Category: کراچی
Published on 26 August 2015

چنگ چی رکشوں کی بندش پر حکومت سندھ اور ڈی آئی جی کراچی ٹریفک کو نوٹس

کراچی: سپریم کورٹ نے چنگ چی رکشوں پر پابندی سے متعلق درخواست پر حکومت سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے چنگ چی رکشا ایسوسی ایشن کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد حکومت سندھ، محکمہ ٹرانسپورٹ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈی آئی جی کراچی ٹریفک پولیس سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے چنگ چی رکشوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھ


Category: کراچی
Published on 26 August 2015

شہر میں نصب 60 فیصد سی سی ٹی وی کیمرے بند

کراچی: سندھ پولیس کے کمانڈ اینڈکنٹرول سینٹر نے60 فیصد کام کرنا بند کردیا ،سرویلنس کیمروں کی سہولت فراہم کرنے والی نجی کمپنی کو مرمت کی مد میں3سال سے ادائیگی نہیں کی گئی جس کے باعث واجبات20 کروڑ 2 لاکھ روپے (202 ملین) تک پہنچ گئے ہیں ، کمپنی اس سے قبل بھی کئی بار کیمرے بند کرچکی لیکن پولیس حکام ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہیں، کیمرے بند ہونے سے امن و امان کی صورتحال کو بھی خطرات لاحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کے جدید ترین شہروں کی طرز پر کراچی میں سرویلنس کیمروں کا پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد شہر کی مکمل مانیٹرنگ اور جرائم پر قابو پانا تھا، منصوبے کی اسٹڈی 2009 میں شروع کی گئی،متعلقہ پولیس افسران نے مختلف ممالک کے دورے کیے جہاں کے سرویلنس سسٹم کا جائزہ لیا گیا ۔

مروجہ قوانین کے تحت منصوبے کا ٹینڈر کیا گیا جوکہ ایک نجی کمپنی نے جیتا ، بعدازاں مختلف رکاوٹیں عبور اور مشکلات حل کرتا ہوا بالآخر 2011 میں منصوبے کا افتتاح ہوا،منصوبے کے تحت960 کیمرے مختلف مقامات پر لگائے گئے جس میں ضلع جنوبی کو مکمل طور پر مانیٹر کیا گیا ، نجی کمپنی آئی ٹی سہولت فراہم کررہی ہے لیکن جب سے اس منصوبے کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے اب تک کمپنی کو مینٹیننس کی مد میں کوئی واجبات ادا نہیں کیے گئے۔

کمپنی کے واجبات20 کروڑ 2 لاکھ روپے (202 ملین) تک جاپہنچے، کمپنی حکام نے کئی بار سندھ پولیس کو خط لکھے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی،اپنی تمام تر کوششوں میں ناکامی کے بعد کمپنی نے 60 فیصد آپریشنز بند کردیے،واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کمپنی حکام کیمرے بند کرچکے ،ادائیگی کے لیے زور دیا گیا لیکن پولیس حکام ٹس سے مس نہیں ہوئے ، چند ماہ قبل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔

اس وقت آئی جی سندھ نے کمپنی حکام سے خود ملاقات میں واجبات کی ادائیگی کا یقین دلایا لیکن اس کا بھی اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ،ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ کیمرے بند ہونے سے امن و امان کی صورتحال کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔

خصوصی طور پر شہر کی سڑکوں پر ہونے والے جرائم کی سی سی ٹی وی فوٹیجز محفوظ ہوتی تھیں جس کی بدولت تفتیشی افسران کو کافی سہولت ہوجاتی تھی ، کئی کیسز سی سی ٹی وی فوٹیجز کی بدولت ہی حل ہوئے ، کیمرے بند ہونے کے بعد خصوصاً اسٹریٹ کرائم  پر قابو پانے میں پولیس حکام کو مزید مشکلات دریپش آسکتی ہیں 


Category: کراچی
Published on 26 August 2015

کراچی کے علاقے کٹی پہاڑی پر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی، 2 ٹارگٹ کلرز گرفتار

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کٹی پہاڑی پر کارروائی کی جس میں 2 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کےمطابق ملزم فضل عرف پہلوان اور نور حسین بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان کے قبضے سے 2 کلاشنکوف، 2 ہینڈ گرینیڈ اور گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم نور حسین نے 5 پولیس اہلکاروں اور اپنی بھابھی کو بھی قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔


Category: کراچی
Published on 25 August 2015

سانحہ صفورا کے ملزم سعد عزیز کے خلاف مقدمہ قتل کا چالان پیش

 کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ صفورا کے مرکزی ملزم سعد عزیز کے خلاف مقدمہ قتل کا چالان پیش کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ صفورا کے مرکزی ملزم سعد عزیزکے خلاف مقدمہ قتل کا چالان پیش کردیا گیا ہے، چالان کے متن کے مطابق سانحہ صفورا کیس میں گرفتارملزم سعد عزیز اور اس کے ساتھیوں عمر اور علی رحمان نے 2014 میں نیوکراچی تھانے کے اہلکار وقار ہاشمی کو قتل کیا تھا۔عدالت نے چالان منظور کرتے ہوئے 2 مفرورملزمان عمراورعلی رحمان کےناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔

واضح رہے کہ سعد عزیز پر معروف سماجی کارکن سبین محمود کے قتل ، رینجرز کے ایک بریگیڈیئر پر خودکش حملے اور اسکولوں و مسجد کے باہر دھماکوں کے علاوہ امریکی شہری و ڈاکٹر ڈیبرا لوبو پرحملوں کا بھی الزام ہے۔