Category: پاکستان
Published on 11 August 2014

فوج عوام کے ساتھ ہے اور آزادی مارچ میں رکاوٹ نہیں بنے گی، عمران خان

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ حقیقی جمہوریت آنے تک اسلام آباد کے ڈی چوک سے نہیں اٹھیں گے جبکہ فوج عوام کے ساتھ ہے اور ہمارے آزادی مارچ میں رکاوٹ نہیں بنے گی ۔

لاہور میں زمان پارک کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 14 اگست کو سب سے بڑا جشن اسلام آباد میں لگے گا، فوج عوام کے ساتھ ہے اور آزادی مارچ میں رکاوٹ نہیں بنے گی جبکہ پولیس بھی ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلو بٹوں کے ساتھ وہ کریں گے جس کے وہ اہل ہیں، 14 اگست کو ظلم کے نظام کا خاتمہ کریں گے اور عوام کو بادشاہت سے نجات دلائیں گے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری جدو جہد آج تک جمہوری رہی ہے، 14 اگست کو بھی پر امن احتجاج کریں گے، اس احتجاج میں ان کی بہنیں اور بچے سب آرہے ہیں اگرماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ پیش آیا تو ملک تباہی کی طرف جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں جتنی بہترین جمہوریت ہوتی ہے اتنی خوشحالی ہوتی ہے، شریف برادران نے ملک کوتباہ کردیا ہے، ایک سال میں ریکارڈ قرضے لئے گئے اور ملک کو بادشاہت کی طرح چلایا جارہا ہے، پولیس اور سرکاری ملازمین سن لیں، کوئی گڑبڑ نہ کرے وہ اس ملک کے وفادار بنیں ایک خاندان کی ملازم نہ بنیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) اپنی باری کے لئے تیار بیٹھی تھی لیکن 30 اکتوبر 2012 کی سونامی آنے کے بعد انہوں نے جامع منصوبہ بندی سے دھاندلی کی، فخر الدین جی ابراہیم کو چیف الیکشن کمیشن بنایا گیالیکن انہیں اختیارات نہیں دیئے گیا، پنجاب میں جسٹس (ر) ریاض کیانی کو الیکشن کمشنر بنادیا گیا جو ماضی میں شریف برادران کے وکیل بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے پنجاب میں خوب کھیل کھیلا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں غلط فہمی تھی کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی موجودگی میں کوئی کھیل نہیں کھیلا جاسکتا لیکن انہیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کسی اور کے لئے بیٹنگ کررہے ہیں، جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے کی رہائش گاہ میں ریٹرننگ افسران کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا جہاں افتخار چوہدری نے نوازشریف کے حق میں تقریر کی، نگراں وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے تبادلوں کی بھرمار کردی لیکن وہ تمام مسلم لیگ (ن) کے بھرتی کئے گئے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے جلسوں نے زور پکڑا تو ریٹرننگ افسران نے اپنا کھیل کھیلنا شروع کیا اورغیر قانونی تبادلوں کا سلسلہ شروع ہوا، انتخابات سے صرف 2 روز قبل لاہور، راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں لاکھوں اضافی بیلٹ پیپرز مانگے گئے، جعلی پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے جہاں جعلی بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے گئے، 11 مئی کی رات کو نواز شریف صاحب ایک تقریر کرتے ہیں اوراس کے بعد خلیل الرحمان رمدے جادو کرتے ہیں جس سے ہم جیتے ہوئے انتخابات ہار گئے، اقتدار میں آنے کے بعد شریف برادران نے اپنی مدد کرنے والوں کو نوازا اور ایماندار لوگوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر بھگادیا،خلیل الرحمان رمدے ایک بھتیجی کو رکن اسمبلی جبکہ ان کے بیٹے کو اہم ترین صوبائی عہدہ دیا گیا۔ افتخارچوہدری کے بیٹے کو بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کا اہم ترین عہدہ دے دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد اور انور محبوب کو ان کی ملازمت میں توسیع دی گئی۔

چیرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ جمہوریت سزا و جزا کا نام ہے،اس ملک میں اس وقت تک صاف و شفاف انتخابات نہیں ہوں گے جب تک دھاندلی کرنے والوں کو سزا نہیں دی جاتی، جب تک موجودہ حکومت ہے انتخابات کی تصدیق نہیں ہوسکتی، پر امن احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے، موجودہ حکومت کے پاس جعلی مینڈیٹ ہے اگران کا مینڈیٹ صحیح ہے تو 4 حلقوں پر ووٹوں کی تصدیق کرادیتے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی آج موجودہ حکومت کی حمایت کررہی ہے لیکن سابق چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے آصف  زرداری کو ایک خط لکھا تھا کہ انہیں شک ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری اور ایک میڈیا گروپ کی مدد سے آئندہ انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

عمران خان نے  کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے خود پارلیمنٓٹ میں کہا کہ ہر حلقے میں 60 سے 70 ہزار ووٹوں کی تصدیق ہی نہیں ہوسکتی، نواز شریف پاکستان کے حسنی مبارک ہیں ان کے ساتھ پولیس اور عدلیہ کی طاقت ہے، پرامن احتجاج جمہوری عمل کا حصہ ہے، قانون کے راستے سے ہمیں انصاف نہیں ملا تو ہم احتجاج پر نکلے۔ اگر ہمیں فوج کو بلانا ہوتا تو انتخابات ماننے سے ہی انکار کردیتے۔ انہوں نے کبھی فوج کو بلانے کی بات نہیں کی، فوج ملک کے مسائل کا حل نہیں، درحقیقت نواز شریف اپنی دھاندلی چھپانے کے لئے فوج کے چھپ رہے ہیں۔ اگران کا مینڈیٹ صحیح ہے تو وہ دوبارہ انتخبات سے کیوں ڈر رہے ہیں۔


Category: پاکستان
Published on 11 August 2014

صورتحال کا ٹھنڈے مزاج سے حل نہ نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، گیلانی

کراچی: سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ حکمران جلسے جلوسوں سے خوف زدہ ہوگئے ہیں تاہم اس صورتحال کا ٹھنڈے مزاج سے حل نکالا جائے ورنہ جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آئین کے تحت سب کو پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے، نوازشریف اور طاہرالقادری نے ہمارے دور میں بھی اسلام آباد میں جلسے کیے اور ہم نے اس وقت صورتحال کو سنبھالا لیکن اس وقت حکومت کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے اور حکمران جلسے جلوسوں سے خوف زدہ ہوگئے ہیں جبکہ جلسے جلوس جمہوریت کا حسن ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فریقین اپنی رائے پر ڈٹ جائیں تو تصادم ہوگا جبکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کا حل ٹھنڈے مزاج سے نکالا جائے اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو ملک، جمہوریت اور پارلیمنٹ کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک آئین کے مطابق نہیں چلا گیا تو مسئلہ پیدا ہوگا اور حکمرانوں نے پارلیمنٹ پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔


Category: پاکستان
Published on 11 August 2014

موجودہ صورتحال کی وجہ کسی حد تک پرویز مشرف بھی ہوسکتے ہیں، خواجہ آصف

لاہور: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال پرویز مشرف کی وجہ سے نہیں تاہم وہ اس کی کچھ حد تک وجہ ہو بھی سکتے ہیں لیکن پرویز مشرف کے معاملے پر جو قانون اور عدلیہ فیصلہ کرے گی ہم قبول کریں گے جبکہ عمران خان اور طاہرالقادری اقتدار کے بھوکے ہیں یہ لوگ کتنے ہی مارچ کرلیں حکومت کو ختم نہیں کرسکتے ہم پانچ سال مکمل کرکے جائیں گے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام  ’’کل تک‘‘ میں  بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری مذہب کے نام پر دکان چلا رہے ہیں وہ اپنے آپ کو شہادت کے رتبے پر فائز کرنا چاہتے ہیں لیکن شہادت ایسے فسادیوں کو نہیں ملتی بلکہ ملک کے لیے جانے دینے والوں کو ملتی ہے اور اگر اس طرح کے لوگ بھی شہید ہونے لگے تو پھر طالبان بھی شہید ہی کہلائیں گے جبکہ ہمارے نزدیک پاک فوج کے وہ جوان شہید ہیں جو ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج جو انقلاب لانے کی باتیں کررہے ہیں یہ لوگ مشرف کے ساتھ حکمران رہے ہیں اور ان انقلابیوں کی اوقات محض فقیروں کی طرح ہے یہ لوگ کتنے ہی آزادی یا انقلابی مارچ کرلیں حکومت کو کچھ نہیں ہوگا اور ہم پانچ سال پورے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ انقلابی مارچ والے خود ہی لوگوں کی لاشیں گرائیں گے لیکن ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرے اور ہم اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان ساری عمر بالر رہے ہیں اور انہیں اپیل کرنے کی عادت ہے اور وہ ابھی تک اس صورتحال سے نہیں نکلے لیکن انہیں سمجھ آنا چاہئے کہ ریاستیں خواہشات پر نہیں آئین و قانون پر چلتی ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان آج اپنی دس نشستوں کے مطالبے کوئی ماننے کو تیار نہیں جبکہ ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا یا نہیں، یہ لوگ ہر دن اپنے مطالبات تبدیل کرتے ہیں اور اپنی جگہ کھڑے نہیں رہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری اور عمران خان اقتدار کے بھوکے ہیں، عمران خان 24 سال سے اقتدار میں آنے کے لیے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں جبکہ طاہرالقادری اور عمران خان دونوں انا پرست بھی ہیں، عمران خان 200 سیٹوں کی سونامی کا خواب لے کر چلے تھے لیکن انہیں 2 درجن سیٹیں ملیں تو وہ حواس باختہ ہوگئے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری نے جس طرح مذہب کا مذاق بنایا ہوا ہے ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے جبکہ وہ خود بھی قانون کو اپنی طرف آنے کی دعوت دے رہے ہیں اگر ان کی گرفتاری کی نوبت آئی تو ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام صورتحال پرویز مشرف کی وجہ سے نہیں تاہم وہ اس کی کچھ حد تک وجہ ہو بھی سکتے ہیں لیکن پرویز مشرف کے معاملے پر جو قانون اور عدلیہ فیصلہ کرے گی ہم قبول کریں گے اگر عدالت نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا اور قانون میں گنجائش ہوئی تو ہم اس کے خلاف اپیل کریں گے ورنہ انہیں کسی ذاتی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا کیونکہ مشرف کا معاملہ اب حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے کا کہ ہم قانون میں برابری کا اصول لانا چاہتے ہیں تاکہ عام آدمی اور پرویز مشرف قانون کی نظر میں برابر ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کے لئے یہ سرمایہ چھوڑ کر جائیں، عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے ہم پانچ سال گزار کر جائیں گے جس نے جو مارچ کرنا ہے سب اپنا شوق پورا کرلیں لیکن یہ سب وقت گزر جائے گا، ہم نے جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور ہماری تاریخ ہے،نوازشریف نے جلا وطنی کاٹی ہے لیکن ان لوگوں کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک 35 سال سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور یہ بیج جنرل ضیا الحق کے دور میں بوئے گئے جس کے کسی حد تک ذمہ دار ہم بھی ہیں لیکن آج پاک فوج اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے قربانیاں دے رہی ہے تو ہمیں اس وقت اس قسم کا تماشہ لگانے والوں کی نیت پر شک ہے  یہ لوگ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈال کر ہمارے ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ ہونے کا تاثر دینا چاہتے ہیں  کیونکہ یہ بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی،عمران خان اور طاہرالقادری اسلام آئیں ہمیں کوئی پریشانی نہیں، ان کے مطالبات کے لئے ایک کمیٹی بنادی گئی ہے کیونکہ آئین وقانون کے دائرے میں مطالبات کو ماننا ہمارا فرض ہے لیکن آئین سے ماورا کسی بھی سازش یا ایجنڈے کا مقابلہ کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان طالبان کے حمایتی رہے ہیں جبکہ طاہرالقادری کو خود نہیں پتا وہ کس کے حمایتی ہیں،دو مارچیے ہم سے اقتدار چھیننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن نوازشریف اورشہبازشریف سمیت سب لوگ منتخب نمائندے ہیں ہم کسی کے مطالبے کسی صور استعفیٰ نہیں دیں گے۔


Category: پاکستان
Published on 10 August 2014

جینا مرنا یہیں ہے پاکستان چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا، پرویز مشرف

اسلام آباد: سابق صدر مملکت جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کا کہنا ہے کہ ان کا جینا مرنا یہیں ہے وہ پاکستان چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے اور اپنے خلاف قائم تمام مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

اسلام آباد میں آل پاکستان مسلم لیگ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 برس سے عوام مشکلات کا شکار ہیں،ملک میں کوئی ترقی نہیں ہورہی، ملک کی معیشت کی حالت بدترہوگئی ہے،روپے کی قدرمزید گرگئی ہے، عوام کو نوکریاں نہیں مل رہی، ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو واپس پٹڑی پر لانے کا سوال ہمارے سامنے ہے، ایسی صورت حال میں سب کو پاکستان کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف جھوٹے اوربے بنیاد مقدمات درج ہیں وہ ان تمام مقدمات کا عدالتوں میں ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ ان کی طبیعت کافی بہتر ہے تاہم ایک میڈیکل ٹیسٹ ہے جو بیرون ملک ہونا ہے، انہیں بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ پاکستان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے ان کا جینا مرنا یہیں ہے۔