Super User

Super User

In sodales tellus ac erat malesuada ac viverra lectus tempor.

Write on Tuesday, 19 September 2017

 

 
 
 
Ad
 

 

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آگ کی ہولی افغانستان سے دہشت گرد آ کر کھیلتے ہیں لیکن کیا افغانستان یا امریکا نے افغانستان کے اندر ”گھر کی صفائی” کی ضرورت کا اعتراف کیا، گزشتہ چار سال میں ”گھر ” کے اندر جتنی صفائی ہوئی اس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

 
Write on Saturday, 16 September 2017

سکھر: 

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ (ن) لیگ کے انکارسے کچھ نہیں ہوگا اسے سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔

 

سکھرمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی دوست دشمن نہیں ہوتا، 1997 میں نواز شریف بے نظیرکے خلاف سخت بیان دیتے تھے، ساری جماعتوں کا اپنا اپوزیشن لیڈرلانے کا حق اور تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں اختلافات ختم ہونا اچھی بات ہے۔

این کے 120 کے حلقے میں جیتنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ حلقے میں ووٹر کا فیصلہ ہے ، میں ووٹر کا دماغ نہیں پڑھ سکتا ہوں۔ انہوں  نے ایک بار پھراسمبلی کی مدت 4 سال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اسمبلی کی مدت 4 سال کرنے پرراضی ہے جب کہ (ن) لیگ

 

 

خورشید شاہ نے کہا کہ نیب سے متعلق شکوک وشبہات بڑھ گئے ہیں، نئے چیئرمین نیب کیلئے ابھی کوئی حتمی نام سامنے نہیں آیا اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے بات ہوئی ہے۔

 

 

 

عمران خان کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، اس کے احکامات نہ ماننا اس ادارے کی توہین ہے، عمران خان نوازشریف کیلیے کہتے ہیں کہ وہ اداروں کے فیصلے نہیں مانتے لیکن عمران خان خود بھی تو اداروں کے فیصلے نہیں مانتے۔ عمران خان کے سندھ میں جلسے جلوس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے میں اگر سندھ جیسا 25 فیصد کام بھی ہوا ہو تو میں عمران خان کو سراہوں گا، سکھرمیں آرٹ اینڈ ڈیزائن کالج بن رہا ہے، 8 ارب کی ایس آئی یو ٹی بن رہی ہے جب کہ 7 ارب کی لاگت سے کینسر اسپتال بن رہا ہے۔

 

 

ADVERTISEMENT  
 
 
 
Write on Saturday, 16 September 2017

سری نگر: 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو نوجوانوں کو شہید کردیا۔

 

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض فوج نے مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ بھارتی فورسز نے ضلع کپواڑہ کے علاقے ماشل میں فوجی آپریشن کیا اور اس دوران دو نوجوانوں کو درانداز قرار دے کر شہید کردیا گیا۔

 

ADVERTISEMENT
 
 
 
Ad
 

 

بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ دونوں نوجوان سرحد پار کرکے کشمیر میں آئے تھے جن سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ واضح رہے کہ اگست 2017 میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں 37 بے گناہ افراد کو شہید اور 261 کو زخمی کیا۔

 
Write on Saturday, 16 September 2017

لاہور: 

سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکمرانوں نے گزشتہ 4 سال میں 35 ارب ڈالر قرضہ لیا اس لیے شریف خاندان کو جیل میں بھیج کر آئی ایم ایف کا قرضہ چکایا جائے۔

 

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے میں حدیبیہ پیپرز کا ذکر کیا گیا اور یہ کیس شریف خاندان کے تمام مقدمات کی ماں ہے، اسحاق ڈار نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے نوازشریف کو 4 ہزار 212 ملین بیرون ملک بھجوائے، میں حیران ہوں کہ اسحاق ڈار کو نااہل کیوں نہیں کیا گیا عدالتی فیصلے کے بعد اسحاق ڈار کو مستعفیٰ ہوجانا چاہیے تھا انہیں چاہئے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوکر گواہ بن جائیں اور اگر وہ اپنے بیان سے انحراف کریں گے تو مجرم ہوں گے اب ان پر ہیں کہ انہوں نے گواہ بننا ہے یا مجرم بن کر جیل جانا ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکمران پاکستان کے ساتھ مذاق کررہے ہیں منی لانڈرنگ کرنے والوں کومالیاتی اداروں کاسربراہ بنا دیا گیا، گزشتہ 4 برس میں 35 بلین ڈالرز کا قرضہ لیا گیا اور تاریخ کی سب سے مہنگی ایل این جی کا معاہدہ بھی اسی حکومت نے کیا، شریف خاندان نے ٹیکسٹائل کے کاروبار کو تباہ کردیا اورتاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ نوازشریف کے بغیرملک چل نہیں سکتا، سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کے والیم 10 میں مزید کھاتے سامنے آرہے ہیں نوازشریف پر 21 مقدمات ہیں جن میں سے 17 مقدمات التوا میں ہیں۔ اسی لئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اداروں کے چئیرمین سیاسی بنیادوں پر نہیں اہلیت پر لگائے جائیں تو ملک ٹھیک ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف لندن میں گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ہیں اور این آر او چاہتے ہیں جب کہ دوسرا بھائی ترکی میں بیٹھ کر این آر او کی تیاری میں ہے لیکن اب ملک میں این آراوکی کوئی گنجائش نہیں، ہمارا مطالبہ ہے  نوازشریف اور ان کے خاندان  کوجیلوں میں ڈال کر ملک کے قرضے اتارے جائیں۔

ADVERTISEMENT
Write on Saturday, 16 September 2017

برلن: 

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کا کہنا ہے کہ علاقائی بحران کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

 

قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سعودی عرب کے شروع ہونے والے تنازع کے بعد پہلی بار غیر ملکی دورے پر جرمنی پہنچے جہاں جرمن چانسلر انجلینا مرکل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ سب جانتے ہیں قطر کو گزشتہ 100 دن سے محاصرے کا سامنا ہے جب کہ ہم متعدد بار مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔

 

 

 

یاد رہے کہ چند روز قبل سعودی نائب ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے قطر کے سرکاری میڈیا کی جانب سے معمولی سی غلطی پر قطر کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

دوسری جانب انجیلا مرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی اس تنازع کا حصہ نہیں مگر ہمیں فکر لاحق تھی کی 100 دن گزرنے کے بعد بھی یہ مسئلہ اب تک حل کیوں نہ ہو سکا اس لیے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بات کی تاکہ اس تنازع کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور اس تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔

 

اس سے قبل امریکی صدر نے بھی سعودی فرماںروا شاہ سلمان اور قطری امیر کو ٹیلی فون کر کے تمام تنازعات کا سفارتی حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا تھا جب کہ جرمن چانسلر انجلینا مرکل نے بھی دونوں فریقین کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت بھی دی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ قطر نے ایران سے سفارتی تعلقات بحال کر لیے

واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، یمن، لیبیا اور مالدیپ نے رواں برس جون میں قطر پر دہشت گردی کی حمایت اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے جب کہ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنے زمینی، بحری اور فضائی رابطے بھی منقطع کر دیے تھے۔

 
Write on Saturday, 16 September 2017

نئی دلی: 

گزشہ ماہ دو خواتین پیروکاروں کے ساتھ زیادتی کے جرم میں 20 سال کی سزا پانے والے متنازع بھارتی گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کو جیل سے فرار کرانے کی کوشش میں 4 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سینئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ گرفتار پولیس اہلکار گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کو جیل سے فرار کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تاہم پولیس کی جانب سے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: گرو گرمیت سنگھ کو خواتین کے ساتھ زیادتی پر 20 سال قید

 

 

پولیس حکام نے صرف اتنا بتایا ہے کہ گرفتار اہلکاروں میں سے تین کا تعلق ریاست ہریانہ سے جب کہ ایک اہلکار راجھستان سے تعلق رکھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گرفتار پولیس اہلکاروں کو حکومت کی جانب سے گرمیت سنگھ کی سیکیورٹی پر تعینات کیا گیا تھا جب کہ مقامی میڈیا کے مطابق چاروں اہلکار گرمیت سنگھ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اس کے پیروکار بن چکے تھے اور جنسی زیادتی سے متعلق کیس میں گرو گرمیت رام سنگھ کو یہی اہلکار عدالت تک لے کر آئے تھے۔

یاد رہے کہ بھارت کے متنازع گرو کی گرفتاری اور عدالت کی جانب سے سزا کے بعد ریاست ہریانہ کے علاقے پنچکلا میں بڑے پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں کم از کم 38 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے جب کہ مظاہرین نے سرکاری املاک کو بھی نذر آتش کر دیا تھا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: بھارت میں مذہبی پیشوا کی گرفتاری پرہنگامے پھوٹ پڑے

واضح رہے کہ گرو گرمیت سنگھ ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ ہیں اور دنیا بھر میں ان کے کروڑوں کے قریب پیروکار ہیں جب کہ انہیں گزشتہ ماہ عدالت نے دو خواتین پیروکاروں کے ساتھ زیادتی کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

 
Write on Saturday, 16 September 2017

 اسلام آباد: 

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دنیا سے جبکہ وزرا پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کررہے ہیں۔

 

سابق وزیرِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق چوہدری نثار نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عجیب صورتحال ہے آرمی چیف کہتے ہیں کہ پاکستان نے بہت قربانیاں دیں اب دنیا ڈو مور کرے جبکہ وزرائے خارجہ و داخلہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو ڈو مور کرنا چایئے، وزیر موصوف کو علم ہے کہ ان کے بیان کی ہندوستان میں کتنی پذیرائی اور تشہیر ہوئی اور اسے بھارت کے اس بے بنیاد موقف کی تصدیق کے طور پر پیش کیا گیا کہ سارا مسئلہ پاکستان میں ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ وزیرخارجہ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال ساڑھے چار سال سے وزیر ہیں، کیا انہوں نے کبھی کابینہ یا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات کہی؟،  وزراء کا کام بیان دینا نہیں بیماری کا علاج کرنا ہے، انہیں چاہیے تھا کہ کابینہ یا قومی سلامتی کمیٹی میں مسئلہ اٹھاتے۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
Ad
 

 

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ انتہائی اہم اور حساس معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے پہیلیوں اور مفروضوں کی بجائے حقائق اور ریکارڈ کے مطابق بات ہونی چاہیے، دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کے باوجود دنیا بھر میں ہم پر نکتہ چینی کی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم خود اپنے بیانات اور رویوں کی وجہ سے اپنے پیچھے پڑے ہیں، ہم خود بیرونی طاقتوں کو موقع دیتے ہیں کہ وہ ہمارا مذاق اڑائیں اور اپنی ناکامیوں کا بوجھ بھی ہم پر ڈال دیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال میں جون 2013 اور آج زمین آسمان کا فرق نہیں؟، یہ ہماری مشترکہ کوششوں کی وجہ سے ہوا، کسی بیرونی مدد یا دباؤ کی وجہ سے نہیں، اب اگر وزیر موصوف کو کسی کی کوئی کمی یا کمزوری نظر آتی ہے تو وہ بیان دینے کی بجائے اس کا مداوا کریں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر جس طرح سے فوج نے عملدرآمد کیا حکومت کی طرف سے اس پر بہت سا کام کرنا ابھی باقی ہے، ابھی ہمیں اپنا گھر درست کرنا ہوگا، جب کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی ان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں بیرونی خطرات کا سامنا ہے، اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگا۔

 
Write on Friday, 15 September 2017

لاہور: 

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ نوازشریف اورآصف زرداری کا کمیشن ہے۔

 

لاہورمیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے کہا کہ نوازشریف نے کبھی پاکستان کے اداروں کو چلنے نہیں دیا، انھوں نے لوگوں کونشانہ بنانے کیلیے اداروں کو استعمال کیا، ججز کوخریدا اور عدالت پر ڈنڈے چلائے، 1990 کا الیکشن لڑنے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے ایجنسیوں سے پیسے لیے تھے، اصغرخان کیس 22 سے 23 سال پہلے دائرکیا گیا لیکن 20 سال تک سنا نہیں گیا، نیب نے ان کے خلاف 15 سے 20 کیسزپرکچھ نہیں کیا، شریف خاندان کی کمپنیاں نقصان میں جارہی ہیں اوران کے بچے ارب پتی بن گئے ہیں۔

چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی کوشش تھی کہ دباؤ کے ذریعے مانیٹرنگ جج کو ہٹایا جائے کیونکہ نواز شریف کی کوشش تھی مانیٹرنگ جج ہٹ گیا توسارے ادارے تو ان کے اپنے ہیں، ’مجھے کیوں نکالا‘ کی ساری کوشش بھی عدالت پر دباؤ ڈالنے کی مہم تھی، آج عدالت نے نوازشریف کی نظرثانی درخواست مسترد کردی ہے، قوم کی طرف سے وہ سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، شریفوں کا وقت ختم ہوگیا ہے، ان کی اصل جگہ اڈیالا جیل ہے، چیرمین نیب کا تقرر سپریم کورٹ کوکرنا چاہیے۔

ADVERTISEMENT