دینی و انقلابی اصلاحات کیلئے اہل فکر یکجا ہو جائیں، چودھری شجاعت

اسلام آباد (جذبہ نیوز) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم سینیٹر چودھری شجاعت حسین اور سینئر مرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ دینی و انقلابی اصلاحات کیلئے اہل فکر یکجا ہو جائیں، اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے، حکومت کو عوامی فلاح کا کوئی خیال نہیں، 1122 کے فنڈز بھی جنگلہ بس پر لگا دئیے گئے جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری جنہوں نے کہا ہے کہ چودھری شجاعت حسین واحد شخصیت ہیں جن پر کسی کو اعتراض نہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار دونوں جماعتوں کے قائدین کی ملاقات میں کیا گیا۔ چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی کی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور علامہ ناصر شیرازی سے ملاقات میں پاکستان مسلم لیگ کے سینئر صوبائی سینئر نائب صدر راجہ بشارت اور ضلعی صدر راولپنڈی راجہ ناصر ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے علامہ ناصر عباس جعفری کو 10 نکاتی ایجنڈا پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات سے نکالنے کیلئے اس وقت تمام اہل فکر شخصیات کو یکجا ہونا ہو گا۔ جمہوریت کی اصل روح کو حکمرانوں نے دبا دیا ہے، اس وقت ملک میں دینی اصلاحات کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے، آئین میں بھی کہا گیا ہے کہ اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہو، اس سلسلہ میں اصلاحات کیلئے حکومت نے کمیٹی بنائی ہے، مگر اس وقت اصلاحات کی نہیں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرف نے پہلے یا بعد ملک سے باہر جانا ہی جانا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے چودھری شجاعت حسین کو 10 نکاتی ایجنڈے پر حمایت حاصل کرنے کی جو ذمہ داری سونپی ہے اس سلسلے میں آج ہم مجلس وحدت المسلمین کے پاس آئے ہیں، دیگر جماعتوں و شخصیات سے بھی رابطے جاری ہیں، ملک اور عام آدمی کی بہتری کیلئے یہ ایجنڈا پیش کیا گیا ہے، موجودہ حکومت نے پنجاب میں 6سال اور دو بار پہلے پورے ملک میں حکومت کی مگر پاکستان کی غریب آدمی کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کیا، ہم ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جو عام آدمی کی فلاح کیلئے ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یو ٹرن لینے والے حکومتی وزراء کی سوچ و عقل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ایک ماہ بعد خیال آتا ہے کہ فوج کے متعلق ان کا بیان غلط تھا، حکومت کے فرائض میں امن و امان بحال کرنا بھی شامل ہے، دہشت گردی سمیت جرائم میں 200 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہم نے اپنے دور میں دہشت گردی کو نہ صرف کنٹرول کیا بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اسی لیے ورلڈ بینک نے ہمارے تعلیمی نظام کی بھی تعریف کی تھی، ہمارے شروع کیے ہوئے 1122 کے منصوبے کیلئے حکومت نئی گاڑیاں نہیں خرید رہی نہ ہی ان گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کیلئے فنڈز جاری کر رہی ہے، پنجاب حکومت نے سارا فنڈ جنگلہ بس سروس پر لگا دیا ہے اب پنڈی والے بھی نحوست کا سامنا کریں گے، کیا جنگلہ بس سروس ہی عوام کا مسئلہ رہ گیا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مسلم لیگی قائدین نے چودھری برادران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چودھری شجاعت حسین نہایت سمجھدار ہیں اور دانشمندانہ فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے ہر معاملہ میں قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل تشیع کو اہل سنت سے رابطے بڑھانے میں کبھی کوئی اعتراض نہیں رہا، موجودہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی خراب سے خراب تر ہے اس لیے ایسے نظام کی ضرورت ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکالے۔# 
یہ خبر آپ ہماری ویب سائٹ www.pmlmediacell.com سے بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔