Published on 17 September 2015

مقالے میں 72 فیصد مواد چوری شدہ ہے

اسلام آباد: اگر کسی تعلیمی ادارے کا سربراہ خود ہی چوری کا مقالہ جمع کراکے جعلی ڈگری حاصل کرتا ہو تو پھر آپ اس ادارے کی تعلیمی قابلیت اور لئے جانے والے ٹیسٹ کے معیار کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق این ٹی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور کامسیٹس یونیورسٹی کے پروریکٹر ڈاکٹر ہارون الرشید نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے جو مقالہ جمع کرایا وہ طلبہ کا چورہ کردہ تھا۔ ایچ ای سی نے بھی ڈاکٹر ہارون الرشید کی جعلی ڈگری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقالے میں 72 فیصد مواد چوری شدہ ہے۔

ایچ ای سی نے21 اگست کو کامسیٹس یونیورسٹی کے حکام کو ایک خط لکھا جس میں ان سے ڈاکٹر ہارون الرشید کی ڈگری سے متعلق 90 روز میں جواب طلب کرلیا ہے تاکہ کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر ہارون الرشید نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے میں اسٹوڈنٹس کا تھیسز چوری کیا اور پھر حکومت کی جانب سے انہیں شاندار کارکردگی پر ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔


Published on 06 September 2015

فضل الرحمن حکومت اور متحدہ میں ثالثی سے دستبردار

پشاور /  اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پارٹی کی مرکزی شوریٰ کے شدید اعتراضات و تحفظات کے بعد حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ثالثی کے کردار سے پیچھے ہٹ گئے جس کے بارے میں وہ دونوں فریقین کو باقاعدہ طور پر آگاہ کریں گے۔

جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ کا 2 روزہ اجلاس ہفتے کو پشاور میں شروع ہوا تو اس میں مرکزی شوریٰ کے ارکان نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حکومت اورایم کیو ایم کے درمیان ثالثی کے کردار کے حوالے سے تفصیلی بحث کی اور اس موقع پر دونوں فریقین کے سخت رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمن سے کہا گیا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور فریقین کو اپنے طور پر معاملات حل کرنے دیں۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے پارٹی کی مرکزی شوریٰ کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو سیاسی افراتفری سے بچانے اور ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کی راہ روکنے کیلیے مرکزی حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ثالث بنے اور اس کیلیے انھوں نے نائن زیرو کا دورہ بھی کیا اور ان ہی کوششوں کے نتیجے میں حکومت اور ایم کیو ایم مذاکرات کی میز پر آبیٹھے، انھوں نے کہا کہ حکومت اور ایم کیو ایم نے سخت رویہ اپناتے ہوئے ان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

اس موقع پر شوریٰ کے ارکان نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا دورہ کرنے کے حوالے سے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ضلعی و تحصیل ناظمین اور نائب ناظمین کے انتخابی مرحلے کے دوران جے یو آئی کے ارکان کی جانب سے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اور بغاوت کرنے کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا اور مرکزی شوریٰ نے صوبائی قیادت کی جانب سے کی گئی کارروائی کی توثیق کی۔

علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ضلع چترال اور تحصیل کاٹلنگ کی کابینہ توڑتے ہوئے 4 رکنی کمیٹی قائم کردی جبکہ لکی مروت اور تورغر کے ضلعی کونسلروں کی بنیادی رکنیت کے خاتمے کے بعد ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، کمیٹی میں صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان ، مولانا عطا الرحمن، مولانا عطا الحق درویش اور راحت حسین شامل ہیں۔

جے یوآئی کی مرکزی شوریٰ نے بھی ان فیصلوں کی توثیق کردی ہے،ادھرآئی این پی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا اور فریقین کے لچک نہ دکھانے پر مولانا فضل الرحمن مایوس ہیں، مولانا فضل الرحمن کا موقف ہے کہ میرے کردار پر اعتماد کیا جانا چاہیے تھا۔

پارٹی کو یکجا رکھنے کیلیے اب ثالث بننے سے معذرت کرتا ہوں، آن لائن کے مطابق جے یو آئی کے ترجمان نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن ثالثی کے کردار سے دستبردار ہوگئے ہیں، حتمی اعلان پریس کانفرنس میں کریں گے ۔


Published on 06 September 2015

6 ستمبر65ء:بھارتی حملہ پسپا،حملہ آوردم دباکربھاگ نکلے

 اسلام آباد: 6 ستمبر 1965 کے قومی اخبارات میں شائع ہونیوالی خبروں کے مطابق بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا اور شدید گولہ باری کے بعد لاہور کے محاذ پر بھارتی فوج پاکستانی سرحد میں داخل ہوگئی۔

بھارتی حملہ پسپا کر دیا گیا، پاک آزاد فوجیں دریائے توی پار کرکے کئی میل آگے بڑھ گئی، پیش قدمی جاری ہے جبکہ گجرات‘ گجرانوالہ اور آزاد کشمیر پر بھارت کے فضائی حملہ کی کوشش ناکام بنا دی گئی‘ چند پاکستانی طیاروں نے دشمن کے 40 طیاروں کو مار بھگایا‘ وزیرآباد پر حملہ کرنیوالا ایک بھارتی طیارہ گرا لیا گیا، پاک فضائیہ کے کمانڈر انچیف نے کارروائی کی خود نگرانی کی۔

بھارتی فوج کا زبردست فوجی نقصان ہوا، کئی بھارتی فوجی گاڑیاں تباہ کردی گئیں، صدر ایوب خان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آگے بڑھو دشمن کو تباہ کردو۔6 ستمبر 1965ء کے قومی اخبارات میں شائع شدہ خبروں کے مطابق ماڈل ٹائون لاہور‘ باٹا پور‘ جلو اور وزیر آباد ریلوے سٹیشن پر بھارتی طیاروں نے حملے کئے اور بھارت کے حملے کے بعد پاکستان میں ہنگامی حالت کا اعلان اور ڈیفنس آف پاکستان رولز نافذ کردیا گیا ہے، وزیر آباد سٹیشن پر ایک مسافر ٹرین کو بھارتی ہوا بازو نے نشانہ بنا کر اپنی بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ایک رات کی طویل جنگ کے بعد جموں صوبہ کے سب سے مضبوط کنٹرول والے علاقے میں پاک فوج نے بھارت کو شکست دی۔

بھارتی فوج پست حوصلے کیساتھ فرار ہو گئی اور بھاگتے ہوئے بھاری تعداد میں زخمیوں کے علاوہ بھاری تعدار میں بارود اور ہتھیار بھی چھوڑ گئی۔ بھارتی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیاروں کو بھارتی علاقے سے پرواز کرنے کی ممانعت کی۔اس دن شائع ہونیوالی ایک خبر کے مطابق راولپنڈی کی تازہ ترین اطلاع مظہر ہے بھارت نے پاکستان کے علاقہ پر تین اطراف سے جو حملہ کیا تھا وہ پسپا کردیا گیا ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔ اس دن انڈونیشیا کی پارلیمنٹ میں خاتون رکن کا بیان بھی اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے بھارت سے اپیل کی کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کردے اور کشمیریوں کا حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے۔

اسی کیساتھ انڈونیشیا میں بھارتی فلموں کے بائیکاٹ اور بھارتی وزیر تعلیم مسٹر چھاگلہ کے نیویارک روانہ ہونے کے بارے میں خبریں بھی شائع ہوئیں جبکہ پاکستانی فوج کو وزیر امورکشمیر کی مبارکباد بھی اخبارات کی شہ سرخیوں میں نمایاں رہی جس میں وزیر امور کشمیر نے جوڑیاں کی فتح پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کے شیر دل جوانوں کو مبارکباد دی۔ کشمیر کے چھمب سیکٹر میں بہت بڑی جنگ کے بعد مبصر پیٹرک سیل نے پاکستانی فوج کے تمام رینکس اور مجاہدین کو ان کے نظم، بلند حوصلہ، مہارت اور با مقصدیت پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ چینی عوام نے کشمیر کی عوام سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ۔


Published on 31 August 2015

جعلی ڈگریوں اور جعلی میڈیکل کالجز کے ذمہ دار ڈاکٹر عاصم ہیں، سائرہ افضل تارڑ

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ نے جعلی ڈگریوں اور جعلی میڈیکل کالجز کے ذمہ دار ڈاکٹر عاصم کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق مشیر پیٹرولیم سے تفتیش کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کےدوران سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں گھپلوں، جعلی ڈگریوں اور جعلی میڈیکل کالجز میں ڈاکٹر عاصم کا ہاتھ تھا، وہ سامنے آنے کے بجائے پس پردہ رہ کر کام کررہے تھے۔ ڈاکٹر عاصم کے خلاف ایکشن لینے میں پی ایم ڈی سی کا اپنا قانون ہی رکاوٹ بنا ہوا تھا۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی ڈاکٹر عاصم سے تحقیقات کرنے والے اداروں سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور پی ایم ڈی سی میں گھپلوں کی تحقیقات کرکے نیب کو کیسز بھی بھجوائیں گے۔ پی ایم ڈی سی آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے گا، پی ایم ڈی سی اراکین کی تعداد 81 سے کم کر کے 35 کی جائے گی ،جن میں سے 20 منتخب جب کہ 15 اعزازی نمائندے ہوں گے، اس کے علاوہ پی ایم ڈی سی میں تمام صوبوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔