Published on 31 August 2015

کردارصاف ہے استعفیٰ نہیں دیں گے، صوبائی اراکین الیکشن کمیشن

اسلام آباد: الیکشن کمیشن کے صوبائی ممبران نے چیف الیکشن کمشنر پر واضح کردیا ہے کہ ان کا کردار صاف ہے اس لئے وہ کسی بھی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا محمد کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کے ممبران کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن ممبران کے استعفے کے مطالبے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر تمام ممبران نے چیف الیکشن کمشنرکوکہا کہ ہم نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا جب کہ ہمارے کردار پر کسی ممبر نے انگلی تک نہیں اٹھائی اس لئے چیف الیکشن کمشنراپنے پیروں پرکھڑے ہوں اور کمیشن کی بات عام کریں۔

ممبران الیکشن کمیشن نے سردار رضا محمد پر واضح کیا کہ ہمارا کردار صاف ہے اس لئے استعفیٰ نہیں دیں گے اور آرٹیکل 209 کے تحت موجود ہیں اور اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اگر کسی سیاست دان کو شوق یا شکایت ہے تو وہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں اورثبوت پیش کریں تاہم کسی کے مطالبے یا دباؤ میں آکراستعفیٰ نہیں دیں گے اوریہ روایت ڈالنا کسی صورت درست اقدام نہیں۔


Published on 31 August 2015

این اے 122 اور این اے 154 میں 11 اکتوبر کو ضمنی انتخابات کا اعلان

سلام آباد: الیکشن کمیشن نے این اے 122 لاہور اور این اے 154 لودھراں  میں ضمنی انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے این اے 122 لاہور اور این اے 154 لودھراں میں 11 اکتوبر کو ضمنی انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دونوں حلقوں کے لئے امیدوار کاغذات نامزدگی 10 اور 11 سمتبر کو جمع کرا سکتے ہیں جب کہ کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل 14 اور 15 ستمبر کو ہو گا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوار 17 سمتبر تک اپنے اعتراضات جمع کرا سکتے ہیں جب کہ ٹریبونلز اپیلوں  پر فیصلہ 19 سمتبر کو جاری کر دیں گے اور 21 ستمبر کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ الیکشن ٹریبونلز نے چند روز قبل ہی این اے 122 لاہور سے سردار ایاز صادق اور این اے 154 لودھراں سے صدیق خان بلوچ کی کامیابیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔


Published on 30 August 2015

50 برس بعد بھی بھارتی جنگی جنون میں فرق نہیں آیا

اسلام آباد: 1965کے تاریخی حقائق کا آج 2015 سے موازنہ کیا جائے تو بھارتی جنگی جنون اورجاحانہ عزائم میں کوئی فرق نہیں نظرآیا۔

اس وقت بھی مشرقی سرحدوں پر بھارتی افواج کی اشتعال انگیزیوں کاسلسلہ روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا، اس وقت بھی بھارتی اخباروں میں کشمیر کے بارے میں مشکوک کہانیاں اوران کی تشہیرکی جاتی تھی اورآج بھی بھارتی میڈیاکے ذریعے پروپیگنڈاجاری ہے۔

30اگست 1965ء کو آج ہی کے دن جاری ہونے والی میڈیا رپورٹس کااگر 2015ء سے موازنہ کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کاجنگی جنون بیگناہ کشمیریوں پر ظلم وستم،ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پرگولہ باری اورسول آبادی کو نشانہ بنانے کی روش آج بھی جاری ہے۔

30اگست 1965ء کوبھارتی اخبارمیں کشمیرکے بارے میں مشکوک کہانیاں اورانکی تشہیرکی گئی اورآج بھی بھارت اپنے مذموم مقاصد اورعزائم کے لیے بھارتی میڈیا کا سہارا لے رہا ہے۔


Published on 30 August 2015

پیپلزپارٹی کا الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی اراکین کے استعفوں تک ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا اعلان

اسلام آباد: پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی اراکین کے استعفوں تک ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے جب کہ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ (ن) لیگ کے ساتھ مزید مفاہمتی پالیسی نہیں چل سکتی۔

اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں بلدیاتی الیکشن اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے بات ہوئی جب کہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی رہنما سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ شفاف الیکشن جمہوریت کی روح ہے کیوں کہ سارا ریاستی ڈھانچہ شفاف الیکشن پر ہوتا ہے جس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے لیکن یہ الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان کے استعفے سے مشروط ہے کیوں کہ الیکشن ٹریبونل نے حال ہی میں 3 حلقوں کے نتائج کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے بعد ان ارکان کے نیچے الیکشن کیسے ہوسکتے ہیں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور عوامی فیصلوں کی قدر کرتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان پر سب کو تحفظات ہیں اسی لیے ان ممبران کے رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا جب کہ اس معاملے میں قانون سازی بھی کرنی پڑی تو وہ بھی کی جائے گی۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں مںظور وٹو کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت کے حق میں ہیں لیکن (ن) لیگ مفاہمتی پالیسی سے روک رہی ہے اور ہمارے رہنماؤں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، پنجاب اور سندھ میں ہمارے رہنماؤں کو بلا جواز گرفتار کیا جارہا ہے لہٰذا اب اس حکومت کے ساتھ مزید مفاہمتی پالیسی پر نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر قسم کی کرپشن کے مخالف ہیں اور کرپشن کے پیسے کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں جب کہ دہشت گرد پاکستانی قوم کے دشمن ہیں ہم ان کے ساتھ کبھی صلح نہیں کرسکتے۔

منظور وٹو نے کہا کہ ہم بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور (ن) لیگ کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کریں گے جب کہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جانے کے لیے ہم کسی کی پیروی نہیں کریں گے تاہم چاروں صوبائی ارکان کے رہتے ہوئے ہم ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔