رواں برس سیلفی لینے کی کوشش میں 12 افراد جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے، رپورٹ

سیلفی‘‘ اب صرف ایک تصویر کا اسٹائل ہی نہیں بلکہ جنون کی حد تک لوگوں کے سروں پر سوار ہے اور اکثر لوگ خطرناک مقامات پر سیلفی لینے کی کوششوں میں اپنی جان تک گنوا بیٹھے ہیں جب کہ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بھی سیلفی لینے کی کوششوں مرنے والوں کی تعداد رواں برس شارک مچھلی کے حملے میں مرنے والوں سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔

بچے سے لے کر بڑے اور یہاں تک کہ بوڑھوں تک سب ہی اس ’’سیلفی‘‘ کے مرض میں مبتلا ہیں اور اس کے سحر میں کچھ اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ سیلفی لینے کے لیے نہ ہی وقت دیکھا جاتا ہے اور نہ جگہ، چاہے بس اسٹینڈ، شاپنگ مال، کوئی تفریحی مقام ہو یا کوئی ہوٹل، دوستوں کے ساتھ ہوں یا فیملی کے ساتھ بس موبائل نکالا اور سیلفی لینا شروع ہوجاتے ہیں لیکن اس جنون نے اب تک کئی افراد کی جان لے لی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے رواں سال شارک مچھلی کے حملوں میں اتنے افراد نہیں مارے گئے جتنے سیلفی لیتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال سیلفی لیتے ہوئے 12 افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور شارک کے حملوں میں صرف 8 افراد ہلاک ہوئے جب کہ سیلفی کے باعث مرنے والوں کی وجہ خطرناک مقامات پر کھڑے ہوکر سیلفی لینا ہے۔سیلفی‘‘ اب صرف ایک تصویر کا اسٹائل ہی نہیں بلکہ جنون کی حد تک لوگوں کے سروں پر سوار ہے اور اکثر لوگ خطرناک مقامات پر سیلفی لینے کی کوششوں میں اپنی جان تک گنوا بیٹھے ہیں جب کہ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بھی سیلفی لینے کی کوششوں مرنے والوں کی تعداد رواں برس شارک مچھلی کے حملے میں مرنے والوں سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔

بچے سے لے کر بڑے اور یہاں تک کہ بوڑھوں تک سب ہی اس ’’سیلفی‘‘ کے مرض میں مبتلا ہیں اور اس کے سحر میں کچھ اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ سیلفی لینے کے لیے نہ ہی وقت دیکھا جاتا ہے اور نہ جگہ، چاہے بس اسٹینڈ، شاپنگ مال، کوئی تفریحی مقام ہو یا کوئی ہوٹل، دوستوں کے ساتھ ہوں یا فیملی کے ساتھ بس موبائل نکالا اور سیلفی لینا شروع ہوجاتے ہیں لیکن اس جنون نے اب تک کئی افراد کی جان لے لی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے رواں سال شارک مچھلی کے حملوں میں اتنے افراد نہیں مارے گئے جتنے سیلفی لیتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال سیلفی لیتے ہوئے 12 افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور شارک کے حملوں میں صرف 8 افراد ہلاک ہوئے جب کہ سیلفی کے باعث مرنے والوں کی وجہ خطرناک مقامات پر کھڑے ہوکر سیلفی لینا ہے۔