Published on 14 September 2017

نوازشریف عدالت کے خلاف ہرزہ سرائی مہم کی قیادت کررہے ہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد: 

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نوازشریف عدالت کے خلاف ہرزہ سرائی مہم کی قیادت کررہے ہیں۔ 

 

پاناما کیس کی نظرثانی درخواستوں پرپانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کررہا ہے۔ بنچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کررہے ہیں جب کہ دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت شیخ سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر ایڈوکیٹ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نااہلی اور الیکشن کو کالعدم قرار دینا دو الگ الگ معاملات ہیں، اگر اثاثے ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کالعدم ہوتا ہے تو نااہلی ایک مدت کےلیے ہوتی ہے جب کہ نااہلی کے لیے باقاعدہ ٹرائل ضروری ہوتا ہے اور ٹرائل میں صفائی کا موقع ملتاہے۔ آرٹیکل 62 کادائرہ کار بڑا وسیع ہے، 62 ون ایف صرف اثاثے چھپانے کے لئے استعمال نہیں ہوتا اس کے علاوہ آرٹیکل 76اے اور 78کی نسبت 62ون ایف کے اثرات زیادہ سنگین ہیں۔ نوازشریف کو اقامہ اور تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر نااہل کیا گیا، لفظ اثاثہ کے ایک سے زیادہ معنی اورتشریح ہے، نواز شریف نے کبھی تنخواہ کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کبھی تنخواہ کو اثاثہ سمجھاانہوں نے تنخواہ کو اثاثہ نہ سمجھنے کےباعث ظاہر کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور سمجھنے میں غلطی پر کہا گیا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے جب کہ غلطی کرنے پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

اس خبر کو بھی پڑھیں: نوازشریف کو تمام ججز نے نااہل کیا تاہم وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، سپریم کورٹ

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ قانون شہادت میں تحریر کو زبانی بات پر فوقیت حاصل ہے، تحریری معاہدے میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ نواز شریف تنخواہ نہیں لیں گے جب کہ معاہدے میں یہ ضرور تھا کہ نواز شریف کو 10 ہزار درہم تنخواہ ملتی ہے اب ہم یہ کیسے مان لیں وہ تنخواہ کو اثاثہ نہیں سمجھتے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر روپا کے تحت کارروائی ہونی چاہیے نااہلی نہیں؟۔ نواز شریف نے تنخواہ والا اکاؤنٹ ظاہر نہیں کیا جب کہ دستاویزات کےمطابق طریقہ کار کے تحت نوازشریف نے اکاؤنٹ کھولا۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی نے یہ نہیں کہا تھا کہ اکاؤنٹ چھپایا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نوازشریف کا ایمپلائی نمبر194811 ہے اور دستاویزات کہتی ہیں کہ تنخواہ وصول کی گئی ہےاس کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے کیپٹل ایف زیڈ ای اکاؤنٹ میں اگست 2013 کو تنخواہ بھی آئی، عدالت نے فیصلہ تسلیم شدہ حقائق پر کیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم کسی چیز کو ناقابل تردید سچ نہیں کہہ رہے آپ جے آئی ٹی رپورٹ میں کمی یا کوہتاہیاں ٹرائل کورٹ میں اٹھائیں، احتساب عدالت میں گواہیاں اور  جرح ہو گی، کیا آپ استدعا کررہے ہیں کہ جے آئی ٹی کو دوبارہ زندہ کرکے رپورٹ مکمل کرنے کا کہیں؟۔  آپ چاہتے ہیں کہ ریفرنس کا معاملہ بھی ہم چیرمین نیب پر چھوڑ دیتے؟ آپ چیرمین نیب کا بیک گراونڈ اور کنڈکٹ بھی ذہن میں رکھیں۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالت نیب کو قانون کے مطابق تحقیقات کاحکم دے سکتی ہے، آپ نے تو بچوں پر بھی ریفرنس دائرکرنےکاحکم دیاجس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بچہ کوئی نہیں ہے وہ سب بچوں والےہیں۔

بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر نیب کام کرتا تو کیس سپریم کورٹ میں نہ آتا، ہر جج نے اپنے فیصلے میں اس کا ذکر بھی کیا ہے اور عدالت نے فیصلے میں لکھا، سب جانتے ہیں کہ کیا کیا ہوا دوہرانا نہیں چاہتا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے کبھی کسی کوملزم نامزدکرکے مقدمہ اندراج کانہیں کہاعدالت صرف حکم دیتی ہے کہ تحقیقات کی جائیں اور قصوروار کے خلاف مقدمہ کیاجائے جس پرجسٹس عظمت سعید نے کہا کہ 9سی کاکیس ہمیشہ ہی نامزدملزمان کے خلاف ہوتا ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ایک دن میں جے آئی ٹی رپورٹ پر ریفرنس فارغ ہوجائے گاجس پرعدالت نے واضح کیا کہ پھر مسئلہ کیا ہے جائیں اور فارغ کروائیں لیکن مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو پیغام دیدیں کہ کیس موخر نہیں کیاجائے گا۔

پاناما لیکس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نگراں جج کی تقرری پر وکیل نوازشریف نے اعتراض اٹھایا کہ مخصوص ٹرائل کی نگرانی کے لیے کبھی جج تعینات نہیں کیا گیاصرف نگراں جج ہوتے ہیں لیکن مخصوص کیس کے لیے تعیناتی نہیں ہوتی صرف مانیٹرنگ ہوتی ہےسپروائزری نہیں ہوتی۔عدالت نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نگراں جج کی تعیناتی کوئی نئی بات نہیں احتساب عدالتوں کے لیے بھی نگراں جج ہوتے ہیں۔ عدالت نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ شیخ لیاقت حسین کیس میں نگراں جج تعینات کیا گیاجب کہ پنجاب کی انسداددہشت گردی عدالت میں نگراں جج لگایا گیا۔ سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ نوازشریف عدالت کے خلاف ہرزہ سرائی مہم کو لیڈ کررہے ہیں 


Published on 23 August 2017

وفاقی حکومت کا عیدالاضحیٰ پر 4 چھٹیوں کا اعلان

سلام آباد: 

وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ پر یکم ستمبر سے 4 ستمبر تک چھٹیوں کا اعلان کیا ہے۔

 

 وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق عید قربان پر یکم ستمبر سے 4 ستمبر تک تعطیلات ہوں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں عیدالاضحیٰ 2 ستمبر بروز ہفتہ ہو گی۔


Published on 22 August 2017

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کے شیڈول کا اعلان

لاہور: 

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کیلیے مجوزہ شیڈول سری لنکن کرکٹ بورڈ کو بھجوا دیا ہے۔

 

شیڈول کے مطابق 28 ستمبر کو پہلا ٹیسٹ ڈے نائٹ جب کہ دوسرا ٹیسٹ 6 اکتوبر کو کھیلا جائے گا۔ ون ڈے میچز کی سیریز میں 13، 16، 18، 20 اور 23 اکتوبر کو مقابلے ہوں گے۔ 26 مئی کو دبئی میں ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائے گا جب کہ سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد 28اور 29 اکتوبر کر لاہور میں مختصر فارمیٹ کے میچز کا انعقاد ہو گا۔

ADVERTISEMENT
 

 

واضح رہے کہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اعلان کر چکے ہیں کہ آئندہ ماہ ورلڈ الیون کے کامیاب دورہ کے بعد سری لنکن ٹیم ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے لاہور آئے گی جب کہ اس کے بعد ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم بھی پاکستان آ کرٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلے گی۔


Published on 22 August 2017

سعودی عرب میں 22 پاکستانی عازمین حج وفات پا گئے

اسلام آباد: 

حج 2017کے لے سعودی عرب جانے والے عازمین میں سے 22 پاکستانی عازمین مکہ مکرمہ میں وفات پاگئے تاہم فوت ہونے والوں کو جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا ہے۔

 

وزارت مذہبی امور کے مطابق سرکاری و نجی اسکیم کے تحت اب تک مجموعی طورپر ایک لاکھ 33 ہزار868 عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں۔ سرکاری اسکیم کے تحت 88 ہزار705 جبکہ پرائیویٹ اسکیم کے تحت 45 ہزار 163 عازمین مکہ مکرمہ پہنچے ہیں۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کاکہنا تھاکہ مقامی اور پاکستان سے آئے ہوئے معاونین عازمین کی رہنمائی کر رہے ہیں، 1256 عازمین کا گم شدہ سامان ڈھونڈ کر ان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق راستہ بھول جانے والے18عازمین حج کو ان کی اقامت گاہ تک پہنچایا گیا، حرم گائیڈز نے 9285 عازمین کی رہنمائی کی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہیلپ لائن پر 623 شکایات میں سے 446 کا ازالہ کر دیا گیا۔