پناہ گزینوں کی حمایت میں یورپی ممالک میں مظاہرے

یورپ کے متعدد ممالک میں ہزاروں افراد نے شام اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جنگ اور خانہ جنگی سے متاثرہ شام اور دیگر ممالک کے پناہ گزینوں کی حمایت میں یورپ کے مختلف ممالک میں ریلیاں نکالی گئیں۔ پناہ گزین کے حق میں نکالی جانے والی ریلیوں میں ہزاروں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر سرحدیں کھول دو اور پناہ گزینوں کو آنے دو تحریر تھا۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں سیکڑوں افراد پناہ گزینوں کی حمایت میں پارلیمانی عمارت کے سامنے جمع ہوئے جب کہ جرمنی کے شہر میونخ میں بھی ہزاروں افراد نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس ہفتے کے اختتام تک جرمنی میں 40 ہزار پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے جب کہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت کو درست قرار دیا۔

برطانوی دارالحکومت لندن میں بھی ہزاروں افراد نے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی طرف مارچ کیا۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ 5 سالوں میں 20 ہزارپناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دے گا۔ اسی طرح سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بھی مظاہرین نے پناہ گزینوں کی مزید امداد کی درخواست کی۔

دوسری جانب پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہزاروں افراد نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے خلاف مظاہرہ کیا، پولینڈ کی حکومت یورپی یونین کی طرف سے پناہ گزینوں کے لیے مقرر کردہ کوٹے کی مخالفت کر چکی ہے تاہم سیکڑوں افراد نے پولینڈ میں بھی پناہ گزینوں کے حق میں ریلی نکالی گئی۔