Category: انگلستان
Published on 29 November 2014

پاکستانی نژاد برطانوی شہری پر پاکستان میں قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج

لندن:  پولیس نے پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو پاکستان میں خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرکے اس کے دیگر دو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا ہے ۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے مطابق برطانوی شہری طارق رانا  نے 27 جولائی 2013 میں غلام آسیہ نامی خاتون کو لاہور میں اس کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔ پولیس کے مطابق طارق رانا پر برطانوی قانون 1861 ’’آفنس اگینسٹ پرسن‘‘ کی شق 9 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جوبرطانوی پولیس کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی برطانوی شہری پر ملک سے باہر قتل کرنے پر مقدمہ دائر کرسکتی ہے۔

اسکاٹ لینڈ پولیس نے طارق رانا کو لندن جب کہ اس کے دیگر 2 ساتھیوں نرگس احمد اور محمد عدیل کو برمنگھم سے گرفتار کیا۔


Category: انگلستان
Published on 31 October 2014

پاکستان میں داعش کی صورت میں نیا ہولناک خطرہ داخل ہوچکا ہے، الطاف حسین

کراچی: ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی میں سب سے پہلے طالبانائزیشن کی نشاندہی کرنے پر میرا مذاق اڑایا گیا لیکن آج میری باتیں درست ثابت ہوئیں اور اب قوم کو ایک ایسے ہولناک خطرے سے آگاہ کررہا ہوں جو داعش کی صورت میں ملک میں  داخل ہوچکا ہے۔

کراچی میں ایم کیوایم کےمرکز نائن زیرو پر لندن سے ٹیلی فونک پریس کانفرنس کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ جب میں نے سچ باتوں کی نشاندہی کی تو انہونی لگتی تھیں، میری باتوں کو ناقابل عمل سمجھا گیا،سب سے پہلے کراچی میں طالبان کی نشاندہی کی اور 10 سال سے طالبانائزیشن پر چلاتا رہا لیکن اس وقت بھی وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی کے بڑے رہنماؤں نے میرا مذاق اڑایا جب کہ اس وقت کے وزیراعظم اور صدر نے میری باتوں کی نفی کردی۔

الطاف حسین نےکہا کہ کہ آج میری باتیں درست ثابت ہوچکی ہیں جس کےبعد قوم کو ایک ایسے خطرے سے آگاہ کررہا ہوں جس سے اکثریت کو علم نہیں ہے، پاکستان میں داعش کی صورت میں ایک نیا ہولناک خطرہ داخل ہوچکا ہے جو القاعدہ اور طالبان سے زیادہ خطرناک ہیں، طالبان کے لوگ انہیں چھوڑ کر داعش میں داخل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو صادق آباد سے اسلام آباد تک داعش کے بے پناہ جھنڈے لگے ہوئے ہیں لہٰذا اس سے متعلق عوام میں شعور بیدار کیا جائے اگر اس بڑھتے ہوئے گروہ پر قابو نہ پایا گیا تو راونڈا کا قتل عام بھول جائیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف تاریخی جنگ لڑرہی ہے لیکن فوج ملک کو اکیلے نہیں بچا سکتی، ہم سب کو غیر مشروط طور پر پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہوکر ان کا ساتھ دینا ہوگا۔


Category: انگلستان
Published on 31 August 2014

حکومت نے فوج کی ساکھ کو خراب کیا اورحالات کی ابتری کے بھی یہ خود ذمہ دار ہیں،الطاف حسین

اسلام آباد: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے فوج کو ساکھ کو خراب کردیا ہے آج جو کچھ صورتحال پیدا ہوگئی ہے اس کی نوبت بھی خود حکومت ہی لے کر آئی ہے۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ہم پرالزام لگایا کہ ہم جمہوریت کا تختہ الٹنے اور ملک میں مارشل لا چاہتے ہیں لیکن میں ایسے لوگوں کے لئے دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ انہیں عقل دے۔ انہوں نے کہا کہ 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اور گلو بٹ نے جس طرح پولیس کے ساتھ گنڈا گردی کی یہ سب جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ غلط کو غلط کہتا ہوں اوراس پر کسی بھی الزام کی پرواہ نہیں، موجودہ صورتحال میں کور کمانڈرز کانفرنس کی دعوت کوئی میں نے نہیں دی بلکہ اس کی ذمہ دار خود حکومت ہے،قومی اسمبلی میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے جھوٹ بولا اور فوج کی ساکھ کو خراب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انسانوں کی جان ومال کا تحفظ کرنے والا کوئی نہ ہو،معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کیا جارہا ہے جبکہ صحافیوں کو بھی گاڑیوں سے اتار کر بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہو تو اس عمل کو بھلا کون رکوا سکتا ہے۔

قائد ایم کیوایم کا کہنا تھا کہ جب جمہوری حکومت ہی آمرانہ طرز حکومت اختیار کرلے تو ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے، آج کورکمانڈرز کا اجلاس اسی لیے ہوا کہ ملک میں لوگ مررہے ہیں، معیشت کو اربوں کو نقصان ہوچکا ہے اور نہ جانے کتنے دن تک آگ وخون کا بازار گرم رہے گا۔ الطاف حسین نے کہا کہ میں مسلسل کہتا رہاکہ بات چیت کی جائے،وزیراعظم کو خود طاہرالقادری اورعمران خان کے کنٹینر میں جانا چاہئے تھے،پارلیمنٹ میں ان ہاؤس تبدیلی کی جاتی اور نوازشریف تحقیقات کے بعد پھر وزیراعظم بن جاتے لیکن حکومت نے کوئی اصولی بات نہیں مانی بلکہ انصاف دینے میں بھی تاخیر کی گئی۔

الطاف حسین نے کہا کہ فوج کو بلا وجہ درمیان میں دھکیلا گیا اور آرمی چیف سمیت پورے ادارے پر الزام لگا کر اسے بدنام کیا گیا لیکن فوج کا کام صرف سرحد پر حفاظت کرنا نہیں بلکہ پاکستانیوں کی جان ومال اور اہم تنصیبات کی حفاظت کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں اور ملک میں کبھی مارشل لا نہیں چاہتے اب بھی وقت ہے وزیراعظم خود چل کر عمران خان اور طاہرالقادری کے پاس جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل نہیں ہوجاتے ورنہ پھر نہ چاہتے ہوئے بھی کسی کو ایکشن لینا پڑا تو اس کا الزام مجھ پر نہ لگایا جائے۔


Category: انگلستان
Published on 27 August 2014

حکومت کو سوچنا چاہئے ظلم اور جبر سے حکومتیں نہیں چلائی جاسکتیں، الطاف حسین

لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے مطالبات جائز ہیں، حکومت کو سوچنا چاہیئے کہ ظلم اور جبر سے حکومتیں نہیں چلائی جاسکتیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق الطاف حسین کا کہنا تھا کہ 15 روز سے اسلام آباد میں مذاق ہورہا ہے، حکومت کو کھلے آسمان تلے بیٹھے لوگوں کا خیال کرنا چاہیئے، میرے لئے عظیم وہ ہے جو غریب کی بات کرے، حکومت اب جائز مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں تو کیا کرسکتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ سانحہ لاہور کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی۔ حکومت کو معاملے پر توجہ دینا چاہیے تھی۔ کوئی وینٹی لیٹر خوشی سے لگاتا ہے نہ مارشل لا، سانحہ لاہور میں 17 جون کو 15 افراد ماردیے گئے، مارے جانے والے جیتے جاگتے انسان تھے کوئی کیڑے مکوڑے نہیں، ملک کی خاطر غنڈوں کو کاٹ دینا چاہیے۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ مجھے صدر یا وزیر اعظم بننے کا شوق نہیں، لوکل باڈیز سسٹم کے تحت اقتدار کی منتقلی کی جائے، ہمارا ملک 4 صوبوں پر چلاآرہا ہے، انتظامی یونٹس بنائے جائیں۔