(پاکستان ایک نظر میں) - پٹ انگریزی تھانے اپنی دھرتی آپ وسا

سندھو دریا کے کچے کی تحصیل کوٹ ادو کی سر سبز اورسونا اگلنے والی سر زمین سے تعلق رکھنے والےسر ائیکی زبان میں صو فیا نہ کلا م کو ایک لا زوال شہرت دینے والیے اور اپنی دھرتی کے سچے عاشق پٹھا نے خان نے اپنی دلکش آواز میں خواجہ غلام فر ید کی قلم سے لکھی ہوئی کافی ’’پٹ انگر یزی تھا نے آپنی دھر تی آپ وسا‘‘ گا کر کئی عشر ے پہلے اپنے وقت کے ارباب اختیار کو آگاہ کر دیا تھا کہ اب وقت آگیاہے کہ انگریز کی غلا می کے دور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی پو لیس کو ختم کر کے کوئی ایسا صاف و شفاف نظام لایا جائے جس سے اپنی دھر تی کو ہم خود ہی بسائیں تو شائد قتل و غارت گری، ڈکیتی، چوری اور رہزنی جیسی واردتو ں سے چھٹکارا ملے اور لو گ پہلے کی طر ح رات کوبھی چاند کی روشنی میں سفر کر سکیں۔

پٹھا نے خان بھی اسی سر زمین کاباسی تھا جو مختاراں مائی کا وطن ہے اورجہاں آجکل آمنہ دفن ہے، جی ہاں کچھ ہفتے پہلے مظفر گڑھ میں حوا کی ایک بیٹی آمنہ نے پولیس کے فراہم کردہ انصا ف سے مایوس ہوکر پولیس تھا نے کے باہرہی خود کواگ لگا کر موت کو گلے لگا لیا تھا کیونکہ اسے یقین ہو گیا تھا کہ سرخ وسفید رنگ کی چو نے اور پتھر کی بنی بے رحم عمارت سے کبھی انصا ف نہیں ملے گا اورافسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کی موت کو نظام کے منہ پرطمانچہ قرار دینے والے خود اس نظام کے پچھلے کئی عشروں سے وارث ہیں۔

ہے کوئی مائی کالعل جو پوچھ سکے کہ مٹ جائے گی مخلوق خدا تو کیا پھر انصا ف کرو گے۔ یاد ماضی کے عذاب کو چھوڑئیے یہ تو بہت پرانی بات نہیں کہ جب ہماری مستعد پو لیس نے نو ماہ کے بچے کو بھی قاتلانہ حملے کا ملزم بنا دیا ہے۔ اس نو ماہ کے کریمنل پر الزام ہے کہ اس نے چند لو گوں کے ساتھ ملکر پو لیس پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی۔ جی ہاں یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ اور کہیں نہیں پاکستان کے سب سے بڑ ے صوبے پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں دیکھنے میں آیا ۔

جب بھی کو ئی سیا سی جماعت بر سراقتدارآتی ہے تو اس کے منشور میں درج ہوتاہے کہ وہ اقتدار میں آکر ملک میں سب سے پہلے تھانہ کلچر ختم کردے گی اور جب حکومت جانے لگتی ہے تو دعویٰ کرتی ہے کہ سو فیصد نہیں تو اسی فیصد منشورپرعمل ہو گیاہے۔ پچھلے دنوں لاہور ہی میں میٹرک اور فرسٹ ائیر کے چار طالبعلمو ں کو پو لیس نے گھر کی چادراور چاردیواروں کو اپنے بوٹوں کے نیچے روندتے ہو ئے گرفتار کرکے نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا پھرایک ہفتے بعد مجسٹر یٹ کے سامنے پیش کرنے سے تھوڑی دیر پہلے پچھلی تاریخو ں میں درج نامعلوم افراد کے خلا ف ڈکیتی کے مقدما ت میں ان کا نام ڈال دیااللہ اللہ خیر سلاء۔

ہمارے ملک میں قانون بنانا دنیا کے آسان کاموں میں سے ایک کام ہے اور اُس پر عمل کرنا مشکل ترین کام ہے۔اگرآپ پو لیس آرڈر 2002 کا دوسرا باب پڑھیں تو حیران ہو جائیں کہ جو پو لیس کے فرائض اور ذمہ داری کے بارے میں ہے۔  اس باب کے پہلے اور پولیس آرڈر کی تیسر ی دفعہ جس میں پولیس افسران کوعوام الناس سے سلو ک کے بارے میں چند ضروری باتیں تاکید کی گئی ہیں۔ سب سے پہلی شق کچھ  یوں ہے کہ عام لوگو ں سے ادب و آداب، سلیقے اور خوش اخلاقی سے سے پیش آئیں بالکل اسی طرح دوسری شق میں شہریو ں کے ساتھ اخلا ص، اتفاق اور رفاقت کو بڑھانے کی تاکید کی گئی ہیں اس کے علا وہ اور بھی اسی طر ح کی مزید کئی شقیں ہیں جن میں بھی بہت کچھ لکھا ہوا ہے کاش  کہ اس قا نون پر عملدرآمد ہوتا تو آج ہم بھی دنیا کی مہذب ترین ریاستوں میں سے ایک ریاست ہوتے۔ لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے اورعملی طور پر پورے ملک میں پو لیس کا ادارہ ایک خوف کی علامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

آج بھی پو لیس کی گاڑی دیکھ کر وطن عزیز کے سچے لو گ اپنے کچے گھر وں کے دروازے بند کرکے مٹی اور لکڑی کے بنے کمزور کمروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیو نکہ پولیس کی وردی پہنے ہوئےعام سپاہی ہو یا اعلی افسر، یہ سب اپنے آپ کو زمین کے خدا سمجھتے ہیں۔ یہ بھی کوئی پرانی بات نہیں کہ جب سندھ ہائیکورٹ نے سکھر کے ایک ایس ایچ او کو ہتھکڑی لگا کرعدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا کیونکہ موصوف خود پچیس سے زائد مقدما ت میں مطلوب ہیں ۔

آج کی دنیا مہذب ریاستوں کی دنیا جانی جاتی ہے نہ کہ پو لیس ریا ست کی، تواب اس بات کا فیصلہ بھی پچھلی صد ی میں ہوئی مردم شماری کے اعداد و شمار کے اندازوں کے مطابق ساڑھے سترہ کروڑ عوام کریں گے۔ کیا ہم پولیس اسٹیٹ ہیں یا دنیا کی ایک مہذب ریا ست۔ گڈگورننس کے دعویداروں سے کون پوچھے گا کہ دنیا کا کو نسا قانون پولیس کو اجازت دیتا ہے کہ اگر آپ ملزم کو پکڑنے میں ناکام ہوگئے تو ملزم کے خاند ان کے دوسرے افراد کو اٹھا کر تھانے میں بند کر دیں اور پھر کئی دن انہیں خلاف قانون تھانوں میں رکھ کر ان پر تشدد کریں اور پھر پیسے لیکر چھوڑ دیں۔ اگر ضابطہ فوجداری کے دفعہ 491اورآئین پاکستان کا آرٹیکل 199 نہ ہوتے توموجودہ صورت حال میں پاکستان میں ہر دوسرے شخص کا شمارلاپتہ افراد میں ہوتا اور پھران کی بازیابی کے لیے شائد کسی لانگ مارچ کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔

Read 3314 times