تاش کے ہزاروں پتوں سے بنے گلدان اورمرتبان

بیجنگ: 

چین کے روایتی گلدان اور مرتبان ہزاروں سال سے دنیا بھر میں مقبول ہیں لیکن اب ایک فن کار نے تاش کے پتوں سے خوبصورت روایتی گلدان تیار کئے ہیں جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔

 

65 سالہ زینگ کیہوا ضرورت کے تحت تاش کے پتوں کو موڑتے ہیں اور انہیں ایک صورت دے کر دیدہ زیب گلدان بناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پر روایتی دیدہ زیب کشیدہ کاری اور ڈیزائن بھی پلاسٹک کے پتوں سے بنائی جاتی ہے۔ یہ گلدان اور مرتبان اتنے حقیقی لگتے ہیں کہ لوگ اس بات کا یقین ہی نہیں کر پاتے۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

زینگ پہلے معمار تھے اور عمارت سازی کا کام کرتے تھے لیکن اب ریٹائر ہو گئے ہیں اور گلدان سازی کا کام کرتے ہیں۔ وہ پورسلین سے بنے نیلے اور سفید پتوں کو مختلف اشکال دے کر گلدستے کو مختلف روپ دیتے ہیں۔ چند سال پہلے انہوں نے سڑک کنارے بچوں کو پلاسٹک کے پتوں کو تکونے انداز میں موڑ کر مختلف چیزیں بناتے دیکھا۔ ان کے ذہن میں خیال آیا کہ اس طرح سے کئی چیزیں بھی بنائی جا سکتی ہیں اور پہلے ان کے ذہن میں روایتی چینی گلدان بنانے کا خیال آیا اور انہوں نے اس پر کام شروع کر دیا۔

اس کے بعد مہینوں تک انہوں نے گلدان بنانے کی ناکام کوشش کی لیکن آخر کار انہوں نے تاش کے پتوں سے پہلا گلدان بنا ہی لیا۔ اس کے بعد مزید گلدان اور مرتبان تیار کئے گئے جو عین روایتی چینی ظروف کے مطابق تھے۔ ان پر چوکور اور تکونے ڈیزائن کاڑھے گئے جو مزید خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد چینی اژدہے اور دیگر اجسام بھی بنائے گئے۔

پہلے انہوں نے 106 میٹر بلند گلدان بنایا اور اس میں تاش کے 5000 پتے استعمال ہوئے اور اسے بنانے میں دو ہفتے لگے۔