Published on 24 September 2015

حجاج کرام مناسک حج کے دوران رمی ميں مصروف

مکہ المکرمہ: پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام منٰی میں رمی ميں مصروف ہيں۔

گزشتہ روز لاکھوں فرزندان اسلام وقوف عرفات کے بعد مذدلفہ پہنچے جہاں انہوں نے رات بھر قیام کیا اور رمی کے لئے کنکریاں جمع کیں، مذدلفہ میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حجاج کرام منیٰ روانہ ہوئے،مزدلفہ سے منیٰ کے درمیان فاصلہ نو کلو میٹر ہے اس لیے عازمین بسو ں کے علاوہ پیدل بھی منیٰ کا رخ کررہے ہیں۔ جہاں وہ آج سب سے بڑے شیطان جمرة العقبہ کو کنکریاں ماری جا رہی ہیں۔

رمی کے بعد حجاج جانور کی قربانی اور سر منڈوا کر یا بال کٹواکر اپنااحرام کھول رہے ہیں۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ جاکر مسجد الحرام میں طواف زیارت اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کریں گے۔ بعد میں حجاج کرام واپس منیٰ چلے جائیں گے۔  حجاج کرام 2 روز تک منیٰ کی خیمہ بستیوں میں رہیں گے اور 11 اور 12 ذوالحجہ کو بھی شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد مسجدالحرام میں جا کر طواف کریں گے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی حکومت نے رمی کے دوران بهگدڑ يا کسی اور حادثے سے بچنے کے لئے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں۔


Published on 24 September 2015

شہبازشریف ، عارف علوی اور اختر مینگل سمیت 3 درجن ارکان کا ٹیکس آڈٹ ہوگا

 اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،وفاقی وزیر کامران مائیکل،ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستار ،تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف رحمن علوی،بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل سمیت3 درجن سے زائد اراکین پارلیمنٹ کا آڈٹ کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آرکی جانب سے خودکار سسٹم کے ذریعے آڈٹ کیلیے منتخب ہونیوالے ٹیکس دہندگان کو آڈٹ نوٹس جاری کردیے گئے ہیں،اس ضمن میں وزیرخزانہ اسحق ڈارکی زیر صدارت حال ہی میں ہونے والی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے  نئی آڈٹ پالیسی کے تحت مجموعی طور پر 75ہزار 871 ٹیکس گزاروں کو ٹیکس ایئر 2014 کے آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ قرعہ میںآڈٹ کیلیے منتخب ہونیوالے 75ہزار سے زائد ٹیکس دہندگان میں وزیراعلیٰ پنجاب سمیت وفاقی وزرا اور درجنوں اراکین پارلیمنٹ کے نام بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں متعدد اراکین پارلمینٹ کی کاروباری کمپنیوں و اداروں کے  نام بھی آڈٹ کیلئے منتخب ہونیوالے ٹیکس دہندگان  میں شامل ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹیکس ایئر 2014  میں این ٹی این نمبر 3100878-0کے تحت مجموعی طور پر36لاکھ44 ہزار تین روپے ٹیکس ادا کیا ہے لیکن انکم سپورٹ لیوی کی مد میں کوئی رقم جمع نہیں کروائی ۔

وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپننگ کامران مائیکل نے ٹیکس ایئر 2014 میں این ٹی این نمبر 1433780-7 کے تحت  69 ہزار65روپے، ڈاکٹر فاروق ستار نے این ٹی این نمبر 0534915-0کے تحت 70ہزار888 روپے،  ڈاکٹر فروغ نسیم نے این ٹی این نمبر0782432-7 کے تحت 78لاکھ 68 ہزار112روپے، عارف علوی نے این ٹی این نمبر 0653316-7کے تحت ایک  لاکھ 84ہزار303روپے، وزیر خزانہ سندھ سید مراد علی شاہ نے این ٹی این نمبر 2340719-7کے تحت  39  ہزار341 روپے، سینیٹر  بابر اعوان نے  این ٹی این نمبر 00280194 کے تحت6لاکھ28 ہزار130روپے،اختر مینگل نے  این ٹی این نمبر 2828121-7کے تحت29 ہزار13 روپے،

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے این ٹی این نمبر 0067315-3 کے تحت ایک  لاکھ 99ہزار826 روپے، پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے این ٹی این نمبر 0828679-5 کے تحت 75 ہزار384روپے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے چیئرمین سردار فتح محمد محمد حسنی نے این ٹی این نمبر 0823102-8 کے تحت 3 لاکھ 22ہزار116روپے، فریال تالپور کے شوہر و ممبر قومی اسمبلی  میر منور تالپور  نے این ٹی این نمبر 3208325-4کے تحت 68ہزار333روپے، رجب علی خان بلوچ نے این ٹی این نمبر 1961606-6کے تحت 7 ہزار123روپے،ممبر قومی اسمبلی میاں محمد فاروق نے  این ٹی این نمبر 0080599-8کے تحت18  ہزار864روپے، پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین واقلیتی رُکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی  نے این ٹی این نمبر 0982451-7کے تحت 50 ہزار150روپے  ٹیکس ادا کیا ۔

رُکن قومی اسمبلی میاں طارق محموداور ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے انکم ٹیکس گوشوارے صفر ٹیکس کے ساتھ جمع کروائے ۔آڈٹ کیلئے منتخب کئے جانیوالے دیگر ارکان  میں سینیٹر غوث محمد نیازی،  شبلی فراز ، رُکن قومی اسمبلی عائشہ نثار ،وسیم اختر،امانت اللہ شادی خیل،حاجی قلندر لودھی،خواجہ اظہار الحق، اویس قادر شاہ ،مس شاہینہ ،مس فائزہ احمد ملک،پنجاب سے رُکن صوبائی اسمبلی  حاجی محمد الیاس انصاری،پنجاب سے رُکن صوبائی اسمبلی  چوہدری اشرف علی انصاری شامل ہیں۔

واضح رہے کہ 14 ستمبر کو ہونیوالی  کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار 954 ٹیکس دہندگان، نان کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے 65 ہزار 439 لوگوں کو  انکم ٹیکس آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیاتھا ۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ  آڈٹ کیلیے منتخب ہونیوالے اراکین پارلیمنٹ سمیت دیگر ٹیکس دہندگان کو  خودکار نظام کے تحت سسٹم جنریٹڈ آڈٹ نوٹس بھی جاری ہوچکے ہیں ۔


Published on 24 September 2015

پاکستان کی افغان طالبان کو اپنی لڑائی کیلیے پاک سر زمین استعمال نہ کرنیکی وارننگ ؛ کئی جنگجو ملک چھوڑ گئے

 اسلام آباد: پاکستان نے افغان طالبان کو سخت وارننگ دی ہے کہ افغانستان میں ہونے والی لڑائی کیلیے پاکستانی سرزمین کو استعمال نہ کیا جائے اور طالبان تشددکو ترک کرکے مذاکرات کی جانب آئیں۔

اس واضح تنبیہ کے بعدکئی افغان طالبان پاکستان چھوڑکر افغانستان چلے گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع نے بتایا کہ کئی افغان طالبان جنگجو پاکستان چھوڑکر افغانستان چلے گئے ہیں اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے پاس اس کی اطلاعات ہیں، اس کی وجہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کو دی جانے والی سخت وارننگ ہے کہ پاکستانی کی سرزمین کو افغانستان میں لڑائی کیلیے استعمال نہ کیا جائے۔طالبان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تشددکا راستہ ترک کریں اور بات چیت اور مذاکرات کی طرف آئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے افغان حکومت کو بھی واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ افغانستان کی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑنے دے گا۔ ذرائع سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایسے افغان طالبان جو اس تنبیہ کے باوجود بھی پاکستان کی سرزمین کو استعمال کریں توکیا ان کیخلاف طاقت استعمال کی جائیگی تو ذرائع نے جواب دیا کہ طاقت کے استعمال اور طالبان کیخلاف کوئی کارروائی نہ ہونے کے درمیان بھی کئی آپشن موجود ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل میں ’’سہولت کنندہ‘‘ کا کردار ادا کیا، ایسا نیک نیتی سے کیا گیا تاہم اب پاکستان از خودکوئی اقدام نہیں اٹھائے گا اور یہ قدم افغان حکومت کو اٹھانا ہوگا اور پاکستان سے ایسے کسی کردارکی درخواست کرنا ہوگی۔

افغان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس نے مذاکرات کرنے ہیں یا پھر طاقت کا استعمال کرنا ہے، اگر وہ طاقت کا استعمال کرتی ہے تو اس کیلیے اسے پاکستان، امریکا اور چین سے مشاورت کرنی چاہیے۔ طاقت کے استعمال کے اپنے نتائج ہونگے اور طالبان کے بعض الگ ہوجانے والے گروہ شدت پسند تنظیم ’’داعش‘‘ میں بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ پی اے ایف کیمپ بڈھ بیر پر دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کے شواہد’’شیئر‘‘ کیے جائیں گے، افغان صدر اشرف غنی کی حکومتی رٹ کمزور ہے اور اس کے ساتھ احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں، اس معاملے پر ثبوت انکے سامنے رکھے جائیں گے اور اس معاملے کو موثر طور پر اٹھایا اور آگے لے جایا جائے گا۔


Published on 24 September 2015

پی ٹی آئی ڈسپلن توڑنے والے رہنماؤں کی سزا عید کے بعد تجویزکریگی

اسلام آباد: خیبرپختونخوامیں بلدیاتی انتخابات کے دوران  پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنیوالے پارٹی رہنماؤں کی سزا تجویزکرنے کیلیے انکوائری کمیٹی کی میٹنگ آئندہ ہفتے  طلب کرلی گئی۔

پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے اور اپنے من پسند امیدواروں کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کے خلاف رپورٹ کو حتمی شکل دی جائیگی۔ کمیٹی سفارشات پر حتمی فیصلہ چیئرمین عمران خان کرینگے۔انکوائری کمیٹی تحریک انصاف کے مرکزی رہنما  شاہ محمود ،خیبرپختونخوا کے آرگنائزرفضل خان ،سیف اللہ نیازی اورسیکریٹری اطلاعات نعیم الحق پر مشتمل ہے۔

تحریک انصاف کے ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں حال ہی میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ضلع ناظمین کے انتخاب کے مرحلے میں پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے اوراپنے من پسند امیدوار کی حمایت کرنے  پر پارٹی کے ایک سینیٹر ایک ایم این اے  سمیت5ایم پی اے کووضاحتی شوکاز نوٹسسزبجھوائے گئے جن میں تحریک انصاف کے سینیٹراعظم سواتی،کوہاٹ سے ایم این اے شہریارآفریدی ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان  اسمبلی یاسین خلیل،عارف یوسفزئی،کوہاٹ سے ایم پی اے ضیااللہ بنگش،وزیر قانون امتیازقریشی اورامجدآفریدی  شامل ہیں۔