افغانستان کو امریکی امداد ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے مشروط کرنے کی تجویز

 واشنگٹن: 

امریکا میں اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے کہ افغانستان کو دی جانے والی امریکی امداد کو کابل کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیے جانے سے مشروط کر دیا جائے۔

 

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی رکن کانگریس بریڈ شیرمین نے خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ افغانستان کو اس شرط پر امداد جاری کی جائے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے والی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس ہوا جس میں جنوبی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے موضوع پر بحث ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے خلاف سخت موقف رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن کانگریس بریڈ شیرمین نے کہا کہ افغان حکومت کو چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو افغانستان اور پاکستان کے درمیان 2430 کلو میٹر طویل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرے۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

بریڈ شیرمین نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو افغان حکومت تسلیم نہیں کرتی اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی امداد کو اس سے مشروط کیا جائے۔ شیرمین نے مزید کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک افغانستان کے ذہن میں یہ بات رہے گی کہ پاکستانی سرزمین پر اس کا حق ہے تب تک پاکستان کو آمادہ کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ طالبان کو قابو کرنے میں پاکستان کو بھی شامل کیا جائے۔

اجلاس میں جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی اسسٹنٹ سیکرٹری ایلس ویلز اور یو ایس ایڈ کی قائم مقام اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر بیورو  گلوریہ اسٹیلی بھی موجود تھیں تاہم انہوں نے اس تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ ایلس ویلز نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے سیکیورٹی خدشات جائز ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے استحکام کے لیے تعمیری اقتصادی سرمایہ کاری ہو۔

خیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن 1896 میں کھینچی گئی تھی اور اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحد کا درجہ حاصل ہے لیکن افغانستان مکمل طور پر اس سرحد کو تسلیم نہیں کرتا اور اس معاملے میں بھارت افغانستان کی حمایت کرتا ہے۔