Category: کراچی
Published on 25 August 2015

وزیراعظم کے دورہ کراچی پر ہمیں مزید کارکنان کی گرفتاری کا تحفہ دیا گیا، فاروق ستار

کراچی: ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف ہمارے سوالات کے جواب دیئے بغیر روانہ واپس ہوگئے جب کہ انہیں دورہ کراچی کے موقع پر ہمارے مزید کارکنوں کی گرفتاری کا تحفہ دیا گیا۔

ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو جبری طور پر لاپتا کیا جارہا ہے اور وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر ہمیں مزید کارکنوں کو گرفتار کرکے تحفہ دیا گیا جب کہ وزیراعظم ہمارے سوالات کے جواب دیے بغیر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایم کیو ایم کو نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کو دیوار سے لگایا جارہا ہے جب کہ ہماری جماعت آئین کے تحت رجسٹرڈ ہے اور شہری علاقوں کا 80 فیصد مینڈیٹ رکھتے ہیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے ہمیشہ محبت اور امن کا پیغام دیا اس کے باوجود ان کے براہ راست خطاب پر پابندی ہے جب کہ یہ پابندی غیر قانونی ہے کیوں کہ پیمرا قانون میں کہیں بھی ایم کیو ایم کے قائد کے خطاب پر پابندی کا ذکر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین کے خطاب پر پابندی کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

دوسری جانب ڈاکٹر فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے دوران رینجرز کی بھری نفری نائن زیرو پہنچ گئی، رینجرز نے خورشید بیگم میموریل ہال اور لال قلعہ گراؤنڈ کا محاصرہ کیا تاہم کچھ دیر بعد علاقے کی گلیوں میں پیدل گشت بھی کیا گیا جب کہ اس دوران رینجرز اہلکار صرف گشت کرتے رہے، نائن زیرو پر چوکیوں پر سیکیورٹی کے لیے موجود ایم کیوایم کے کارکنان سمیت کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ رینجرز اہلکار علاقے کا گشت کرکے روانہ 


Category: کراچی
Published on 25 August 2015

کراچی میں کسی عسکری ونگ کو پیسے اکٹھا کرنے اور قربانی کی کھالوں پر ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے، ڈی جی رینجرز

کراچی: ڈی جی رینجرز میجرجنرل بلال اکبر کا کہنا ہےکہ کراچی میں نہ کسی عسکری ونگ کو پیسے اکٹھے کرنے دیئے جائیں گے اور نہ ہی قربانی کی کھالوں پر ڈاکا ڈالنے دیا جائے گا۔

گورنر ہاؤس کراچی میں وزیراعظم نوازشریف کو امن وامان پربریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی رینجرز نے کہا کہ پراسیکیوشن کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ ناقص تفتیش کے سبب ملزمان بری ہوجاتے ہیں کیونکہ مربوط تفتیش سے ہی ملزمان کو سزائیں دلوائی جاسکتی ہیں۔

ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ کراچی سے بھتہ خوروں کے نیٹ ورک کا صفایا کیا جارہا ہے، شہر میں کسی عسکری ونگ کو نہ پیسے اکٹھا کرنے دیئے جائیں گے اور نہ ہی قربانی کی کھالوں  پر ڈاکا ڈالنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے اور دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورکس کو بھی ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔


Category: کراچی
Published on 25 August 2015

کراچی میں 90 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ، نوٹی فیکیشن جاری

کراچی: سندھ حکومت نے شہر میں 90 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی جس کا نوٹی فیکشن جاری کردیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کےمطابق سندھ حکومت نے کراچی میں 90 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہےجس کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جب کہ دفعہ 144 کے تحت 4 افراد کے ایک جگہ جمع ہونے، اسلحہ لے کر چلنے، سول کپڑوں میں گھومنے والے سیکیورٹی گارڈز، پولیس اور سیکیورٹی فورس جیسی وردی پہننے پر پابندی عائد ہوگی جب کہ پولیس، سیکیورٹی فورس کی گاڑیوں سے مماثلت رکھنے والی گاڑیوں کے استعمال اور پرائیوٹ گاڑیوں میں پولیس کی گاڑیوں سے ملتی ہوئی لائٹیں لگانے پر بھی پابندی ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ دفعہ 144 کے پیش نظر شہر میں جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی جب کہ کسی بھی جلسے جلوس اور ریلی کے لیے شہری انتطامیہ سے خصوصی اجازت درکار ہوگی


Category: کراچی
Published on 11 April 2015

پاکستان کو یمن کے معاملے پر ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیئے، امیرجماعت اسلامی

کراچی: امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے یمن کی صورتحال پر پاکستان کو ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیئے اور سعودی عرب اور یمن کے رہنماؤں کو دعوت دے کر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیئے۔ 

کراچی پریس کلب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ یمن بحران کے حل کے لئے تجویز دی تھی کہ پاکستان، ایران، ترکی اور یمن مل کر مسئلے کا حل نکالیں اور مسئلے کے سنجیدہ حل کے لئے پاکستان کو چایئے کہ یمن اور سعودی عرب میں ثالثی کے لئے کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ حالات کا تقاضہ ہے کہ رائٹ اور رانگ کی سیاست نہ کی جائے، کراچی کے عوام نے الطاف حسین کو ووٹ دیا لیکن انہوں نے عوام کو کیا دیا اس کا فیصلہ عوام کو ہی کرنا ہے اور سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیئے کہ ذاتی جھگڑوں کے بجائے عوام کی خدمت کریں اور ماضی کے بجائے روشن مستقبل کی طرف دیکھیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی دہشت گردی ہے جب کہ اسمبلیاں یرغمال ہے اور سیاسی کشیدگی کے باعث سب لوگ ناامید ہوگئے تھے اورامید کر رہے تھے کہ اب بوٹوں کی آواز آئے گی لیکن ہم نے کوششیں کی اور مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بن گیا۔  انہوں نے کہا کہ کراچی کے آج بھی وہی مسائل ہیں جو 20 سال پہلے تھے اس لئے سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ لڑنے کے بجائے ایک ساتھ مل کر قوم کے لئے کام کریں جب کہ الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ این اے 246 میں کشیدگی کا نوٹس لے اور عام انتخابات کی طرح پارٹی الیکشن کی بھی مانیٹرنگ کرے۔