Category: جرمنی
Published on 27 November 2014

کرکٹرز کی سلامتی پرایک بار پھر بحث چھڑ گئی

سڈنی: فل ہیوز کی موت سے کرکٹرز کی سلامتی پرایک بار پھر بحث چھڑ گئی، دیگر کھیلوں کی بانسبت کرکٹ میں ہیلمٹ کو بے عیب بنانے پر زیادہ توجہ نہیں دی جارہی، کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو جیمز سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ حفاظتی سامان کی بہتری کیلیے مسلسل کوششیں جاری رہتی ہیں۔

سابق کرکٹرز و آفیشلز نے کھیل کے منتظمین پر پلیئرز کی سیفٹی پر خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے، دوسری جانب ہیلمٹ ساز ادارے کے مطابق آسٹریلوی بیٹسمین کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ شاذونادر ہی ہوتا ہے ،جس حصے پر گیند لگی اسے محفوظ بنانا مشکل ہے۔ تفصیلات کے مطابق فل ہیوزکی موت کے بعد ایک بار پھر کرکٹرز کی سلامتی کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے، گذشتہ روز جیمز سدرلینڈ نے کہا کہ ہیلمٹ کو اپ گریڈ کیا جاتا اور تمام چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسے بہتر بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ساڑھے پانچ اونس وزن کی حامل اور 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی سخت گیند کا سامنا بذات خود ایک انتہائی خطرناک کام ہے۔ شیفلڈ شیلڈ میچ کے دوران فل ہیوز نے جو ہیلمٹ پہن رکھا تھا وہ برٹش کمپنی میسوری نے بنایا تھا، اس کا واقعہ پر کہنا ہے کہ ہم نے ٹی وی فوٹیج کا اچھی طرح جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا کہ گیند گرل کے آخری حصے کے نیچے لگی، یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے محفوظ بنانا بہت مشکل ہے، ہمیں اس چیز کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کہ بیٹسمین آزادی کے ساتھ اپنے سر کو حرکت دے سکیں۔ دوسری جانب آئی سی سی کے سابق صدر جگموہن ڈالمیا اور سابق انگلش کرکٹر جیفری بائیکاٹ نے کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔