Published on 04 August 2017

قیادت کے سا منے سچ بولتا رہوں گا، چوہدری نثار

 
اسلام آباد...سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہاہے کہ آئندہ چند دنوں میں وضاحت کروں گا کہ کابینہ میں شامل کیوں نہیں ہوا۔روات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے لیکن گالم گلوچ کی سیاست ہورہی ہے۔ یہاں جھوٹ اور سچ میں تمیز بہت تھوڑی رہ گئی۔ لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا کہ سچ کون بول رہا ہے اورجھوٹ کون بول رہا ہے۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ ملک میں حکومتوں کو خوشامد کا کلچر کھا گیا ۔ اصل وفاداری یہ ہے لیڈر کے سامنے خوشامد نہ کی جائے بلکہ سچ بات کی جائے ۔ سچ بات کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف سے وزیراعظم کا عہدہ تو لے لیا گیا مگر لیڈری کوئی نہیں لے سکتا۔ مشکل ترین وقت میں پارٹی اورملک کومشکل حالات سے نکالنا ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ خود کوپاکستان کا خوش قسمت ترین شخص سمجھتا ہوں کہ عوام میرے ساتھ ہیں عزت عہدوں میں نہیں کردار میں ہوتی ہے۔

Published on 04 August 2017

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کا میڈیا سیل اسلام آباد سے لاہور منتقل

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کا میڈیا سیل اسلام آباد سے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔ سول خفیہ اداروں کی معاونت حاصل معلومات اکٹھا کرنے کے لئے گروپ قائم کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا نیٹ ورک بھی بنے گا ارکان آبائی علاقوں میں کام کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کی کمانڈ میں چلنے والا میڈیا سیل جو اسلام آباد سے چلایا جاتا تھا اب لاہور سے ملک گیر آپریشنز لانچ کرے گا جس کو سیاسی اور سرکاری مخالفین کا ڈیٹا ازسرنو مرتب کرنے کے لئے سویلین خفیہ اداروں کی معاونت حاصل ہو گی جبکہ براہ راست انفارمیشن اکٹھا کرنے کے لئے غیر سرکاری گروپ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے ۔

 

باخبر سرکاری ذرائع نے روزنامہ 92 کو بتایا ہے کہ سابق وزیرا عظم کی صاحبزادی کی سربراہی میں چلنے والا میڈیا سیلاب لاہور سے چلایا جائے گا جس کے لئے پرانے ممبران کے علاوہ ان میں نئے لوگ بھی رکھے جا رہے ہیں۔ پاناما کیس میں سابق وزیراعظم کی نا اہلی اور ان کے خاندان کے لوگوں کے خلاف ریفرنس کے اآ رڈر کے بعد شریف خاندان سوشل میڈیا اور خصوصا دیگر اور میڈیا پر مخالفین کے خلاف ایک جارحانہ مہم چلانے کے ارادے کے تحت میڈیا سیل میں چند نئی چیزیں بھی شامل کی جا رہی ہیں۔

 

جن میں ایک ایسے سوشل میڈیا کا نیٹ ورک بنایا جا رہا ہے جس میں کام کرنے والے کئی ممبران کسی ایک آفس سے آپریٹ نہیں کریں گے بلکے اپنے اپنے علاقوں میں بیٹھ کرسیل کا کام کریں گے اور ان کو معاوضہ براہ راست پہنچایا جائے گا جس کا کوئی بینک ریکارڈ نہیں ہو گا ایسے نیٹ ورک میں اگرکوئی ممبرسائبر کرائم کو شکایت کے نتیجے میں پکڑا جائے گا تو اس کا براہ راست ن لیگ سے رابطہ جوڑنا مشکل ہو گا لیکن اس سارے آپریشن کو ایک میڈیا سیل منظم طریقے سے چلائے گا ۔

 

ریٹائیر افسران اور دوسرے درجے پر کام کرنے والے خفیہ اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل ایک غیر سرکاری اور غیر اعلانیہ انفارمیشن اکٹھا کرنے کا گروپ تشکیل دیا جا رہا ہے جو اس میڈیا سیل کے لئے کام کرئے گا۔ جب اس سیل کو کوئی اطلاع سویلین خفیہ اداروں سے ہٹ کر حاصل کرنی ہو یا ڈبل چیک کرنی ہو تو اس گروپ کا استعمال کیا جائے گا اس گروپ کو خفیہ انفارمیشن اکٹھا کرنے کے لئے ایکوپمینٹ بھی مہیا کیے جائے گے ۔

 

باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق میڈیا سیل کا سامان اسلام آباد سے لاہور منتقل ہو چکا ہے۔ جبکہ مزید نئے ایکوپمینٹ بھی خریدے جا رہے ہیں اس سیل کے سب آ فس لاہور کے پوش علاقوں جن میں ماڈل ٹاون ڈیفنس اور جوہر ٹاون سے کام کریں گے ۔ ان سے جڑے ممبران کا کوئی سیاسی بیک گراونڈ نہ ہو گا اور نہ ہی یہ پارٹی کے کسی رہنما سے رابطے میں ہوں گے ان کا رابطہ صرف پارٹی کی ہائی کمانڈ کے چند بڑوں سے ہو گا۔

 

میڈیا سیل کا پرائم سیاسی ٹارگٹ تحریک انصاف ہو گی جبکہ دیگر جماعتوں میں عوامی تحریک سرفہرست ہے ۔میڈیا سیل نے ریہرسل کے لئے سویلین خفیہ اداروں سے اپنے سیاسی مخالفین عسکری اور عدلیہ کے ٹارگٹس سے متعلق پروفاوئل مانگ لئے ہیں تا کہ ٹویٹر اور فیس بک پر بنائے گئے ڈمی اکا ونٹس کے ذریعے نئے حملے کئے جا سکیں حکمران جماعت نے ایسا میڈیا سیل پنجاب میں قائم کیا تھا جو کلب روڈ کے کچھ دفاتر سے چلایا جاتا تھا اور اس میں کام کرنے والے ممبر کی تنخواہ کم ازکم ڈھائی لاکھ روپےتھی۔


Published on 04 August 2017

وزیر اعظم نے وزراء کے غیر ضروری بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کر دی

 

وزیر اعظم خاقان عباسی نے وزراء کے کام کے طریقہ کار سے متعلق ہدایات جاری کر دیں۔ وزیر اعظم نے وزراء کے غیر ضروری بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئی وزیر انتہائی ضروری وزارتی کام کے علاوہ بیرون ملک جانے کی چھٹی نہ مانگے۔انتہائی ضروری کام کے سلسلے میں بیرون ملک سفر درکار ہو تو وزیراعظم کو پیشگی اطلاع دی جائے۔

 

ہدایات کے مطابق ایک ہی وقت میں وفاقی وزیر اور وزیر مملکت بیرون ملک سفر پر نہیں جا سکتے۔اور اگر دونوں کا ایک ساتھ سفر ناگزیر ہو تووزیراعظم آٖفس میں پیشگی اطلاع دی جائے۔مزید یہ کہ غیر ملکی درہ صرف سرکاری ضروریات کے تحت کیا جائے گا۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزرا بااختیار ہیں کہ وزیر مملکت یا سیکرٹری کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے سکیں۔ وزیر اعظم نے تمام جاری منصوبوں کو شفافیت سے بروقت مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ تمام وزرا جان فشانی سے کام شروع کردیں۔

Published on 04 August 2017

47 رکنی وفاقی کابینہ نے عہدوں کا حلف اٹھالیا

عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیرہوں گے: فوٹو: اسکرین گریب

 

 اسلام آباد: ایوان صدرمیں نئی وفاقی کابینہ کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی جس میں صدرمملکت ممنون حسین نے 47 رکنی وفاقی کابینہ سے عہدوں کا حلف لیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق ایوان صدرمیں 46 رکنی وفاقی کابینہ نے عہدوں کا حلف اٹھالیا۔ صدرمملکت ممنون حسین نے وفاقی کابینہ کے نئے ارکان سے حلف لیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کےارکان کی تعداد 46 ہے جس میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال، سعدرفیق، عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیرمقررہوگئے۔ وفاقی وزرا میں خرم دستگیر، راناتنویر، اکرم درانی، سکندرحیات بوسن، پیرصدرالدین، شیخ آفتاب ، کامران مائیکل، مرتضیٰ جتوئی، ریاض پیرزادہ، برجیس طاہر، زاہد حامد، حاصل بزنجو، سرداریوسف جب کہ مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، جام کمال، امین الحسنات وزرائے مملکت مقررکیے گئے ہیں۔

 

 

عابدشیرعلی انچارچ وزیرمملکت، عثمان ابراہیم، جعفراقبال وزیرمملکت مقرراحسن اقبال وزیرداخلہ، خواجہ آصف وزیرخارجہ مقرر ہوگئے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار، خرم دستگیر وزیردفاع ، مشاہداللہ وفاقی وزیرکلائمیٹ چینج جب کہ پچھلی حکومت کے 2 وزرائے مملکت کووفاقی وزیربنادیا گیا۔ سائرہ افضل تارڑوفاقی وزیرصحت، بلیغ الرحمان وفاقی وزیرتعلیم مقررہوگئے۔ وزارت پانی وبجلی کوتوڑدیا گیا، پٹرولیم اورپاورکوملا کرنئی وزارت توانائی بنادی گئی جس کے انچارج وزیرعابدشیرمقررکردیئے گئے۔ سید جاوید علی شاہ آبی ذرائع کے وزیر، طلال چودھری وزیرمملکت داخلہ، مریم اورنگزیب انچارج وزیرمملکت برائے اطلاعات مقررہوگئیں۔

اس خبر کو پڑھیں: چوہدری نثار کا وزیر بننے سے انکار

پرویزملک وزیرتجارت، طارق فضل چودھری وزیرکیڈ، محسن شاہ نوازرانجھا، عبدالرحمان کانج، دانیال عزیزوزیربرائے امور کشمیر، جنیدانورچودھری وزیرمملکت جب کہ عثمان ابراہیم وزیرمملکت برائے قانون مقررہوگئے۔

ڈاکٹردرشن لعل وزیرمملکت برائے بین الصوبائی رابطہ اورفاٹا سےاکرام خان وزیرمملکت برائےسیفران ہوں گے۔ جنوبی پنجاب کے وزرا میں اویس لغاری، ارشد لغاری، حافظ عبدالکریم، عبدالرحمان کانجو، جاویدشاہ شامل ہیں جہاں  اویس لغاری سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر جب کہ پلاننگ ڈویژن وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کےماتحت رہے گا۔

نوازشریف کی کابینہ میں 20 وفاقی وزرااور9 وزیرمملکت تھے، سینیٹرصلاح الدین ترمزی اینٹی نارکوٹکس کے وفاقی وزیر ہوں گے، ٹیکسٹائل کی الگ وزارت ختم کرکے تجارت کےساتھ منسلک کردیاگیا، پوسٹل سروسزکومواصلات سے الگ کرکےعلیحدہ وزارت بنا دیا گیا جب کہ  وزارت پانی وبجلی کوبھی 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ جنوبی پنجاب سے کل 8 وزیرہوں گے 5 نئے وزیربنائےگئے جب کہ 3 پرانے وزیرنے بھی دوبارہ حلف اٹھالیا۔