Category: امریکہ
Published on 01 November 2014

سائبر حملہ کرکے وائٹ ہاؤس کے کمپیوٹرز ہیک کرلئے گئے، امریکی اخبار

واشنگٹن: امریکی صدر براک اوباما کی سرکاری رہائش گھر وائٹ ہاؤس کے کمپیوٹرز پر سائبر حملہ کرتے ہوئے وہاں کے کمپیوٹر ہیک کر لیے گئے.

امریکی اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں موجود دفتر کے کمپیوٹر ہیک کر کے اس کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی ہے، اخبار کے مطابق کمپیوٹر ہیک کرنے کی اطلاع ایک امریکی دوست ملک نے دی جس کے بعد حکام نے اس کی تفتیش شروع کردی ہے، حکام کا ماننا ہے کہ اس سائبر حملے کے پیچھے کوئی ملک کا ہاتھ ہوسکتا ہے تاہم ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے کون سی ریاستی طاقت اس واقعے کے پیچھے کام کر رہی ہے، دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے سے وائٹ ہاؤس دفتر کے چند کلاسیفائیڈ کمپیوٹر متاثر ہوئے ہیں۔

ایک امریکی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ سائبر حملے کے بعد سے ماہرین نے ان کلاسیفائیڈ کمپیوٹر کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کی تھی، اس تازہ واقعے کے بعد اس طرح کمپیوٹر کے ڈیٹا تک رسائی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کیونکہ کہ بہت سی قوتیں ہیں جو امریکا کی اہم معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جب کہ امریکا کا خیال ہے کہ روس کی ریاست بھی اس طرح کی کوشش کے پیچھے ہو سکتی ہے۔

اخبار کے مطابق اس ہیکنگ کا انکشاف دو ہفتے قبل ہوا تھا جس کے بعد وائٹ ہاؤس کےاکثر ملازمین کو اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ،امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور سیکورٹی سروسز ہیکنگ کی تفتیش کر رہی ہیں۔


Category: امریکہ
Published on 01 November 2014

امریکا کا داعش کے خلاف فضائی کارروائی کے ساتھ ’سائبر جنگ‘ بھی شروع کرنے کا اعلان

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق اور شام ميں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کی نمائندگی کرنے والے ريٹائرڈ امريکی جنرل جان ايلن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش انٹرنيٹ کے ذريعے معصوم افراد کو اپنے جال میں پھنسا کر اپنی صفيں مضبوط کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ کو حقيقی معنوں ميں شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس گروہ کے خلاف فضائی کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کا انٹر نیٹ پر بھی مقابلہ کریں تا کہ لوگ ان کے غلط عقائد سے متاثر ہو کر بے راہ روی کا شکار نہ ہو سکیں۔

دوسری جانب امریکا اور اتحادی افواج نے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر متعدد تازہ فضائی حملے کيے جن ميں موصل ڈيم کے قريب اور فلوجہ شہر کے آس پاس اہداف کو نشانہ بنايا گيا ہے۔

واضح رہے کہ عراق اور شام میں 8 اگست سے شروع کی جانے والی فضائی کارروائی کا تخمینہ امريکی محکمہ دفاع نے 83 لاکھ ڈالر یومیہ ہے جب کہ دولت اسلامیہ کی جانب سے بھی شام اور ترکی کے سرحدی علاقے کوبانی میں انٹر نیشنل فورسز کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جا رہی ہے۔