(پاکستان ایک نظر میں) - غریب کارکن سیاست کا ایندھن

ملک کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے دوسری جمہوری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جمہورت سے لگی عوام کی اُمیدوں کو پورا کیا جاتا اور فلاح کے جو جو کام ہوسکتے تھے کیے جاتے مگر افسوس کریں یا قسمت کو روئیں کہ غریب خودکشی پر مجبور ہوگیا اور امیر مزید امیر تر ہوگیا۔ انصاف اور ضروریات زندگی کا دوہرا معیار پاکستان میں دہشت گردی اور دیگر جرائم کو فروغ دے رہا ہے۔

نیا پاکستان بننے کے لئے 14اگست کو قافلہ چلا۔ دعوی تھا کہ نظام بدلیں گے ۔ اسلام آباد میں آکر پڑاؤ ڈالا ۔ ریڈ زون میں داخل ہوتے ہوئے  کئی افراد فائرنگ کی زد میں آگئے ۔ ہلاکتیں ہوئی کئی زخمی ہوئے ۔ سول نافرمانی تحریک کا اعلان ہوا ۔ پلان اے ، بی مکمل ہوا ۔ مگر کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

کل پلان سی کے تحت پہلا دن تھا ۔کھیلوں کی صنعت کا جانا مانا شہر فیصل آباد سب سے پہلے اس کی زد میں آیا۔ پلان سی کے تحت شہر کو بند کروانا تھا ۔ ایک طرف  کپتان کے ٹائیگرز تھے تو دوسری طرف میاں صاحب کے شیرموجود تھے ۔ گھنٹہ گھر چوک ، ناولٹی چوک سمیت پورے فیصل آباد میں جنگل سا قانون ہوگیا۔ دونوں کے غصے میں دھاڑنے کی آوازیں آنے لگی ۔ پولیس کھڑی تھی مگر جانوروں کے ہوتے ہوئے وہ پولیس بھی جنگل کی پولیس لگنے لگی ۔بالکل خاموش کھڑی تماش بین کی طرح اپنی کٹ پہن کر کھڑی تھی ۔ اسی اثناء میں ایک نوجوان  فائرنگ کا شکار ہوگیا  اور اپنی جان کی بازی ہار گیا۔۔۔ مخالفین کہتے ہیں کہ مارنے والا حکومتی جماعت سے تعلق رکھتا تھا جبکہ حکومتی جماعت کا کہنا ہے کہ مارنے والا مرنے والے کا ساتھی ہے ۔۔۔ اب کون سچ اور کون جھوٹ کہہ رہا ہے اِس کا نتیجہ تو کچھ دنوں میں سامنے آ ہی جائے گا کہ سچ کبھی چھپتا نہیں۔  دوسری طرف وزیر اعلی پنجاب نے اپنی سابقہ کارکردگی دکھاتے ہوئے میڈیا پر بیان جاری کر تے ہوئے کہا کہ رپورٹ طلب کر لی ہے اور قاتلوں کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔  دعوی بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں کئے گئے اور اسکے نتائج بھی عوام کے سامنے ہیں ۔

مستقل جھوٹ بولنا ہی شاید جمہوریت ہے اور اسکی واضح دلیل یہ ہے کہ حکومت سے بات کی جائے تو معلوم  ہوتا ہے کہ گزشتہ روز بس ایک ، دو چوراہوں کے علاوہ پورا فیصل آباد کھلا تھا ۔ دوسری طرف ٹائیگرز فورس کے سربرا ہ وی آئی پی طیارے میں اسلام آباد سے فیصل آباد پہنچے پوری قیادت انکے ساتھ تھی۔شیروں اور ٹائیگرز کے حکمران خود اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ غریب عوام لڑتے رہے۔ سانحہ کے بعد میڈیا پر آکر بیان داغنے شروع کئے تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر Trendچلا دیا ۔ دونوں طرف قائدین نہیں بلکہ غریب کے بچے تھے ۔ جو اپنی زندگیاں بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ جمہوریت ہے تو جناب آپکے بچے  دھرنوں ، احتجاج میں شرکت کیوں نہیں کرتے ؟۔ آج تک اسلام آباد سمیت دیگر معصوموں کے لئے آپ نے کیا کیا؟ حال ہی میں ملتان کے جلسے میں مارے جانے والے غریب لوگوں کے گھروں کا کیا حال ہے ؟ ایک دفعہ کے بعد دوبارہ کسی شہید کے گھر گئے ؟ آپ کے بچے کارکن کی حیثیث سے پارٹی میں کام کریں گے۔جناب سب چھوڑیے، جس حق نواز کے لیے کل  آپ نے زمین و آسمان ایک کردیا تھا بھلا کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آج اُس تبدیلی کے خواہاں نوجوان کی نمازجنازہ میں آپ اور آپ کی قیادت کیونکر شریک نہیں ہوئے؟

یہ تمام سوالات دونوں پارٹیز کے ورکرز کو سوچنا چاہیے کہ آپ انسان ہیں ۔ انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ پاکستانی ہیں مسلمان ہیں ۔ ان سازشوں کو سمجھیں ۔ اپنے اندر سے قیادت نکالیں نہ کہ ایسی قیادت کی تقلید نہ کریں کہ جنکے بچے باہر ممالک میں رہیں اور آپ انکے کاروبار کا ایندھن بنتے رہیں ۔ آپ کے مر جانے کے بعد جو آپکو بھول جائیں ۔ ان جاگیردار وڈیروں کا احتساب کریں اور مکمل بائیکاٹ کریں ۔اپنے اندر صلاحتیں پیدا کریں تاکے آپکو اپنے مذموم مقاصد کے لئے کوئی استعمال نہ کر سکے ۔ آپ پاکستان کا سرمایہ ہیں،  ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لئے آپکو تیار رہنا ہے ۔ آپ کو کسی اچھے رہبر کا چناؤ کرنا ہوگا کہ جو بہادر ہو ۔کم از کم آپکے شہید ہوجانے کے بعد آپکو یاد رکھیں اور آپکے گھر والوں کی دل سے عزت کرے۔

تبدیلی جب آئیگی جب آپ کو حقوق ملیں گے ۔ غریب اور متوسط طبقے کے حقوق کی حقیقی جدو جہد کریں۔ آپکے درمیان سے آپکی قیادت کو منتخب کر کے ایوان تک پہنچائیں ۔ لیڈرعہدہ اور الیکشن جیتنے کے لئے نہیں بلکہ قوموں کی تشکیل کا کام کرتا ہے ۔ اب فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے کہ اندھی تقلید کرنی ہے یا پھر ایسے شخص کو قائد بنائیں جس نے غربت دیکھی ہو ،  جو غریب کے حقوق کو اچھی طرح سمجھتا ہو۔ جو خداداد صلاحتیں رکھنے والا لیڈ ر ہو ۔ جو آپکو اپنے مفاد کے لئے استعمال نہ کرے ۔ آئیے ایسے شخص کے ہاتھ مضبوط کریں اور پاکستان کو مزیدانتشار سے بچائیں۔

Read 1470 times