خطے میں امن کی کوششیں جاری رکھیں گے مگر کسی کی اجارہ داری یا تسلط قبول نہیں، چوہدری نثار

لندن: وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا مگر کسی ملک کی اجارہ داری یا تسلط قبول نہیں کیا جائے گا جب کہ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔

لندن میں وزیر داخلہ چوہدری نثار نے برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس دوران برطانوی وزیر خارجہ  نے خطے میں پاکستان کی امن کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ وزیر اعظم نواز شریف کے امن کے ویژن کا اعتراف کرتا ہے اورافغانستان میں مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مذاکراتی عمل میں کوئی خلل نہیں آئی گا اور یہ عمل مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات میں چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی قسم کی غلط فہمی کی نہ تو کوئی گنجائش ہے اور نہ ہم آنے دیں گے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنے پر بھی زور دیا جس پر وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ بھارت کی عجیب منطق ہے کہ وہ بنیادی مسئلہ کشمیر پر بات سے انکاری ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیری رہنماؤں اورمسئلہ کشمیر کا نام ہی نہ لیا جائے لیکن یہ صورتحال پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے اسی لیے بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے بغیر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور اس کے دفاعی اداروں نے مل کرافغانستان میں ڈائیلاگ اور بات چیت کی راہ ہموار کر کے نا ممکن کو ممکن بنایا لیکن ہر مسئلے پر بلا جواز پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانا اور کٹہرے میں کھڑا کرنا کسی صورت قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے دوسرے ممالک کو اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈالنے سے اجتناب کرنا ہوگا، پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا مگر کسی ملک کی اجارہ داری یا تسلط قبول نہیں کیا جائے گا۔