Published on 12 September 2017

اقوام متحدہ کی بھارت میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر کڑی تنقید

جنیوا: 

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ نے روہنگیا مسلمانوں سے ناروا سلوک سمیت انسانی حقوق کی خراب صورتحال پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید ابن رعد حسین نے بھارت میں مویشیوں کے مسلمان تاجروں پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گائے کے تحفظ کا بہانہ بنا کر ہجوم کے ہاتھوں معصوم لوگوں کی ہلاکت کی نئی قاتلانہ لہر پر شدید تشویش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے خلاف برسرپیکار خاتون صحافی قتل

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے حال ہی میں قتل ہونے والی مودی مخالف صحافی گوری لنکیش کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

 

زید ابن رعد حسین نے بھارت کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے کس و لاچار انسانوں کو ایسے وقت واپس میانمار بھیجا جا رہا ہے جب وہاں ان کے خلاف تشدد کی لہر چل رہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے پناہ گزیں روہنگیا مسلمانوں کو واپس میانمار بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔


Published on 10 September 2017

تاش کے ہزاروں پتوں سے بنے گلدان اورمرتبان

بیجنگ: 

چین کے روایتی گلدان اور مرتبان ہزاروں سال سے دنیا بھر میں مقبول ہیں لیکن اب ایک فن کار نے تاش کے پتوں سے خوبصورت روایتی گلدان تیار کئے ہیں جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔

 

65 سالہ زینگ کیہوا ضرورت کے تحت تاش کے پتوں کو موڑتے ہیں اور انہیں ایک صورت دے کر دیدہ زیب گلدان بناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پر روایتی دیدہ زیب کشیدہ کاری اور ڈیزائن بھی پلاسٹک کے پتوں سے بنائی جاتی ہے۔ یہ گلدان اور مرتبان اتنے حقیقی لگتے ہیں کہ لوگ اس بات کا یقین ہی نہیں کر پاتے۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

زینگ پہلے معمار تھے اور عمارت سازی کا کام کرتے تھے لیکن اب ریٹائر ہو گئے ہیں اور گلدان سازی کا کام کرتے ہیں۔ وہ پورسلین سے بنے نیلے اور سفید پتوں کو مختلف اشکال دے کر گلدستے کو مختلف روپ دیتے ہیں۔ چند سال پہلے انہوں نے سڑک کنارے بچوں کو پلاسٹک کے پتوں کو تکونے انداز میں موڑ کر مختلف چیزیں بناتے دیکھا۔ ان کے ذہن میں خیال آیا کہ اس طرح سے کئی چیزیں بھی بنائی جا سکتی ہیں اور پہلے ان کے ذہن میں روایتی چینی گلدان بنانے کا خیال آیا اور انہوں نے اس پر کام شروع کر دیا۔

اس کے بعد مہینوں تک انہوں نے گلدان بنانے کی ناکام کوشش کی لیکن آخر کار انہوں نے تاش کے پتوں سے پہلا گلدان بنا ہی لیا۔ اس کے بعد مزید گلدان اور مرتبان تیار کئے گئے جو عین روایتی چینی ظروف کے مطابق تھے۔ ان پر چوکور اور تکونے ڈیزائن کاڑھے گئے جو مزید خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد چینی اژدہے اور دیگر اجسام بھی بنائے گئے۔

پہلے انہوں نے 106 میٹر بلند گلدان بنایا اور اس میں تاش کے 5000 پتے استعمال ہوئے اور اسے بنانے میں دو ہفتے لگے۔


Published on 10 September 2017

افغانستان کو امریکی امداد ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے مشروط کرنے کی تجویز

 واشنگٹن: 

امریکا میں اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے کہ افغانستان کو دی جانے والی امریکی امداد کو کابل کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیے جانے سے مشروط کر دیا جائے۔

 

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی رکن کانگریس بریڈ شیرمین نے خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ افغانستان کو اس شرط پر امداد جاری کی جائے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے والی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس ہوا جس میں جنوبی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے موضوع پر بحث ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے خلاف سخت موقف رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن کانگریس بریڈ شیرمین نے کہا کہ افغان حکومت کو چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو افغانستان اور پاکستان کے درمیان 2430 کلو میٹر طویل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرے۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

بریڈ شیرمین نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو افغان حکومت تسلیم نہیں کرتی اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی امداد کو اس سے مشروط کیا جائے۔ شیرمین نے مزید کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک افغانستان کے ذہن میں یہ بات رہے گی کہ پاکستانی سرزمین پر اس کا حق ہے تب تک پاکستان کو آمادہ کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ طالبان کو قابو کرنے میں پاکستان کو بھی شامل کیا جائے۔

اجلاس میں جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی اسسٹنٹ سیکرٹری ایلس ویلز اور یو ایس ایڈ کی قائم مقام اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر بیورو  گلوریہ اسٹیلی بھی موجود تھیں تاہم انہوں نے اس تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ ایلس ویلز نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے سیکیورٹی خدشات جائز ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے استحکام کے لیے تعمیری اقتصادی سرمایہ کاری ہو۔

خیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن 1896 میں کھینچی گئی تھی اور اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحد کا درجہ حاصل ہے لیکن افغانستان مکمل طور پر اس سرحد کو تسلیم نہیں کرتا اور اس معاملے میں بھارت افغانستان کی حمایت کرتا ہے۔

Published on 27 August 2017

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے گائے لے جانے والے دو مسلمانوں کو قتل کردیا

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں انتہا پسند ہندوؤں نے گائے لے جانے والے دو مسلمانوں کو تشدد کرکے قتل کردیا۔

 

بھارتی میڈیا کے مطابق مغربی بنگال کے ضلع جلپائی گوری میں انتہا پسند ہندوؤں نے ایک وین کو روکا جس میں 7 گائیں موجود تھیں ۔ حملہ آوروں نے تشدد کرکے وین میں سوار دونوں افراد کو قتل کردیا جن کی شناخت 19 سالہ انور حسین اور 19 سالہ حافظ شیخ کے نام سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں گائے کے پجاریوں کے ہاتھوں ایک اور مسلم نوجوان قتل

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

پولیس کے مطابق دونوں نوجوان مویشی تاجر تھے۔ پولیس نے نوجوانوں کا پوسٹ مارٹم کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جب کہ تاحال قتل میں ملوث کسی مجرم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

Published on 27 August 2017

عراقی فورسز نے داعش کو پسپا کرکے تلعفر کا کنٹرول حاصل کرلیا

بغداد: 

عراقی فورسز نے ایک ہفتے کے آپریشن کے بعد داعش کو پسپا کرکے تلعفر شہر کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔

 

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی افواج نے داعش سے آخری عراقی شہر تلعفر کا کنٹرول بھی چھڑا لیا ہے۔ عراقی فوج کے کمانڈر جنرل عبدالعامر نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی یونٹس نے تلعفر کے مرکزی حصے پر قبضہ کرکے عثمانیہ دور کے قلعے اور بساتین کے علاقے پر قومی پرچم لہرا دیا ہے۔

داعش کے خلاف آپریشن کرنے والی امریکی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے مطابق اب عراقی افواج تلعفر کے 94 فیصد حصے اور 29 میں سے 27 علاقوں پر قابض ہوچکی ہیں۔ کمانڈر جنرل عبدالعامر نے بتایا کہ تلعفر کے نواحی علاقوں میں تاحال جھڑپیں جاری ہیں اور فورسز داعش کے زیر قبضہ چند ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

عراقی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ اتوار کو تلعفر پر دوبارہ کنٹرول کے لیے آپریشن شروع کیا تھا جس میں انھیں امریکی اتحاد کی فضائی مدد حاصل رہی اور اتحادی طیاروں کی بمباری سے زمینی فورسز کو پیش قدمی میں مدد ملی۔ آپریشن کی وجہ  سے تلعفر سے ہزاروں شہریوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ داعش نے اس شہر پر 2014ء سے قبضہ کررکھا تھا۔

تلعفر میں شکست کے نتیجے میں داعش کے ہاتھ سے عراق کے آخری شہر کا کنٹرول بھی نکل گیا ہے، تاہم اس کے جنگجو صوبہ الانبار میں تاحال موجود ہیں اور ان کا شام کی سرحد کے ساتھ واقع بیشتر علاقوں پر کنٹرول ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے جولائی میں موصل کی فتح بھی اعلان کیا تھا۔

 
Published on 19 August 2017

شہد کی مکھیوں کی رائل جیلی زخم کو تیزی سے بھرنے میں معاون

سلوواکیہ: 

ہزاروں سال سے استعمال کئے جانے والے شہد کے اب بھی وہ خواص سامنے آرہے ہیں جو ہمیں حیران کر دینے کے لیے کافی ہیں۔ اب سائنسدانوں نے کہا ہے کہ شہد کی مکھیوں کی جانب سے بنائی جانے والی رائل جیلی زخموں کو مندمل کرنے اور جلد کے نئے خلیات پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

 

سلواکیہ میں واقع سلوواک اکادمی برائے سائنس کے ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا میں زخم کا بہترین مرہم شہد کے چھتے میں پہلے سے رائل جیلی کی صورت میں موجود ہے۔ شہد بنانے والی مزدور مکھیاں یہ جیلی تھوکتی ہیں جسے مکھی کا ہر کیڑا (لاروا) غذائیت کے لیے کھاتا ہے۔ جب ملکہ مکھی کمزور یا بیمار ہو کر موت کے قریب ہوتی ہے تو مزدور مکھیاں متعدد لاروا کو یہ جیلی کھلاتی ہیں تاکہ ان میں سے کسی ایک ملکہ مکھی کو تندرست اور طاقتور بنایا جائے۔ رائل جیلی اب بازاروں میں عام ملتی ہے۔

سلوواک اکیڈمی کے ماہرین نے کہا ہے کہ رائل جیلی کئی طرح کے جلدی خلیات کو قریب لا کر زخم بند کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ رائل جیلی کے سالمات (مالیکیول) ایک طرح کے پیپٹائیڈ ڈیفنسین ون کو تحریک دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک اینزائم ایم ایم پی نائن کی پیداوار شروع ہو جاتی ہے جو جلد کی پرت کو تیزی سے بڑھا کر زخم کو مندمل کرتی ہے۔

 

 

دوسری جانب خود شہد اور بالخصوص رائل جیلی میں بھی ڈیفنسین ون کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ ماہرین نے تجربہ گاہ میں زخمی چوہوں پرآزمایا ہے۔ جن زخموں پر رائل جیلی لگائی گئی تھی وہ دیگر طریقوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے مندمل ہوگئے۔

 

Published on 08 September 2017

تاریخِ اسلامی کا سب سے پہلا مینار؛ کب، کہاں اور کس نے بنوایا؟

الریاض: 

العربیہ ڈاٹ نیٹ پر شائع ہونے والی ایک تحریر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی تاریخ کا پہلا مینار خلیفہ دوم سیدنا فاروق اعظم (رضی اللہ عنہ) کے حکم پر آج سے 1400 سال قبل حالیہ الجوف کے علاقے دومۃ الجندل میں تعمیر کیا گیا جو آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

 

یہ مینار حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے بیت المقدس کے سفر پر روانہ ہوتے وقت تعمیر کروایا تھا جبکہ یہ اسلام کی اولین یادگاروں کے ساتھ ساتھ اس دور کے عرب فن تعمیر کا نادر نمونہ بھی ہے۔

مربع شکل کی بنیاد والے اس پتھریلے اور مخروطی مینار کی چوڑائی 9 مربع میٹر ہے جبکہ اس کا ہر ضلع تین میٹر لمبا ہے۔ اس کی بلندی 13 میٹر ہے جبکہ مینار اور اس سے متصل مسجد دومۃ الجندل کی تعمیر میں ’’الجندل‘‘ نامی پتھر استعمال کیے گئے ہیں جو قدرتی طور نہایت سخت ہوتے ہیں۔ مینار مجموعی طور پر پانچ سطحوں پر مشتمل ہے۔ طویل وقت گزرنے کے بعد اس مینار کے اندرونی پتھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہیں اس لیے آج اس مینار کے اندر سے اوپر چڑھنا مشکل ہے۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

سعودی ماہر آثار قدیمہ اور الجوف میں قومی ورثہ و سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل احمد بن عتیق القعید نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ 1404ھجری (1983 عیسوی) سے مسجد دومۃ الجندل اور اس سے ملحقہ مینار کو سعودی عرب کے قومی ورثے میں شامل کرلیا گیا ہے جس کے بعد سے مسجد کی صفائی اور مرمت کا کام زیادہ بہتر طریقے سے کیا جارہا ہے۔ اس مسجد میں آج بھی نماز ادا کی جاتی ہے۔

بتاتے چلیں کہ مسجد دومۃ الجندل کا شمار سعودی عرب کی قدیم ترین مساجد میں بھی ہوتا ہے۔

Published on 27 August 2017

بچے کی قابل اعتراض ویڈیو شیئرکرنے پررشی کپورکے خلاف مقدمہ درج

ممبئی: 

نامور بالی ووڈ اداکاررشی کپور کے خلاف چھوٹے بچے کی قابل اعتراض ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کرنے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

 

اداکاررشی کپورسوشل میڈیا پرکافی متحرک رہتے ہیں اوردوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اپنے بے باک موقف اورکھلم کھلا بیانات کی وجہ سے رشی کپورکوکئی بارمداحوں سے معافی بھی مانگنی پڑی ہے لیکن کچھ عرصے بعد وہ پھر سے اپنی پرانی روش پرآجاتے ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: رشی کپور کے خلاف درخت کاٹنے پر مقدمہ درج

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روزرشی کپور نے اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پرایک ویڈیو شیئر کی جس کے باعث وہ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئے ہیں، ویڈیو میں چھوٹے بچے کو ایک خواتین کے ساتھ نہایت بیہودہ مذاق کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ اداکار نے اس مذاق کو بچے کی ذہانت سے تشبیہ دی ہے، رشی کپور کی جانب سے مذاق کے طورپر شیئر کی گئی اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پرایک بار پھرہلچل مچادی ہے اور لوگوں کو حیرانی ہورہی ہے کہ اتنے سینئراورتجربہ کار اداکارکس طرح یہ ویڈیو اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کرسکتے ہیں۔

بھارتی این جی او’’جے ہو فاؤنڈیشن‘‘ کی چیئرمین افروز ملک  کی جانب سے چھوٹے بچے کی قابل اعتراض اور نازیبا ویڈیو شیئر کرنے کے خلاف فوراً مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی گئی ہے، ان کے نوٹس دلانے پر ممبئی کے علاقے باندرا کرلا کمپلیکس کے سائبر پولیس اسٹیشن میں چھوٹے بچے کی قابل اعتراض اور نازیبا ویڈیو شیئر کرنےکے خلاف شکایت درج کرلی گئی ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: تمام مذاہب کی عزت کرتا ہوں، رشی کپورنے پھر پینترا بدل لیا

شکایت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رشی کپور کے ٹوئٹر پر 2.6 ملین (تقریباً 20 لاکھ) سے زائد فالوورز ہیں، اس کا مطلب ہے یہ ویڈیو 2.6 ملین سے زائد لوگوں کے پاس چلی گئی جسے نہ صرف لوگوں نے دیکھا ہوگا بلکہ اس پر اپنے ردعمل کا اظہار بھی کیا ہوگا اور کسی چھوٹے بچے کی قابل اعتراض ویڈیو کا تمام لوگوں کے پاس گھومنا بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔

 
Published on 27 August 2017

فکر اور پریشانی سے نجات پانے کے تین آسان طریقے

لندن: 

ماہرِ نفسیات کے مطابق پریشان اور فکرمندی کی سوچ کو تین آسان طریقوں سے دور کیا جا سکتا ہے۔

 

پروفیسر ہانس نورڈال کے مطابق منفی سوچ کو وقت کا زیاں جان کر، حال پر توجہ دیتے ہوئے اور سوچ کو منتشر ہونے سے بچا کر آپ پریشان کن خیالات کو ذہن سے جھٹک سکتے ہیں اور یوں ایک پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔

ناروے کی جامعہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں رویہ جاتی ادویہ (بیہوریئل میڈیسن) کی ماہر پروفیسر ہانس کہتی ہیں کہ ہم اداسی، پریشان خیالی اور فکرمندی کو مسائل کے حل کی ایک راہ سمجھتے ہوئے بار بار ذہن میں لاتے ہیں لیکن اصل میں ہم خود پر تنقید کر کے منفی خیالات سے خود کو ہلکان کر رہے ہوتے ہیں۔

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

ان کا کہنا ہے کہ یہ اسی طرح ہے کہ کسی کے ہاتھ میں تھوڑی دیر تک گلاس ہو تو ٹھیک لیکن مسلسل دو گھنٹے تک گلاس تھامنا ہو تو یہ بہت بھاری اور تکلیف دہ ہو جاتا ہے اور اداسی اور پریشان کن خیالات بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جو طویل وقت کے لیے مسلسل ذہن میں ڈیرہ جما کر بھاری بھر کم ہو جاتے ہیں۔

اس فکرمندی اور اداس خیالات سے جان خلاصی کے تین طریقے یہ ہیں:

اسے وقت کا زیاں سمجھئے

اداس کرنے والےاور پریشان کن خیالات کو سب سے پہلے وقت اور توانائی ضائع کرنا والا سمجھئے۔ پریشان کن خیالات سے جان چھڑانا اتنا مشکل نہیں جتنا نظر آتا ہے لیکن اس سے قبل بعض باتوں کو سمجھنا ضروری ہو گا۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھئے کہ پریشانی اور اداس خیالی ایک طرح سے وقت اور توانائی ضائع کرنے والی وبا ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی فکر سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت ان منفی خیالات کو مسائل کے حل کی جانب ایک کوشش سمجھتی ہے لیکن وہ غلطی پر ہیں۔ بار بار منفی اور پریشان کن باتیں سوچنے سے آپ کا پورا مزاج منفی ہو جاتا ہے۔

اب جب بھی ایسے خیالات ذہن میں آئیں تو خود سے ایک سوال کیجئے کہ آخر اس سب کا فائدہ کیا ہے؟

ابھی اور اس جگہ پر توجہ رکھیں

پریشانی اور فکر کو چھوڑ کر اسی لمحے اور اسی جگہ پر توجہ دیجئے۔

پروفیسر ہانس کے مطابق مایوس کن فکروں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان واقعات پر غور کیجئے جو آپ کے اردگرد نمودار ہو رہے ہیں۔

جیسے ہی آپ حال میں جینے لگتے ہیں اور موجودہ واقعات کے لحاظ سے زندگی گزارتے ہیں آپ کی فکر مندی ازخود غائب ہو جاتی ہے۔ تاہم منفی خیالات بار بار حملہ کر سکتے ہیں لیکن انہیں وہیں چھوڑ دیں اور ہر لمحہ جینے کی کوشش کیجئے۔

خیالات کے انتشار سے بچیے

ان چیزوں سے بچیں جو آپ کے ذہن کو سکون میں نہیں آنے دیتیں اور اسے بھٹکاتی رہتی ہیں۔ پروفیسر ہانس کے مطابق کئی لوگ فکر سے بچنے کے لیے ٹی وی، گیمز اور منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ نفسیات کی زبان میں یہ بھٹکانے والی عارضی چیزیں ہیں اور ان کے سہارے دماغ کو طویل عرصے تک پرسکون نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کہ ہم اپنی حاجت اور خوشیوں کے لیے دوسرے لوگوں پر بھروسہ رکھیں۔

اس کے بجائے آپ مسلسل مشق کر کے منفی سوچوں کو کمزور سے کمزور کرتے جائیں اور حال میں مصروف رہ کر پریشان خیالی سے چھٹکارے کی کوشش کیجئے۔

 
Published on 20 July 2017

بھارت میں مسافر بس کھائی میں گرنے سے 28 افراد ہلاک

شملہ: 

بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں مسافر بس گہری کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق واقعہ ہماچل پردیش کے مشہور سیاحتی مقام شملہ سے 100 کلو میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ بس میں مجموعی طور پر 40 افراد سوار تھے جو ضلع کنور سے سولان کی جانب جا رہے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور ان کی شناخت کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں ہندو یاتریوں کی بس کھائی میں گرنے سے 16 افراد ہلاک

ADVERTISEMENT
 
 
 
 
Ad

 

ہلاک ہونے والوں میں 19 مرد اور 9 خواتین ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بس کا ٹائر پھٹنے کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہندو یاتریوں کی ایک بس کھائی میں جاگری تھی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں ٹریفک حادثات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ خراب سڑکوں، ناقص گاڑیوں اور ڈرائیونگ کے دوران لاپرواہی کی وجہ سے اوسطاً سال میں ڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔