبکہ اب بھی متعدد لاپتا ہیں۔
ترجمان کے مطابق عوامی تحریک کے کارکنان نے تھانوں اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور تھانوں میں موجود سرکاری ریکارڈ کو بھی آگ لگادی۔