Category: پاکستان
Published on 21 August 2014

حکومت اور فریقین کی لڑائی جاری رہی تو کھیل ختم اور سب کو گھر جانا ہوگا، سراج الحق

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور عوامی  تحریک سیاسی لوگ ہیں اس لیے انہیں سیاسی راستہ نکالنا ہوگا اسی میں ان کی کامیابی ہے جبکہ دونوں کے پاس وقت بھی بہت کم ہے اگر اسی طرح لڑائی جاری رہی تو کھیل ختم ہوگا اور سب کو گھر جانا ہوگا۔

اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ تحریک انصاف کے کچھ مطالبات جائز ہیں جن کی حمایت کی ہے تاہم عمران خان سے رات کو ملاقات میں بھی درخواست کی کہ مذاکرات کو کامیاب بنایاجائے، مذاکرات کے تعطل سے افسوس ہوا لیکن ان کی فوری طور پر بحالی چاہتے ہیں کیونکہ اسلام آباد اس وقت محاصرے میں ہے اور پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں بحران کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت بہت غیر مستحکم ہے، اسے مضبوط کیا جائے اور بچایا جائے اس لیے تنازعات میں پڑنے کی بجائے اتفاق کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس وقت اپنی ذات سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنا وقت کا تقاضہ ہے،فریقین کو مذاکرات کرنا ہوں گے کیونکہ دونوں سیاسی لوگ ہیں، انہیں سیاسی راستہ نکالنا ہوگا اور دونوں کے پاس وقت بھی بہت کم ہے اس لیے جتنی جلدی نتیجے پر پہنچا جائے اسی میں کامیابی ہے اگر اسی طرح لڑائی جاری رہی تو کھیل ختم ہوگا اور سب کو گھر جانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جنون اور حکومت کو ایک میز پڑ بٹھایا ہے اب چاہتے ہیں کہ لڑنے کے بجائے مذاکرات کے تسلسل کو آگے بڑھائیں اور قوم کو اس بحران سے نکال کر سمجھ داری کا ثبوت دیں، بیرون ملک پاکستانی ملکی صورتحال پر بے حد پریشان ہیں، عوام کی زندگی رک چکی ہے، تمام لوگ اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں اس لیے کوئی ایسا باعزت راستہ نکالا جائے جو عوام کے حق میں ہو۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عمران خان،طاہرالقادری اور حکومت جو کررہے ہیں ان کا ہر اقدام قوم کے سامنے ہے، ہم سب نے عوام کے سامنے جانا ہے اس لیے فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے کہ کس نے کیا غلط اور کیا ٹھیک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال پر کسی کے خلاف فتوے دینا نہیں چاہتے بلکہ بحران سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن کچھ عناصر ایسے ہیں جو جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں اور لاشوں کے منتظر ہیں تاکہ وہ سیاسی مجاور بن سکیں لیکن ہم نے دونوں فریقین کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے جو مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کوئی بھی جماعت وزیراعظم کے استعفے کی حامی نہیں ہے،جمہوری اور سیاسی قوتیں ایک صف میں کھڑی ہیں،تمام جماعتیں پارلیمنٹ کے حق میں ہیں اور غیر جمہوری دھرنے دینے والے سیاسی طور پر تنہا ہیں جبکہ عوام کے ساتھ تاجروں نے بھی عمران خان کی سول نافرمانی کی تحریک کو مسترد کردیا ہے۔


Category: پاکستان
Published on 21 August 2014

Islamabad sit-ins: PPP expresses concern over govt's 'high-handed' tactics

KARACHI: The Pakistan Peoples Party (PPP) has expressed concern over what they termed the “short-sighted” and “high-handed” tactics of the government in dealing with the long marchers, led by the Pakistan Tehreek-e-Insaf and the Pakistan Awami Tehreek, in Islamabad.

The largest opposition party held a meeting in Dubai to discuss the country’s political situation late Wednesday night, and urged all parties involved to resolve their issues without recourse to violence and disruption of public life.

During the meeting, was jointly chaired by Co-Chairperson of the PPP Asif Ali Zardari and Patron-in-chief Bilawal Bhutto, Zardari stressed that the current political crisis be addressed through dialogue and within the framework of the Constitution.

The meeting also condemned the murders in Model Town, Lahore, on June 17, 2014, and demanded that an FIR be expeditiously registered in accordance with the law.

The party observed that any unconstitutional path taken to resolve the current stalemate would be detrimental to the future of democracy and stability in Pakistan.

The co-chairman noted with concern that instead of focusing on providing relief to a million citizens of North Waziristan, who have been displaced following the ongoing military offensive in the region, both the provincial and federal governments have entangled themselves and Pakistan in a protracted dispute that was eminently avoidable.

He lauded the services and sacrifices of the brave soldiers who were fighting on the front lines of terrorism, and hoped that the country would soon be rid of this menace.

During the meeting, party members said that the long overdue electoral reforms should be taken up by a parliamentary committee to and completed after broad consultation, within a stipulated time frame.

PPP leaders also demanded that the kidnapped sons of Yousaf Raza Gilani and late Punjab governor Salmaan Taseer be recovered as soon as possible.

Zardari valorised the services of Gilani, and his family’s sacrifices in support of the party as well as democracy. The party recalled the sacrifices made by its leaders,  Zulfiqar Ali Bhutto and Benazir Bhutto, and innumerable party workers who laid down their lives in order keep democracy alive in Pakistan.


Category: پاکستان
Published on 16 August 2014

پنجاب حکومت کا وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کیخلاف مقدمے کے حکم کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے سیشن کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سمیت 22 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے ماتحت عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی اپیل پیر کے روز دائر کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس کو سیشن کورٹ کا تحریری فیصلہ موصول ہوگیا جس کا مختلف قانونی پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے پنجاب حکومت سیشن کورٹ کے فیصلے خلاف اپیل میں ایک ہی واقعے کی دو ایف آئی آر درج نہ ہونے کا موقف اپنائے گی اور فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔


Category: پاکستان
Published on 16 August 2014

سانحہ ماڈل ٹاؤن؛ عدالت کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

لاہور: سیشن کورٹ لاہورنے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سمیت 22 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیشن کورٹ لاہور میں تحریک منہاج القرآن کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف،سابق وزیر قانون رانا ثنااللہ  سمیت 22 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا  جبکہ سانحہ کے خلاف مقدمے میں پولیس حکام اور بیورو کریسی کے افسران کو بھی نامزد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا  کہ تھانہ فیصل ٹاؤن پولیس مقدمے کے اندراج کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرے اور سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے.

دوسری جانب سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوادی ہے جس کے موصول ہونے کی تصدیق ترجمان پنجاب حکومت کی جاب سے کردی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں کسی کو واضح طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا  تاہم رپورٹ میں پنجاب حکومت کے محکموں کو غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹرطاہرالقادری کی رہائش گاہ کے اطراف سے بیریئر ہٹانے کے معاملے پر پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنان میں شدید تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے 14 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد افراد  زخمی ہوگئےتھے۔