Category: پاکستان
Published on 21 August 2014

چوہدری برادران سے امریکی اور چینی سفیروں کی ملاقاتیں

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم  کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی  سے امریکی اور چینی سفیر وں نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جس میں موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں تعینات چینی اور امریکی سفیر نے چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر ان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور ملک میں جاری سیاسی صورت حال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی محمکہ خارجہ کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ  نواز شریف ایک منتخب وزیراعظم ہیں ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے سے وفاقی دارالحکومت میں جاری دھرنوں کے باعث سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور  تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر  بیٹھ گئی ہیں۔


Category: پاکستان
Published on 21 August 2014

عمران خان اور طاہرالقادری کا ایک ساتھ دھرنا اور مذاکرات پر راضی ہونا معنی خیزہے، آفتاب شیرپاؤ

اسلام آباد: قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کہتے ہیں کہ طاہرالقادری اور عمران خان کا ایک ساتھ ہی مختلف اقدام اٹھانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں دھکا کس نے دیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ چند ہزار لوگ پارلیمنٹ کو یرغمال بنائیں، ملک کی معیشت تباہ ہوجائے اور بین الاقوامی معاہدات و سمجھوتوں میں خلل آئے، یہ ہمارے لئے بہت ہی بدقسمتی ہے کہ ملک میں جاری احتجاج کے باعث سری لنکا کے صدر نے اپنا سرکاری دورہ ملتوی کردیا۔ وہ حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہیں کہ اس نے بڑے تحمل کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کیا۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے آئین، جمہوریت اور اس منتخب ایوان کا ساتھ دیا۔ حکومت کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتیں بھی پرعزم ہیں کہ اس ایوان کو چلنا چاہیئے۔

آفتاب احمد شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری اور عمران خان کا ایک ساتھ لاہور سے نکلنا، ایک ہی روز اسلام آباد پہنچنا، ایک ہی وقت ریڈ زون میں داخل ہونا اور ایک دن دونوں کا ایک ہی وقت پر مذاکرات کے لئے رضامند ہونا کئی سوالات جنم دیتا ہے کہ کہیں انہیں دھکا دینے والا ایک ہی تو نہیں۔ کیا وہ انہیں ہدایات دینے والا فون خاموش ہوگیا یا پھر یہ سب انہوں نے مفروضوں کے تحت کیا اور ناکامی پر اب مذاکرات کی جانب بڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہزار لوگ اس ملک کے عوام کو یرغمال نہیں بناسکتے۔ ایک ہی سال بعد وزیراعظم عمران خان کی بات اب نہیں چلے گی۔ وہ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن بات چیت میں بھی ایک حد ہونی چاہیئے اور اس سے کسی کو تجاوز نہیں کرنا چاہیئے۔ سیاسی جماعتوں کو ایسے مطالبات نہیں کرنے چاہیئے جو صحیح نہ ہوں، وزیر اعظم نواز شریف صرف ایک سیاسی جماعت کی وجہ سے اس عہدے پر نہیں ہیں انہیں اس ایوان کی اکثر نمائندہ جماعتوں نے وزیراعظم تسلیم کیا۔ لوگوں نے تبدیلی کے لئےعمران خان کو ووٹ دیا لیکن اب لوگ اس سے مایوس ہوچکے ہیں۔


Category: پاکستان
Published on 21 August 2014

پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر تحریک انصاف کا کوئی بھی مطالبہ ماننا مشکل ہے، پرویز رشید

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت کو اپنے مطالبات پیش کردیئے ہیں لیکن پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ان کے کسی بھی مطالبے کو منظور کرنا مشکل کام ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ آج تحریک انصاف کی کمیٹی کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ مذاکرات کے لیے نہیں آئے تاہم ان کے مطالبات حکومت کو موصول ہوگئے ہیں لیکن ان کو پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر ماننا مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دھرنے کے شرکا پر کریک ڈاؤن کرنا ہوتا توبہت پہلے کردیا جاتا لیکن اس میں خواتین اور بچے بھی موجود ہیں جنہیں تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ شرکا کو اذیت سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے مذاکرات جاری ہیں اس وقت ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہئے جس کا دوسرا مفہوم نکالا جائے ، مذاکراتی عمل جیسے ہی کسی نتیجے پر پہنچے گا تو اس سے سب کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس دوران بہت تحمل سے کام لیا اور جس نے تماشہ لگانے کی کوشش کی وہ ناکام ہوگئے، ایک سوال کےجواب میں پرویز رشید نے کا کہا کہ مسلح افواج آئین  کے مطابق اپنا کردار ادا کررہی ہیں ،فوج وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہیں جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں اور ان ہی کی وجہ سے ہم آج خود کو زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بادشاہ کہنے والے جان لیں کہ پاکستان نے ایک سال میں جو ترقی کی اور ملک میں جتنی سرمایہ کاری ہوئی وہ سب وزیراعظم کی محنت کا نتیجہ ہے اگر وہ بادشاہوں والی زندگی گزارتے تو پاکستان آج اس نہج پر کھڑا ہوتا جہاں سے ہمیں ملا تھا لیکن وزیراعظم نے ایک سال مزدوروں کی طرح کام کیا جس کا پھل اب ملک کو ملنا شروع ہوگیا ہے لیکن کچھ لوگ اب اس کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔


Category: پاکستان
Published on 21 August 2014

سیاست میں فوجی مداخلت ماضی کا حصہ بن چکی اب ٹرپل ون بریگیڈ وزیراعظم کی حفاظت کرتی ہے، خواجہ آصف

لاہور: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے بعد سے آج تک فوج اپنی نئی روایات کو جنم دے رہی ہےاب ٹرپل ون بریگیڈ  وزیراعظم کی حفاظت کرتی ہے اور سیاست میں مداخلت کی فوجی روایت ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم نے دھرنے کے شرکا پر کسی قسم کا تشدد نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاست کے ذریعے ہی معاملات کا حل چاہتے ہیں لیکن کچھ لوگ وہاں پر لاشیں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ صورتحال خراب ہو اور نظام کو لپیٹا جائے۔ انہوں نے کہا  معاملے کا جلد سے جلد حل چاہتے ہیں اور اس سے ملک کو ناقابل تلافی معاشی نقصان ہوچکا ہے،غیر ملکی حکام کے دورے منسوخ کیے جاچکے ہیں جن کے ذریعے اربوں کے معاہدے کیے جانے تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دو تین لوگوں نے انا کا مسئلہ بناکر قوم کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے جبکہ ہمیں ان لوگوں نےمنتخب نہیں کیا جو ہم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں ہمیں عوام نے منتخب کیا اور وہی ہمیں گھر بھیجیں گے، وزیراعظم بھی کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے ،آئین میں صدر اور وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا طریقہ کار موجود ہے اور اسے ہی اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ساری عمر کرکٹ کھیلی، اگر ان کی اپیل نہیں مانی جاتی تو کیا وہ پچ پر لیٹ جاتے تھے یا پھر عوام سے میدان کے اندر داخل ہونے کا کہتے تھے لہٰذا انہوں نے جس طرح قواعد کے ساتھ کرکٹ کھیلی اسی طرح سیاست بھی کریں کیونکہ ہم  دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ایک جمہوری قوم ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عمران خان کو دیکھ کر عوام کو سکندر یاد آگیا ہے، سیاسی لیڈر کی اتنی اہمیت ہونی چاہئے کہ اسے گانے بجانے والے نہ بلانا پڑیں، عمران خان جس زبان کا استعمال کرکے لوگوں کی تربیت کررہے ہیں یہ سیاسی لوگوں کا کام نہیں، اس سے ان کی شہرت اور اعتماد میں کمی آرہی ہے اور عمران خان اگر نوازشریف کو قتل کرنے کی دھمکی دیں گے تو ہمارے کارکنان کی طرف سے بھی رد عمل آسکتا ہے لیکن ہم کسی بھی تشدد کی مذمت کرتے ہیں،عمران خان کو اس وقت اپنے اوپر بھی اختیار نہیں ان پر خواہشات غالب آچکی ہیں، وہ لوگوں کا مشورہ نہیں مانتے اور اپنی انا منواتے ہیں جو قوم بھی دیکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد کو کارروائی نہ کرنے پر ہٹانے کی بات درست نہیں بلکہ حکومت نے تحریک انصاف کے ایک وزیر کے عزیز کو آئی جی لگایا جس سے اس کی نیک نیتی ثابت ہوتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان یا ان کے کارکنان کی گرفتاری کا کوئی آپشن زیر غور نہیں اگر ایسا ارادہ ہوتا تو بہت پہلے کردیتے۔ وزیراعظم کے استعفے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان کو چار سال کے لمبے عرصے تک کنٹینر میں رہنا پڑے گا کیونکہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے اور انتخابات کے بعد ہی جائیں گے اب یہ عمران خان اور حکومت دونوں کے لیے آزمائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ یکجا ہے اور عدلیہ آزاد ہے جس پر عمران خان کو بھی اعتماد ہے جبکہ پرویز مشرف کےبعد سے آج تک فوج اپنی نئی روایات کو جنم دے رہی ہے،ٹرپل ون بریگیڈ اب وزیراعظم کی حفاظت کرتی ہے، سیاست میں مداخلت کی فوجی روایت اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے جو ایک بڑی تبدیلی ہے ہمیں اس نئے پاکستان کو آگے بڑھانا ہے اور ان روایات کو مضبوط کرنا ہے تاکہ کوئی ان کو ختم نہ کرسکے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان بہت جلدی اپنے بیانات بدلتے ہیں، دنیا جانتی ہےکہ وہ شیخ رشید اور چوہدری برادران سےمتعلق کیا کہتے تھے تاہم ان کے مطالبات پر غور کررہے ہیں اگر کسی قانون میں تبدیلی کی گنجائش ہوئی تو اسے تبدیل کیا جائے گا لیکن آئین سے انحراف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ذاتی مقاصد کیلئے اذیت میں مبتلا کردیا گیا ہے ،لیڈر ایئرکنڈیشن کنٹینروں میں سوتے ہیں جبکہ کارکنان باہر بے یارومددگار پڑے ہیں، ڈاکٹرطاہرالقادری جن لوگوں کے گرفتارہونے کی بات کرتے ہیں ان کی فہرست فراہم کریں جو غیر قانونی طور پر قید میں ہیں ان کی رہائی کی ضمانت دیتا ہوں۔

خواجہ آصف نے کا کہ اگر معاملات درستگی کی طرف جائیں اورقومی معاملات درست ہوسکیں تو وزیراعظم نوازشریف،طاہرالقادری اور عمران خان سے ملنے جاسکتے تھے ان میں انا کا کوئی مسئلہ نہیں ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاست کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں، اس تمام صورتحال میں ملک وقوم کا نقصان ہورہا ہے، خیبرپخونخوا کی انتظامیہ اسلا آباد میں بیٹھی ہے اور صوبے کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے،جس طرح معاملات غیر سنجیدگی سے چلائے جارہے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے، تحریک انصاف کے لوگ عمران خان کو صحیح مشورہ دیں اور انہیں سمجھائیں کہ یہ راستہ مفاد کے مطابق نہیں بلکہ ملک وقوم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔